Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہو سکتا: اللہ واحد پر جس کا کوئی شریک نہیں، میرے اللہ کے رسول ہونے پر، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر، اور تقدیر پر ۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا شريك، عن منصور، عن ربعي، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يومن عبد حتى يومن باربع بالله وحده لا شريك له واني رسول الله وبالبعث بعد الموت والقدر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک بچے کے جنازے میں بلائے گئے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بچہ کے لیے مبارک باد ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برائی کی اور نہ ہی برائی کرنے کا وقت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ بات یوں نہیں ہے، بلکہ اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا طلحة بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن عمته، عايشة بنت طلحة عن عايشة ام المومنين، قالت دعي رسول الله صلى الله عليه وسلم الى جنازة غلام من الانصار فقلت يا رسول الله طوبى لهذا عصفور من عصافير الجنة لم يعمل السوء ولم يدركه . قال " او غير ذلك يا عايشة ان الله خلق للجنة اهلا خلقهم لها وهم في اصلاب ابايهم وخلق للنار اهلا خلقهم لها وهم في اصلاب ابايهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ مشرکین قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:«يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی: جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا: جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے ( سورۃ القمر: ۴۹ ) ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان الثوري، عن زياد بن اسماعيل المخزومي، عن محمد بن عباد بن جعفر، عن ابي هريرة، قال جاء مشركو قريش يخاصمون النبي صلى الله عليه وسلم في القدر فنزلت هذه الاية {يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر * انا كل شىء خلقناه بقدر}
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے تقدیر کے سلسلے میں کچھ ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو تقدیر کے سلسلے میں ذرا بھی بحث کرے گا اس سے قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کیا جائے گا، اور جو اس سلسلہ میں کچھ نہ کہے تو اس سے سوال نہیں ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا يحيى بن عثمان، مولى ابي بكر حدثنا يحيى بن عبد الله بن ابي مليكة، عن ابيه، انه دخل على عايشة فذكر لها شييا من القدر فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من تكلم في شىء من القدر سيل عنه يوم القيامة ومن لم يتكلم فيه لم يسال عنه " . قال ابو الحسن القطان حدثناه خازم بن يحيى، حدثنا عبد الملك بن شيبان، حدثنا يحيى بن عثمان، فذكر نحوه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے، وہ لوگ اس وقت تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سخت غصہ کی وجہ سے سرخ ہو گیا، گویا کہ آپ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو؟ تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض حصہ سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں ۱؎۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غیر حاضر ہونے کی ایسی خواہش اپنے جی میں نہیں کی جیسی اس مجلس سے غیر حاضر رہنے کی خواہش کی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا داود بن ابي هند، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على اصحابه وهم يختصمون في القدر فكانما يفقا في وجهه حب الرمان من الغضب فقال " بهذا امرتم او لهذا خلقتم تضربون القران بعضه ببعض . بهذا هلكت الامم قبلكم " . قال فقال عبد الله بن عمرو ما غبطت نفسي بمجلس تخلفت فيه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما غبطت نفسي بذلك المجلس وتخلفي عنه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں چھوا چھوت کی بیماری، بدفالی اور الو سے بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، ایک دیہاتی شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اونٹ کو ( کھجلی ) ہوتی ہے، اور پھر اس سے تمام اونٹوں کو کھجلی ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تقدیر ہے، اگر ایسا نہیں تو پہلے اونٹ کو کس نے اس میں مبتلا کیا؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا يحيى بن ابي حية ابو جناب الكلبي، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عدوى ولا طيرة ولا هامة " . فقام اليه رجل اعرابي فقال يا رسول الله ارايت البعير يكون به الجرب فيجرب الابل كلها قال " ذلكم القدر فمن اجرب الاول
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جب کوفہ آئے تو ہم اہل کوفہ کے چند فقہاء کے ساتھ ان کے پاس گئے، اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو وہ کہنے لگے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے ، میں نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ، چاہے اچھی ہو، بری ہو، میٹھی ہو، کڑوی ہو ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن عيسى الجرار، عن عبد الاعلى بن ابي المساور، عن الشعبي، قال لما قدم عدي بن حاتم الكوفة اتيناه في نفر من فقهاء اهل الكوفة . فقلنا له حدثنا ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا عدي بن حاتم اسلم تسلم " . قلت وما الاسلام فقال " تشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله وتومن بالاقدار كلها خيرها وشرها حلوها ومرها
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جسے ہوائیں میدان میں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا اسباط بن محمد، حدثنا الاعمش، عن يزيد الرقاشي، عن غنيم بن قيس، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل القلب مثل الريشة تقلبها الرياح بفلاة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا ، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۲؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا خالي، يعلى عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر، قال جاء رجل من الانصار الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان لي جارية اعزل عنها قال " سياتيها ما قدر لها " . فاتاه بعد ذلك فقال قد حملت الجارية . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما قدر لنفس شىء الا هي كاينة
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی ۱؎، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ۲؎، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن عيسى، عن عبد الله بن ابي الجعد، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزيد في العمر الا البر ولا يرد القدر الا الدعاء وان الرجل ليحرم الرزق للخطيية يعملها
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عطاء بن مسلم الخفاف، حدثنا الاعمش، عن مجاهد، عن سراقة بن جعشم، قال قلت يا رسول الله العمل فيما جف به القلم وجرت به المقادير او في امر مستقبل قال " بل فيما جف به القلم وجرت به المقادير وكل ميسر لما خلق له
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، عن الاوزاعي، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان مجوس هذه الامة المكذبون باقدار الله ان مرضوا فلا تعودوهم وان ماتوا فلا تشهدوهم وان لقيتموهم فلا تسلموا عليهم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو! میں ہر خلیل ( جگری دوست ) کی دلی دوستی سے بری ہوں، اور اگر میں کسی کو خلیل ( جگری دوست ) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ( مخلص دوست ہے ) ۱؎۔ وکیع کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اني ابرا الى كل خليل من خلته ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابا بكر خليلا ان صاحبكم خليل الله " . قال وكيع يعني نفسه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کسی بھی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے فائدہ پہنچایا ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا: اللہ کے رسول! میں اور میرا مال سب صرف آپ ہی کا ہے، اے اللہ کے رسول! ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما نفعني مال قط ما نفعني مال ابي بكر " . قال فبكى ابو بكر وقال هل انا ومالي الا لك يا رسول الله
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے، علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن الحسن بن عمارة، عن فراس، عن الشعبي، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابو بكر وعمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والاخرين الا النبيين والمرسلين لا تخبرهما يا علي ما داما حيين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند درجے والوں کو ( جنت میں ) نیچے درجہ والے دیکھیں گے جس طرح چمکتا ہوا ستارہ آسمان کی بلندیوں میں دیکھا جاتا ہے، اور ابوبکرو عمر بھی انہیں میں سے ہیں، اور ان میں سب سے فائق و برتر ہیں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن عطية بن سعد، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اهل الدرجات العلى يراهم من اسفل منهم كما يرى الكوكب الطالع في الافق من افاق السماء وان ابا بكر وعمر منهم وانعما
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ کب تک میں تمہارے درمیان رہوں، پس میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کی جانب اشارہ کیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا مومل، قالا حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن مولى، لربعي بن حراش عن ربعي بن حراش، عن حذيفة بن اليمان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لا ادري قدر بقايي فيكم فاقتدوا باللذين من بعدي " . واشار الى ابي بكر وعمر
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( وفات کے بعد ) ان کی چارپائی پہ لٹایا گیا تو لوگوں نے انہیں گھیر لیا، اور دعا کرنے لگے، یا کہا: تعریف کرنے لگے، اور جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے دعا کرنے لگے، میں بھی انہیں میں تھا، تو مجھے صرف اس شخص نے خوف زدہ کیا جو لوگوں کو دھکا دے کر میرے پاس آیا، اور میرا کندھا پکڑ لیا، میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، پھر بولے: میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا جس کا عمل آپ کے عمل سے زیادہ مجھے عزیز و پیارا ہو کہ میں اس عمل کو لے کر اللہ سے ملوں، اور قسم ہے اللہ کی! میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ رکھے گا، اس وجہ سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر فرماتے ہوئے سنتا تھا: میں اور ابوبکرو عمر گئے، میں اور ابوبکرو عمر داخل ہوئے، میں اور ابوبکرو عمر نکلے ، لہٰذا میں آپ کے ان باتوں کی وجہ سے یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ( جنت میں ) رکھے گا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن المبارك، عن عمر بن سعيد بن ابي حسين، عن ابن ابي مليكة، قال سمعت ابن عباس، يقول لما وضع عمر على سريره اكتنفه الناس يدعون ويصلون - او قال يثنون ويصلون - عليه قبل ان يرفع وانا فيهم فلم يرعني الا رجل قد زحمني واخذ بمنكبي فالتفت فاذا علي بن ابي طالب فترحم على عمر ثم قال ما خلفت احدا احب الى ان القى الله بمثل عمله منك وايم الله ان كنت لاظن ليجعلنك الله عز وجل مع صاحبيك وذلك اني كنت اكثر ان اسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ذهبت انا وابو بكر وعمر ودخلت انا وابو بكر وعمر وخرجت انا وابو بكر وعمر " . فكنت اظن ليجعلنك الله مع صاحبيك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر کے درمیان نکلے، اور فرمایا: ہم اسی طرح قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے
حدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا سعيد بن مسلمة، عن اسماعيل بن امية، عن نافع، عن ابن عمر، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بين ابي بكر وعمر فقال " هكذا نبعث
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر انبیاء و رسل کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں جنت کے ادھیڑ لوگوں کے سردار ہوں گے ۔
حدثنا ابو شعيب، صالح بن الهيثم الواسطي حدثنا عبد القدوس بن بكر بن خنيس، حدثنا مالك بن مغول، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابو بكر وعمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والاخرين الا النبيين والمرسلين