Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب اپنے بندوں کے مایوس ہونے سے ہنستا ہے جب کہ اللہ کی طرف سے ان کی حالت بدلنے کا وقت قریب ہوتا ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا رب ہنستا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، تو میں نے عرض کیا: تب تو ہم ایسے رب کے خیر سے ہرگز محروم نہ رہیں گے جو ہنستا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حماد بن سلمة، عن يعلى بن عطاء، عن وكيع بن حدس، عن عمه ابي رزين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ضحك ربنا من قنوط عباده وقرب غيره " . قال قلت يا رسول الله او يضحك الرب قال " نعم " . قلت لن نعدم من رب يضحك خيرا
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا رب اپنی مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بادل میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ اوپر ہوا تھی، اور نہ ہی وہاں کوئی مخلوق تھی، ( پھر پانی پیدا کیا ) اور اس کا عرش پانی پہ تھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حماد بن سلمة، عن يعلى بن عطاء، عن وكيع بن حدس، عن عمه ابي رزين، قال قلت يا رسول الله اين كان ربنا قبل ان يخلق خلقه قال " كان في عماء ما تحته هواء وما فوقه هواء ثم خلق العرش على الماء
صفوان بن محرز مازنی کہتے ہیں: اس اثناء میں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھے، اور وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے، اچانک ایک شخص سامنے آیا، اور اس نے کہا: ابن عمر! آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «نجویٰ» ( یعنی اللہ کا اپنے بندے سے قیامت کے دن سرگوشی کرنے ) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مومن اپنے رب سے قیامت کے دن قریب کیا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا، ( تاکہ اس سرگوشی سے دوسرے باخبر نہ ہو سکیں ) ، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا، اور فرمائے گا: کیا تم ( اس گناہ کو ) جانتے ہو؟ وہ بندہ کہے گا: اے رب! میں جانتا ہوں، یہاں تک کہ جب مومن اپنے جملہ گناہوں کا اقرار کر لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں ان گناہوں کی پردہ پوشی کی اور آج میں ان کو بخشتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے اس کی نیکیوں کا صحیفہ یا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہے کافر و منافق تو ان کو حاضرین کے سامنے پکارا جائے گا ( راوی خالد کہتے ہیں کہ «الأشهاد» میں کچھ انقطاع ہے ) : یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا، سن لو! اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر ( سورۃ ہود: ۱۸ ) ۱؎۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن صفوان بن محرز المازني، قال بينما نحن مع عبد الله بن عمر وهو يطوف بالبيت اذ عرض له رجل فقال يا ابن عمر كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر في النجوى قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يدنى المومن من ربه يوم القيامة حتى يضع عليه كنفه ثم يقرره بذنوبه فيقول هل تعرف فيقول يا رب اعرف . حتى اذا بلغ منه ما شاء الله ان يبلغ قال اني سترتها عليك في الدنيا وانا اغفرها لك اليوم . قال ثم يعطى صحيفة حسناته او كتابه بيمينه . قال واما الكافر او المنافق فينادى على رءوس الاشهاد " . قال خالد في " الاشهاد " . شىء من انقطاع . {هولاء الذين كذبوا على ربهم الا لعنة الله على الظالمين}
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: اے جنت والو! تم پر سلام ہو ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «سلام قولا من رب رحيم» ( سورة يس: 58 ) کا رحيم ( مہربان ) رب کی طرف سے ( اہل جنت کو ) سلام کہا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عاصم العباداني، حدثنا الفضل الرقاشي، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا اهل الجنة في نعيمهم اذ سطع لهم نور فرفعوا رءوسهم فاذا الرب قد اشرف عليهم من فوقهم فقال السلام عليكم يا اهل الجنة . قال وذلك قول الله {سلام قولا من رب رحيم} قال فينظر اليهم وينظرون اليه فلا يلتفتون الى شىء من النعيم ما داموا ينظرون اليه حتى يحتجب عنهم ويبقى نوره وبركته عليهم في ديارهم
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) بغیر کسی ترجمان کے ہم کلام ہو گا ۱؎، بندہ اپنی دائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو اپنے آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر بائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر اپنے آگے دیکھے گا تو جہنم اس کے سامنے ہو گی پس جو جہنم سے بچ سکتا ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کو اللہ کی راہ میں دے کر تو اس کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن خيثمة، عن عدي بن حاتم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما منكم من احد الا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان فينظر عن ايمن منه فلا يرى الا شييا قدمه ثم ينظر عن ايسر منه فلا يرى الا شييا قدمه ثم ينظر امامه فتستقبله النار فمن استطاع منكم ان يتقي النار ولو بشق تمرة فليفعل
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی جو دیدار سے مانع ہو گی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عبد الصمد عبد العزيز بن عبد الصمد، حدثنا ابو عمران الجوني، عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس الاشعري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جنتان من فضة انيتهما وما فيهما وجنتان من ذهب انيتهما وما فيهما وما بين القوم وبين ان ينظروا الى ربهم تبارك وتعالى الا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے نیکی ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے ( سورة يونس: 26 ) کی تلاوت فرمائی، اور اس کی تفسیر میں فرمایا: جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو منادی پکارے گا: جنت والو! اللہ کے پاس تمہارا ایک وعدہ ہے وہ اسے پورا کرنا چاہتا ہے، جنتی کہیں گے: وہ کیا وعدہ ہے؟ کیا اللہ نے ہمارے نیک اعمال کو وزنی نہیں کیا؟ ہمارے چہروں کو روشن اور تابناک نہیں کیا؟ ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے گا، لوگ اس کا دیدار کریں گے، اللہ کی قسم! اللہ کے عطیات میں سے کوئی بھی چیز ان کے نزدیک اس کے دیدار سے زیادہ محبوب اور ان کی نگاہ کو ٹھنڈی کرنے والی نہ ہو گی ۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد، حدثنا حجاج، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن صهيب، قال تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الاية {للذين احسنوا الحسنى وزيادة} وقال " اذا دخل اهل الجنة الجنة واهل النار النار نادى مناد يا اهل الجنة ان لكم عند الله موعدا يريد ان ينجزكموه . فيقولون وما هو الم يثقل الله موازيننا ويبيض وجوهنا ويدخلنا الجنة وينجنا من النار قال فيكشف الحجاب فينظرون اليه فوالله ما اعطاهم الله شييا احب اليهم من النظر اليه ولا اقر لاعينهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگی، میں گھر کے ایک گوشہ میں تھی اور اس کی باتوں کو سن نہیں پا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:«قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها» بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے جھگڑ رہی تھی ( سورة المجادلة: ۱ ) ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن تميم بن سلمة، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت الحمد لله الذي وسع سمعه الاصوات، لقد جاءت المجادلة الى النبي صلى الله عليه وسلم وانا في ناحية البيت تشكو زوجها وما اسمع ما تقول فانزل الله {قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ذمہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا صفوان بن عيسى، عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كتب ربكم على نفسه بيده قبل ان يخلق الخلق رحمتي سبقت غضبي
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام غزوہ احد کے دن قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا: جابر! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے کیا کہا ہے؟ ، ( اور یحییٰ بن حبیب راوی نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میں تمہیں کیوں شکستہ دل دیکھتا ہوں؟ ) ، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے گئے، اور اہل و عیال اور قرض چھوڑ گئے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے ملاقات کے وقت کہا؟ ، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر حجاب کے کلام نہیں کیا، لیکن تمہارے والد سے بغیر حجاب کے کلام کیا، اور فرمایا: میرے بندے! مجھ سے آرزو کر میں تجھے عطا کروں گا، اس پر انہوں نے کہا: میرے رب! میری آرزو یہ ہے کہ تو مجھے زندہ کر دے، اور میں تیری راہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: یہ بات تو پہلے ہی ہماری جانب سے لکھی جا چکی ہے کہ لوگ دنیا میں دوبارہ واپس نہیں لوٹائے جائیں گے ۱؎، انہوں نے کہا: میرے رب! ان لوگوں کو جو دنیا میں ہیں میرے احوال کی خبر دیدے ، انہوں نے کہا: اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس روزی پاتے ہیں ( سورة آل عمران: ۱۶۹ ) ۲؎۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، ويحيى بن حبيب بن عربي، قالا حدثنا موسى بن ابراهيم بن كثير الانصاري الحرامي، قال سمعت طلحة بن خراش، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول لما قتل عبد الله بن عمرو بن حرام يوم احد لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا جابر الا اخبرك ما قال الله لابيك " . وقال يحيى في حديثه فقال " يا جابر مالي اراك منكسرا " . قال قلت يا رسول الله استشهد ابي وترك عيالا ودينا . قال " افلا ابشرك بما لقي الله به اباك " . قال بلى يا رسول الله . قال " ما كلم الله احدا قط الا من وراء حجاب وكلم اباك كفاحا . فقال يا عبدي تمن على اعطك . قال يا رب تحييني فاقتل فيك ثانية . فقال الرب سبحانه انه سبق مني انهم اليها لا يرجعون . قال يا رب فابلغ من ورايي . قال فانزل الله تعالى {ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم يرزقون}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان دو افراد کے حال پر ہنستا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، اور دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے قاتل کو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیتا ہے، اور وہ اسلام قبول کر لیتا ہے، پھر اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يضحك الى رجلين يقتل احدهما الاخر كلاهما دخل الجنة يقاتل هذا في سبيل الله فيستشهد ثم يتوب الله على قاتله فيسلم فيقاتل في سبيل الله فيستشهد
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: اصل بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، ويونس بن عبد الاعلى، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، كان يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقبض الله الارض يوم القيامة ويطوي السماء بيمينه ثم يقول انا الملك اين ملوك الارض
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ مقام بطحاء میں تھا، اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے کہ بادل کا ایک ٹکڑا گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: تم لوگ اس کو کیا کہتے ہو؟ ، لوگوں نے کہا: «سحاب»، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مزن» بھی؟ ، انہوں نے کہا: جی ہاں، «مزن» بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عنان» بھی؟ ، لوگوں نے کہا: «عنان» بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ جانتے ہو؟ ، لوگوں نے کہا: ہم نہیں جانتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور اس کے درمیان اکہتر ( ۷۱ ) ، بہتر ( ۷۲ ) ، یا تہتر ( ۷۳ ) سال کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر آسمان کی بھی اتنی ہی مسافت ہے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سات آسمان شمار کیے، پھر فرمایا: ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی طرح ہیں، ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان ہے، پھر ان کی پیٹھ پر عرش ہیں، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے جو بڑی برکت والا، بلند تر ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا الوليد بن ابي ثور الهمداني، عن سماك، عن عبد الله بن عميرة، عن الاحنف بن قيس، عن العباس بن عبد المطلب، قال كنت بالبطحاء في عصابة وفيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فمرت به سحابة فنظر اليها فقال " ما تسمون هذه " . قالوا السحاب . قال " والمزن " . قالوا والمزن . قال " والعنان " . قال ابو بكر قالوا والعنان . قال " كم ترون بينكم وبين السماء " . قالوا لا ندري . قال " فان بينكم وبينها اما واحدا او اثنين او ثلاثا وسبعين سنة والسماء فوقها كذلك " . حتى عد سبع سماوات " ثم فوق السماء السابعة بحر بين اعلاه واسفله كما بين سماء الى سماء ثم فوق ذلك ثمانية اوعال بين اظلافهن وركبهن كما بين سماء الى سماء ثم على ظهورهن العرش بين اعلاه واسفله كما بين سماء الى سماء ثم الله فوق ذلك تبارك وتعالى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کی تابعداری میں بطور عاجزی اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، جس کی آواز کی کیفیت چکنے پتھر پر زنجیر مارنے کی سی ہوتی ہے، پس جب ان کے دلوں سے خوف دور کر دیا جاتا ہے تو وہ باہم ایک دوسرے سے کہتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ جواب دیتے ہیں: اس نے حق فرمایا، اور وہ بلند ذات والا اور بڑائی والا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چوری سے باتیں سننے والے ( شیاطین ) جو اوپر تلے رہتے ہیں اس کو سنتے ہیں، اوپر والا کوئی ایک بات سن لیتا ہے تو وہ اپنے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، بسا اوقات اس کو شعلہ اس سے پہلے ہی پا لیتا ہے کہ وہ اپنے نیچے والے تک پہنچائے، اور وہ کاہن ( نجومی ) یا ساحر ( جادوگر ) کی زبان پر ڈال دے، اور بسا اوقات وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ وہ نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے، پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملاتا ہے تو وہی ایک بات سچ ہوتی ہے جو آسمان سے سنی گئی تھی ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قضى الله امرا في السماء ضربت الملايكة اجنحتها خضعانا لقوله كانه سلسلة على صفوان فاذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم قالوا الحق وهو العلي الكبير قال فيسمعها مسترقو السمع بعضهم فوق بعض فيسمع الكلمة فيلقيها الى من تحته فربما ادركه الشهاب قبل ان يلقيها الى الذي تحته فيلقيها على لسان الكاهن او الساحر فربما لم يدرك حتى يلقيها فيكذب معها ماية كذبة فتصدق تلك الكلمة التي سمعت من السماء
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو اوپر نیچے کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس تک پہنچا دیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر اس کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیات ان ساری مخلوقات کو جہاں تک اس کی نظر پہنچے جلا دیں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن ابي عبيدة، عن ابي موسى، قال قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بخمس كلمات فقال " ان الله لا ينام ولا ينبغي له ان ينام يخفض القسط ويرفعه يرفع اليه عمل الليل قبل عمل النهار وعمل النهار قبل عمل الليل حجابه النور لو كشفه لاحرقت سبحات وجهه ما انتهى اليه بصره من خلقه
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نظر جائے ، پھر ابوعبیدہ نے آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «أن بورك من في النار ومن حولها وسبحان الله رب العالمين» کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ( سورة النمل: 8 ) ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا المسعودي، عن عمرو بن مرة، عن ابي عبيدة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله لا ينام ولا ينبغي له ان ينام يخفض القسط ويرفعه حجابه النور لو كشفها لاحرقت سبحات وجهه كل شىء ادركه بصره " . ثم قرا ابو عبيدة {ان بورك من في النار ومن حولها وسبحان الله رب العالمين}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن خرچ کرتا رہتا ہے پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے، وہ اسے پست و بالا کرتا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کرو کہ آسمان و زمین کی تخلیق ( پیدائش ) سے لے کر اس نے اب تک کتنا خرچ کیا ہو گا؟ لیکن جو کچھ اس کے دونوں ہاتھ میں ہے اس میں سے کچھ بھی نہ گھٹا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا محمد بن اسحاق، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يمين الله ملاى لا يغيضها شىء سحاء الليل والنهار وبيده الاخرى الميزان يرفع القسط ويخفضه قال ارايت ما انفق منذ خلق الله السموات والارض فانه لم ينقص مما في يديه شييا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: «جبار» ( اللہ تعالیٰ ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے باربار بند کرنے اور کھولنے لگے ) اور فرمائے گا: میں «جبار» ہوں، کہاں ہیں «جبار» اور کہاں ہیں تکبر ( گھمنڈ ) کرنے والے؟ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، حدثني ابي، عن عبيد الله بن مقسم، عن عبد الله بن عمر، انه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يقول " ياخذ الجبار سمواته وارضه بيده - وقبض بيده فجعل يقبضها ويبسطها - ثم يقول انا الجبار اين الجبارون اين المتكبرون " . قال ويتميل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن يمينه وعن يساره حتى نظرت الى المنبر يتحرك من اسفل شىء منه حتى اني اقول اساقط هو برسول الله صلى الله عليه وسلم
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر شخص کا دل اللہ تعالیٰ کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اسے حق پر قائم رکھے اور چاہے تو اسے حق سے منحرف کر دے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے: اے دلوں کے ثابت رکھنے والے! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اور ترازو رحمن کے ہاتھ میں ہے، کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ کو پست، قیامت تک ( ایسے ہی کرتا رہے گا ) ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا ابن جابر، قال سمعت بسر بن عبيد الله، يقول سمعت ابا ادريس الخولاني، يقول حدثني النواس بن سمعان الكلابي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من قلب الا بين اصبعين من اصابع الرحمن ان شاء اقامه وان شاء ازاغه " . وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يا مثبت القلوب ثبت قلوبنا على دينك " . قال " والميزان بيد الرحمن يرفع اقواما ويخفض اخرين الى يوم القيامة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تین طرح کے لوگوں کو دیکھ کر ہنستا ہے: ایک نماز میں نمازیوں کی صف، دوسرا وہ شخص جو رات کے درمیانی حصہ میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تیسرا وہ شخص جو جہاد کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لشکر کے پیچھے ، یعنی ان کے بھاگ جانے کے بعد۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا عبد الله بن اسماعيل، عن مجالد، عن ابي الوداك، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله ليضحك الى ثلاثة للصف في الصلاة وللرجل يصلي في جوف الليل وللرجل يقاتل - اراه قال - خلف الكتيبة