Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا موسى بن مسلم، عن ابن سابط، - وهو عبد الرحمن - عن سعد بن ابي وقاص، قال قدم معاوية في بعض حجاته فدخل عليه سعد فذكروا عليا فنال منه فغضب سعد وقال تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كنت مولاه فعلي مولاه " . وسمعته يقول " انت مني بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدي " . وسمعته يقول " لاعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قريظة " من ياتينا بخبر القوم " . فقال الزبير انا . فقال " من ياتينا بخبر القوم " . قال الزبير انا . ثلاثا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لكل نبي حواري وان حواري الزبير
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن الزبير، عن الزبير، قال لقد جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ابويه يوم احد
عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا ( ابوبکر ) اور والد ( زبیر ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ( سورة آل عمران: 172 ) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
حدثنا هشام بن عمار، وهدية بن عبد الوهاب، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال قالت لي عايشة يا عروة كان ابواك من الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح ابو بكر والزبير
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله الاودي، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الصلت الازدي، حدثنا ابو نضرة، عن جابر، ان طلحة، مر على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " شهيد يمشي على وجه الارض
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا ۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا زهير بن معاوية، حدثني اسحاق بن يحيى بن طلحة، عن موسى بن طلحة، عن معاوية بن ابي سفيان، قال نظر النبي صلى الله عليه وسلم الى طلحة فقال " هذا ممن قضى نحبه
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ۱؎۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا اسحاق، عن موسى بن طلحة، قال كنا عند معاوية فقال اشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " طلحة ممن قضى نحبه
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ( بیکار ) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن اسماعيل، عن قيس، قال رايت يد طلحة شلاء وقى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن عبد الله بن شداد، عن علي، قال ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع ابويه لاحد غير سعد بن مالك فانه قال له يوم احد " ارم سعد فداك ابي وامي
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، ح وحدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، واسماعيل بن عياش، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، قال سمعت سعد بن ابي وقاص، يقول لقد جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد ابويه فقال " ارم سعد فداك ابي وامي
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں پہلا عربی شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن ادريس، وخالي، يعلى ووكيع عن اسماعيل، عن قيس، قال سمعت سعد بن ابي وقاص، يقول اني لاول العرب رمى بسهم في سبيل الله
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی نے اسلام نہ قبول کیا تھا، اور میں ( ابتدائی عہد میں ) سات دن تک مسلمانوں کا تیسرا شخص تھا ۱؎۔
حدثنا مسروق بن المرزبان، حدثنا يحيى بن ابي زايدة، عن هاشم بن هاشم، قال سمعت سعيد بن المسيب، يقول قال سعد بن ابي وقاص ما اسلم احد في اليوم الذي اسلمت فيه ولقد مكثت سبعة ايام واني لثلث الاسلام
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں ، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا صدقة بن المثنى ابو المثنى النخعي، عن جده، رياح بن الحارث سمع جده، سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم عاشر عشرة فقال " ابو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وسعد في الجنة وعبد الرحمن في الجنة " . فقيل له من التاسع قال انا
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ٹھہر، اے حرا! ۱؎ ( وہ لرزنے لگا تھا ) تیرے اوپر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام گنوائے: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن حصين، عن هلال بن يساف، عن عبد الله بن ظالم، عن سعيد بن زيد، قال اشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم اني سمعته يقول " اثبت حراء فما عليك الا نبي او صديق او شهيد " . وعدهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ابو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد وابن عوف وسعيد بن زيد
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو انتہائی درجہ امانت دار ہے ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ اس امین شخص کی جانب گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، جميعا عن ابي اسحاق، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لاهل نجران " سابعث معكم رجلا امينا حق امين " . قال فتشوف لها الناس فبعث ابا عبيدة بن الجراح
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن صلة بن زفر، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لابي عبيدة بن الجراح " هذا امين هذه الامة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو مقرر کرتا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت مستخلفا احدا عن غير مشورة لاستخلفت ابن ام عبد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کی قراءت کے مطابق پڑھے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله بن مسعود، . ان ابا بكر، وعمر، بشراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احب ان يقرا القران غضا كما انزل فليقراه على قراءة ابن ام عبد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم بن سويد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذنك على ان ترفع الحجاب وان تسمع سوادي حتى انهاك
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش کے ( کچھ لوگوں کا حال یہ تھا ) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کر دیتے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہو جاتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن طريف، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا الاعمش، عن ابي سبرة النخعي، عن محمد بن كعب القرظي، عن العباس بن عبد المطلب، قال كنا نلقى النفر من قريش وهم يتحدثون فيقطعون حديثهم فذكرنا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما بال اقوام يتحدثون فاذا راوا الرجل من اهل بيتي قطعوا حديثهم والله لا يدخل قلب رجل الايمان حتى يحبهم لله ولقرابتهم مني