Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں صرف کر ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا جرير، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، جميعا عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا اصحابي فوالذي نفسي بيده لو ان احدكم انفق مثل احد ذهبا ما ادرك مد احدهم ولا نصيفه
نسیر بن ذعلوق کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو، ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہارے ساری عمر کے عمل سے بہتر ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن نسير بن ذعلوق، قال كان ابن عمر يقول لا تسبوا اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فلمقام احدهم ساعة خير من عمل احدكم عمره
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے انصار سے محبت کی اس سے اللہ نے محبت کی، اور جس شخص نے انصار سے دشمنی کی اس سے اللہ نے دشمنی کی ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے عدی سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث خود براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھ ہی سے تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، عن شعبة، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب الانصار احبه الله ومن ابغض الانصار ابغضه الله " . قال شعبة قلت لعدي اسمعته من البراء بن عازب قال اياى حدث
سعد بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار «شعار» ہیں ۱؎، اور لوگ «دثار» ہیں ۲؎، اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصار کسی دوسری وادی میں جائیں تو میں انصار کی وادی میں جاؤں گا، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد المهيمن بن عباس بن سهل بن سعد، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الانصار شعار والناس دثار ولو ان الناس استقبلوا واديا - او شعبا - واستقبلت الانصار واديا لسلكت وادي الانصار ولولا الهجرة لكنت امرا من الانصار
عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ انصار پر، ان کے بیٹوں اور پوتوں پر رحم کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثني كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله الانصار وابناء الانصار وابناء ابناء الانصار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا، اور یہ دعا فرمائی: «اللهم علمه الحكمة وتأويل الكتاب» اے اللہ! اس کو میری سنت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطاء فرما ۔
حدثنا محمد بن المثنى، وابو بكر بن خلاد الباهلي قالا حدثنا عبد الوهاب، حدثنا خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال ضمني رسول الله صلى الله عليه وسلم اليه وقال " اللهم علمه الحكمة وتاويل الكتاب
عبیدہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا ذکر کیا، اور ذکر کرتے ہوئے کہا: ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ کا ہے ۱؎، اور اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ تم خوشی سے اترانے لگو گے تو میں تمہیں ضرور بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے ان کے قاتلین کے لیے کس ثواب اور انعام و اکرام کا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ کہا: ہاں، کعبہ کے رب کی قسم! ( ضرور سنی ہے ) ، اسے تین مرتبہ کہا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن عبيدة، عن علي بن ابي طالب، قال وذكر الخوارج فقال فيهم رجل مخدج اليد او مودن اليد او مثدن اليد ولولا ان تبطروا لحدثتكم بما وعد الله الذين يقتلونهم على لسان محمد صلى الله عليه وسلم . قلت انت سمعته من محمد صلى الله عليه وسلم قال اي ورب الكعبة . ثلاث مرات
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخیر زمانہ میں کچھ نوعمر، بیوقوف اور کم عقل لوگ ظہور پذیر ہوں گے، لوگوں کی سب سے اچھی ( دین کی ) باتوں کو کہیں گے، قرآن پڑھیں گے، لیکن ان کے حلق سے نہ اترے گا، وہ اسلام سے ویسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، تو جو انہیں پائے قتل کر دے، اس لیے کہ ان کا قتل قاتل کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعث اجر و ثواب ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعبد الله بن عامر بن زرارة، قالا حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخرج في اخر الزمان قوم احداث الاسنان سفهاء الاحلام يقولون من خير قول الناس يقرءون القران لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية فمن لقيهم فليقتلهم فان قتلهم اجر عند الله لمن قتلهم
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حروریہ ۱؎ ( خوارج ) کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو بڑی عبادت گزار ہو گی، اس کی نماز کے مقابلہ میں تم میں سے ہر ایک شخص اپنی نماز کو کمتر اور حقیر سمجھے گا ۲؎، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اپنا تیر لے کر اس کا پھل دیکھتا ہے، تو اسے ( خون وغیرہ ) کچھ بھی نظر نہیں آتا، پھر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اسے کچھ اثر دکھایا نہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، قال قلت لابي سعيد الخدري هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر في الحرورية شييا فقال سمعته يذكر قوما يتعبدون " يحقر احدكم صلاته مع صلاتهم وصومه مع صومهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية " . اخذ سهمه فنظر في نصله فلم ير شييا فنظر في رصافه فلم ير شييا فنظر في قدحه فلم ير شييا فنظر في القذذ فتمارى هل يرى شييا ام لا
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں ۱؎۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو غفاری کے بھائی رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن سليمان بن المغيرة، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بعدي من امتي - او سيكون بعدي من امتي - قوما يقرءون القران لا يجاوز حلوقهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ثم لا يعودون فيه هم شرار الخلق والخليقة " . قال عبد الله بن الصامت فذكرت ذلك لرافع بن عمرو اخي الحكم بن عمرو الغفاري فقال وانا ايضا قد سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ قرآن تو ضرور پڑھیں گے، مگر وہ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وسويد بن سعيد، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليقران القران ناس من امتي يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے، اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سے سونا، چاندی اور اموال غنیمت ( لوگوں میں ) تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک شخص نے کہا: اے محمد! عدل و انصاف کیجئیے، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا برا ہو، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟ ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجعرانة وهو يقسم التبر والغنايم وهو في حجر بلال فقال رجل اعدل يا محمد فانك لم تعدل . فقال " ويلك ومن يعدل بعدي اذا لم اعدل " . فقال عمر دعني يا رسول الله حتى اضرب عنق هذا المنافق . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذا في اصحاب - او اصيحاب - له يقرءون القران لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوارج جہنم کے کتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسحاق الازرق، عن الاعمش، عن ابن ابي اوفى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخوارج كلاب النار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بیسیوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا الاوزاعي، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ينشا نشء يقرءون القران لا يجاوز تراقيهم كلما خرج قرن قطع " . قال ابن عمر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كلما خرج قرن قطع " . اكثر من عشرين مرة " حتى يخرج في عراضهم الدجال
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ ( خلافت راشدہ کے اخیر ) میں یا اس امت میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے نرخرے یا حلق سے نیچے نہ اترے گا، ان کی نشانی سر منڈانا ہے، جب تم انہیں دیکھو یا ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو ۱؎۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخرج قوم في اخر الزمان - او في هذه الامة - يقرءون القران لا يجاوز تراقيهم - او حلقومهم سيماهم التحليق اذا رايتموهم - او اذا لقيتموهم - فاقتلوهم
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ خوارج سب سے بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں ( خوارج ) نے قتل کر دیا، یہ خوارج مسلمان تھے، پھر کافر ہو گئے ۱؎۔ ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي غالب، عن ابي امامة، يقول شر قتلى قتلوا تحت اديم السماء وخير قتلى من قتلوا كلاب اهل النار قد كان هولاء مسلمين فصاروا كفارا . قلت يا ابا امامة هذا شىء تقوله قال بل سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودہویں کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: عنقریب تم لوگ اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو رہی ہے، لہٰذا اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز سے پیچھے نہ رہو تو ایسا کرو ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» اپنے رب کی تسبیح و تحمید بیان کیجئے سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے ( سورة ق: 39 ) ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي ووكيع، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا خالي، يعلى ووكيع وابو معاوية قالوا حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله، قال كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فنظر الى القمر ليلة البدر فقال " انكم سترون ربكم كما ترون هذا القمر لا تضامون في رويته فان استطعتم ان لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وقبل غروبها فافعلوا " . ثم قرا {وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں مشقت ہوتی ہے ؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، فرمایا: اسی طرح قیامت کے دن تمہیں اپنے رب کی زیارت میں کوئی مشکل نہیں ہو گی
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يحيى بن عيسى الرملي، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تضامون في روية القمر ليلة البدر " . قالوا لا . قال " فكذلك لا تضامون في روية ربكم يوم القيامة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ٹھیک دوپہر میں سورج دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟ ، ہم نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟ ، ہم نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج و چاند کو دیکھنے کی طرح تم اپنے رب کے دیدار میں بھی ایک دوسرے سے مزاحمت نہیں کرو گے ۱؎۔
حدثنا محمد بن العلاء الهمداني، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن الاعمش، عن ابي صالح السمان، عن ابي سعيد، قال قلنا يا رسول الله انرى ربنا قال " تضامون في روية الشمس في الظهيرة في غير سحاب " . قلنا لا . قال " فتضارون في روية القمر ليلة البدر في غير سحاب " . قالوا لا . قال " انكم لا تضارون في رويته الا كما تضارون في رويتهما
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابورزین! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے؟ ، میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے، اور اس کی مخلوق میں یہ ( چاند ) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حماد بن سلمة، عن يعلى بن عطاء، عن وكيع بن حدس، عن عمه ابي رزين، قال قلت يا رسول الله اكلنا يرى الله يوم القيامة وما اية ذلك في خلقه قال " يا ابا رزين اليس كلكم يرى القمر مخليا به " . قال قلت بلى . قال " فالله اعظم وذلك ايته في خلقه