Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل ( گہرا دوست ) بنایا ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل ( گہرا دوست ) بنایا، چنانچہ میرا اور ابراہیم کا گھر جنت میں قیامت کے دن آمنے سامنے ہو گا، اور عباس ہم دو خلیلوں کے مابین ایک مومن ہوں گے ۔
حدثنا عبد الوهاب بن الضحاك، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن كثير بن مرة الحضرمي، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله اتخذني خليلا كما اتخذ ابراهيم خليلا فمنزلي ومنزل ابراهيم في الجنة يوم القيامة تجاهين والعباس بيننا مومن بين خليلين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے ۱؎۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن نافع بن جبير، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال للحسن " اللهم اني احبه فاحبه واحب من يحبه " . قال وضمه الى صدره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن داود بن ابي عوف ابي الجحاف، - وكان مرضيا - عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب الحسن والحسين فقد احبني ومن ابغضهما فقد ابغضني
(یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے، دیکھا تو حسین رضی اللہ عنہ ) گلی میں کھیل رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آگے نکل گئے، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے، حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے، ادھر ادھر بھاگنے لگے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہنسانے لگے، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا، اور فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے، اور حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا يحيى بن سليم، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن ابي راشد، ان يعلى بن مرة، حدثهم انهم، خرجوا مع النبي صلى الله عليه وسلم الى طعام دعوا له فاذا حسين يلعب في السكة قال فتقدم النبي صلى الله عليه وسلم امام القوم وبسط يديه فجعل الغلام يفر ها هنا وها هنا ويضاحكه النبي صلى الله عليه وسلم حتى اخذه فجعل احدى يديه تحت ذقنه والاخرى في فاس راسه فقبله وقال " حسين مني وانا من حسين احب الله من احب حسينا حسين سبط من الاسباط " . حدثنا علي بن محمد حدثنا وكيع عن سفيان مثله
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہم ) سے فرمایا: میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، وعلي بن المنذر، قالا حدثنا ابو غسان، حدثنا اسباط بن نصر، عن السدي، عن صبيح، مولى ام سلمة عن زيد بن ارقم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي وفاطمة والحسن والحسين " انا سلم لمن سالمتم وحرب لمن حاربتم
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں آنے کی اجازت دو، «طیب و مطیب» پاک و پاکیزہ شخص کو خوش آمدید ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن هاني بن هاني، عن علي بن ابي طالب، قال كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فاستاذن عمار بن ياسر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ايذنوا له مرحبا بالطيب المطيب
ہانی بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «طیب و مطیب» پاک و پاکیزہ کو خوش آمدید، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عمار ایمان سے بھرے ہوئے ہیں، ایمان ان کے جوڑوں تک پہنچ گیا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عثام بن علي، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن هاني بن هاني، قال دخل عمار على علي فقال مرحبا بالطيب المطيب سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ملي عمار ايمانا الى مشاشه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار پر جب بھی دو کام پیش کئے گئے تو انہوں نے ان میں سے بہترین کام کا انتخاب کیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله بن موسى، ح وحدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا جميعا حدثنا وكيع، عن عبد العزيز بن سياه، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عطاء بن يسار، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عمار ما عرض عليه امران الا اختار الارشد منهما
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی انہیں لوگوں میں سے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا ) ، اور ابوذر، سلمان اور مقداد ہیں ۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، وسويد بن سعيد، قالا حدثنا شريك، عن ابي ربيعة الايادي، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله امرني بحب اربعة واخبرني انه يحبهم " . قيل يا رسول الله من هم قال " علي منهم " . يقول ذلك ثلاثا " وابو ذر وسلمان والمقداد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے پہل جن لوگوں نے اپنا اسلام ظاہر کیا وہ سات افراد تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد ( رضی اللہ عنہم ) ، رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایذا رسانیوں سے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ آپ کو بچایا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم کے سبب محفوظ رکھا، رہے باقی لوگ تو ان کو مشرکین نے پکڑا اور لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا، چنانچہ ان میں سے ہر ایک سے مشرکین نے جو کہلوایا بظاہر کہہ دیا، سوائے بلال کے، اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنی جان کو حقیر سمجھا، اور ان کی قوم نے بھی ان کو حقیر جانا، چنانچہ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر بچوں کے حوالہ کر دیا، وہ ان کو مکہ کی گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور وہ «اَحَد، اَحَد» کہتے ( یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے ) ۱؎۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زايدة بن قدامة، عن عاصم بن ابي النجود، عن زر بن حبيش، عن عبد الله بن مسعود، قال كان اول من اظهر اسلامه سبعة رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمار وامه سمية وصهيب وبلال والمقداد فاما رسول الله صلى الله عليه وسلم فمنعه الله بعمه ابي طالب واما ابو بكر فمنعه الله بقومه واما سايرهم فاخذهم المشركون والبسوهم ادراع الحديد وصهروهم في الشمس فما منهم من احد الا وقد واتاهم على ما ارادوا الا بلالا فانه قد هانت عليه نفسه في الله وهان على قومه فاخذوه فاعطوه الولدان فجعلوا يطوفون به في شعاب مكة وهو يقول احد احد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ اتنی کسی کو نہ دی گئیں ہوں گی، اور میں اللہ کی راہ میں اس قدر ڈرایا گیا کہ اتنا کوئی نہیں ڈرایا گیا ہو گا، اور مجھ پہ مسلسل تین ایام ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کوئی چیز کھانے کی نہ تھی جسے کوئی ذی روح کھاتا سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں چھپا ہوا تھا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد اوذيت في الله وما يوذى احد ولقد اخفت في الله وما يخاف احد ولقد اتت على ثالثة وما لي ولبلال طعام ياكله ذو كبد الا ما وارى ابط بلال
سالم سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے بلال بن عبداللہ کی مدح سرائی کی، اور مصرعہ کہا: «بلال بن عبد الله خير بلال» بلال بن عبداللہ بلالوں میں سب سے بہتر ہیں ، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو، ایسا نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال بلالوں میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، عن عمر بن حمزة، عن سالم، ان شاعرا، مدح بلال بن عبد الله فقال بلال بن عبد الله خير بلال . فقال ابن عمر كذبت لا بل بلال رسول الله خير بلال
ابولیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ خباب رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے قریب بیٹھو، تم سے بڑھ کر میرے قریب بیٹھنے کا کوئی مستحق نہیں سوائے عمار رضی اللہ عنہ کے، پھر خباب رضی اللہ عنہ اپنی پیٹھ پر مشرکین کی مار پیٹ کے نشانات ان کو دکھانے لگے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي ليلى الكندي، قال جاء خباب الى عمر فقال ادن فما احد احق بهذا المجلس منك الا عمار . فجعل خباب يريه اثارا بظهره مما عذبه المشركون
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں، اللہ کے دین میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر ہیں، حیاء میں سب سے زیادہ حیاء والے عثمان ہیں، سب سے بہتر قاضی علی بن ابی طالب ہیں، سب سے بہتر قاری ابی بن کعب ہیں، سب سے زیادہ حلال و حرام کے جاننے والے معاذ بن جبل ہیں، اور سب سے زیادہ فرائض ( میراث تقسیم ) کے جاننے والے زید بن ثابت ہیں، سنو! ہر امت کا ایک امین ہوا کرتا ہے، اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ارحم امتي بامتي ابو بكر واشدهم في دين الله عمر واصدقهم حياء عثمان واقضاهم علي بن ابي طالب واقروهم لكتاب الله ابى بن كعب واعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل وافرضهم زيد بن ثابت الا وان لكل امة امينا وامين هذه الامة ابو عبيدة بن الجراح
ابوقلابہ سے ابن قدامہ کے نزدیک اسی کے مثل مروی ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حق میں: «أفرضهم» کے بجائے«أعلمهم بالفرائض» ہے
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة مثله عند ابن قدامة. غير انه يقول في حق زيد (واعلمهم بالفرايض)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: زمین نے کسی ایسے شخص کو نہ اٹھایا، اور نہ آسمان اس پر سایہ فگن ہوا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا ہو ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا الاعمش، عن عثمان بن عمير، عن ابي حرب بن ابي الاسود الديلي، عن عبد الله بن عمرو، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما اقلت الغبراء ولا اظلت الخضراء من رجل اصدق لهجة من ابي ذر
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا تحفہ میں پیش کیا گیا، لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ تمہارے لیے تعجب انگیز ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں بہتر ہوں گے ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال اهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم سرقة من حرير فجعل القوم يتداولونها بينهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتعجبون من هذا " . فقالوا له نعم يا رسول الله . فقال " والذي نفسي بيده لمناديل سعد بن معاذ في الجنة خير من هذا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ کی موت کے وقت رحمن کا عرش جھوم اٹھا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اهتز عرش الله عز وجل لموت سعد بن معاذ
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا، اور جب بھی مجھے دیکھا میرے روبرو مسکرائے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر ٹک نہیں پاتا ( گر جاتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پہ مارا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ثابت رکھ اور اسے ہدایت کنندہ اور ہدایت یافتہ بنا دے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله البجلي، قال ما حجبني رسول الله صلى الله عليه وسلم منذ اسلمت ولا راني الا تبسم في وجهي ولقد شكوت اليه اني لا اثبت على الخيل فضرب بيده في صدري فقال " اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی اور فرشتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ اپنے میں شرکائے بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں، اس فرشتہ نے کہا: اسی طرح ہمارے نزدیک وہ ( شرکائے بدر ) سب سے بہتر ہیں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وابو كريب قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن عباية بن رفاعة، عن جده، رافع بن خديج قال جاء جبريل - او ملك - الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما تعدون من شهد بدرا فيكم قالوا خيارنا . قال كذلك هم عندنا خيار الملايكة