Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ ، عرض کیا گیا: مردوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے والد ( ابوبکر ) ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، والحسين بن الحسن المروزي، قالا حدثنا المعتمر بن سليمان، عن حميد، عن انس، قال قيل يا رسول الله اى الناس احب اليك قال " عايشة " . قيل من الرجال قال " ابوها
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا؟ کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: ابوعبیدہ ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، اخبرني الجريري، عن عبد الله بن شقيق، قال قلت لعايشة اى اصحابه كان احب اليه قالت ابو بكر . قلت ثم ايهم قالت عمر . قلت ثم ايهم قالت ابو عبيدة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! عمر کے قبول اسلام سے آسمان والے بہت ہی خوش ہوئے۔
حدثنا اسماعيل بن محمد الطلحي، حدثنا عبد الله بن خراش الحوشبي، عن العوام بن حوشب، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال لما اسلم عمر نزل جبريل فقال يا محمد لقد استبشر اهل السماء باسلام عمر
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے ۔
حدثنا اسماعيل بن محمد الطلحي، انبانا داود بن عطاء المديني، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اول من يصافحه الحق عمر واول من يسلم عليه واول من ياخذ بيده فيدخله الجنة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت و طاقت عطا فرما ۔
حدثنا محمد بن عبيد ابو عبيد المديني، حدثنا عبد الملك بن الماجشون، حدثني الزنجي بن خالد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب خاصة
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں، اور ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر عمر ہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، قال سمعت عليا، يقول خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابو بكر وخير الناس بعد ابي بكر عمر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا: اس اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا، پھر اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ اس عورت نے کہا: عمر کا ( مجھے عمر کی غیرت یاد آ گئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس ہو گیا ) ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ سے غیرت کروں گا؟ ۱؎۔
حدثنا محمد بن الحارث المصري، انبانا الليث بن سعد، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم رايتني في الجنة فاذا انا بامراة تتوضا الى جانب قصر فقلت لمن هذا القصر فقالت لعمر . فذكرت غيرته فوليت مدبرا " . قال ابو هريرة فبكى عمر فقال اعليك بابي وامي يا رسول الله اغار
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ حق ہی بولتے ہیں ۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، عن مكحول، عن غضيف بن الحارث، عن ابي ذر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله وضع الحق على لسان عمر يقول به
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ( ساتھی ) ہے، اور میرے رفیق ( ساتھی ) اس میں عثمان بن عفان ہیں ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابي عثمان بن خالد، عن عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابيه، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: عثمان! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے ( رقیہ کو ) رکھتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابي عثمان بن خالد، عن عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم لقي عثمان عند باب المسجد فقال " يا عثمان هذا جبريل اخبرني ان الله قد زوجك ام كلثوم بمثل صداق رقية على مثل صحبتها
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا ، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی ہیں ( جو ہدایت پر ہوں گے ) ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن كعب بن عجرة، قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنة فقربها فمر رجل مقنع راسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا يوميذ على الهدى " . فوثبت فاخذت بضبعى عثمان ثم استقبلت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت هذا قال " هذا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلا دی گئی تھی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الفرج بن فضالة، عن ربيعة بن يزيد الدمشقي، عن النعمان بن بشير، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عثمان ان ولاك الله هذا الامر يوما فارادك المنافقون ان تخلع قميصك الذي قمصك الله فلا تخلعه " . يقول ذلك ثلاث مرات . قال النعمان فقلت لعايشة ما منعك ان تعلمي الناس بهذا قالت انسيته والله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، تو وہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: «وأنا صابر عليه» کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه " وددت ان عندي بعض اصحابي " . قلنا يا رسول الله الا ندعو لك ابا بكر فسكت قلنا الا ندعو لك عمر فسكت قلنا الا ندعو لك عثمان قال " نعم " . فجاء عثمان فخلا به فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يكلمه ووجه عثمان يتغير . قال قيس فحدثني ابو سهلة مولى عثمان ان عثمان بن عفان قال يوم الدار ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد الى عهدا وانا صاير اليه . وقال علي في حديثه وانا صابر عليه . قال قيس فكانوا يرونه ذلك اليوم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، وابو معاوية وعبد الله بن نمير عن الاعمش، عن عدي بن ثابت، عن زر بن حبيش، عن علي، قال عهد الى النبي الامي صلى الله عليه وسلم انه لا يحبني الا مومن ولا يبغضني الا منافق
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، قال سمعت ابراهيم بن سعد بن ابي وقاص، يحدث عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال لعلي " الا ترضى ان تكون مني بمنزلة هارون من موسى
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا:«الصلاة جامعة»، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( علی ) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو الحسين، اخبرني حماد بن سلمة، عن علي بن زيد بن جدعان، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال اقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته التي حج فنزل في الطريق فامر الصلاة جامعة فاخذ بيد علي فقال " الست اولى بالمومنين من انفسهم " . قالوا بلى . قال " الست اولى بكل مومن من نفسه " . قالوا بلى . قال " فهذا ولي من انا مولاه اللهم وال من والاه اللهم عاد من عاداه
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں ابولیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا: کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے ( جواباً ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی، اور ( حاضر خدمت ہو کر ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میں مبتلا ہوں، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر دعا فرمائی: اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے آدمی کو ( جہاد کا قائد بنا کر ) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے ۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا ابن ابي ليلى، حدثنا الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال كان ابو ليلى يسمر مع علي فكان يلبس ثياب الصيف في الشتاء وثياب الشتاء في الصيف فقلنا لو سالته فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث الى وانا ارمد العين يوم خيبر قلت يا رسول الله اني ارمد العين . فتفل في عيني ثم قال " اللهم اذهب عنه الحر والبرد " . قال فما وجدت حرا ولا بردا بعد يوميذ . وقال " لابعثن رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله ليس بفرار " . فتشوف لها الناس فبعث الى علي فاعطاها اياه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں ۔
حدثنا محمد بن موسى الواسطي، حدثنا المعلى بن عبد الرحمن، حدثنا ابن ابي ذيب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحسن والحسين سيدا شباب اهل الجنة وابوهما خير منهما
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وسويد بن سعيد، واسماعيل بن موسى، قالوا حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن حبشي بن جنادة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " علي مني وانا منه ولا يودي عني الا علي
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی
حدثنا محمد بن اسماعيل الرازي، حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا العلاء بن صالح، عن المنهال، عن عباد بن عبد الله، قال قال علي انا عبد الله، واخو، رسوله صلى الله عليه وسلم وانا الصديق الاكبر، لا يقولها بعدي الا كذاب صليت قبل الناس لسبع سنين