Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہم طاقتور نوجوان تھے، ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان کو سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا، تو اس سے ہمارا ایمان اور زیادہ ( بڑھ ) ہو گیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا حماد بن نجيح، - وكان ثقة - عن ابي عمران الجوني، عن جندب بن عبد الله، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن فتيان حزاورة فتعلمنا الايمان قبل ان نتعلم القران ثم تعلمنا القران فازددنا به ايمانا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے دو گروہ ایسے ہوں گے کہ اسلام میں ان کا کوئی حصہ نہیں: ایک مرجیہ ۱؎ اور دوسرا قدریہ ( منکرین قدر ) ۲؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا علي بن نزار، عن ابيه، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صنفان من هذه الامة ليس لهما في الاسلام نصيب المرجية والقدرية
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا، جس کے کپڑے انتہائی سفید اور سر کے بال نہایت کالے تھے، اس پہ سفر کے آثار ظاہر نہیں تھے، اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا، اور اپنا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے ملا لیا، اور اپنے دونوں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ران پر رکھا، پھر بولا: اے محمد! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور خانہ کعبہ کا حج کرنا ، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، تو ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر رہا ہے، اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، یوم آخرت، اور بھلی بری تقدیر پر ایمان رکھو ، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، تو ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر رہا ہے، اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو یقین رکھو کہ وہ تم کو ضرور دیکھ رہا ہے ۔ پھر اس نے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھ رہے ہو، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۱؎۔ پھر اس نے پوچھا: اس کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی اپنے مالکن کو جنے گی ( وکیع راوی حدیث نے کہا: یعنی عجمی عورتیں عرب کو جنیں گی ) ۲؎ اور تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، فقیر و محتاج بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ بڑی بڑی کوٹھیوں اور محلات کے بنانے میں فخر و مسابقت سے کام لیں گے ۔ راوی کہتے ہیں: پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تین دن کے بعد ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟ ، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم اور بنیادی باتیں سکھانے آئے تھے ۳؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن يحيى بن يعمر، عن ابن عمر، عن عمر، قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فجاء رجل شديد بياض الثياب شديد سواد شعر الراس لا يرى عليه اثر السفر ولا يعرفه منا احد . قال فجلس الى النبي صلى الله عليه وسلم فاسند ركبته الى ركبته ووضع يديه على فخذيه . ثم قال يا محمد ما الاسلام قال " شهادة ان لا اله الا الله واني رسول الله واقام الصلاة وايتاء الزكاة وصوم رمضان وحج البيت " . قال صدقت . فعجبنا منه يساله ويصدقه . ثم قال يا محمد ما الايمان قال " ان تومن بالله وملايكته ورسله وكتبه واليوم الاخر والقدر خيره وشره " . قال صدقت . فعجبنا منه يساله ويصدقه . ثم قال يا محمد ما الاحسان قال " ان تعبد الله كانك تراه فانك ان لا تراه فانه يراك " . قال فمتى الساعة قال " ما المسيول عنها باعلم من السايل " . قال فما امارتها قال " ان تلد الامة ربتها " . قال وكيع يعني تلد العجم العرب " وان ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البناء " . قال ثم قال فلقيني النبي صلى الله عليه وسلم بعد ثلاث فقال " اتدري من الرجل " . قلت الله ورسوله اعلم . قال " ذاك جبريل اتاكم يعلمكم معالم دينكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں میں باہر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، اس سے ملاقات اور یوم آخرت پر ایمان رکھو ۱؎۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو، فرض نماز قائم کرو، فرض زکاۃ ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو ۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے ۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھ رہے ہو وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تم کو اس کی نشانیاں بتاؤں گا: جب لونڈی اپنی مالکن کو جنے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریوں کے چرواہے اونچی اونچی عمارتوں پر فخر و مسابقت کریں تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے، قیامت کی آمد ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبير» بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے، اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، اللہ ہی علیم ( پورے علم والا ) اور خبیر ( خبر رکھنے والا ہے ) ( سورة لقمان: 34 ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابي حيان، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بارزا للناس . فاتاه رجل فقال يا رسول الله ما الايمان قال " ان تومن بالله وملايكته وكتبه ورسله ولقايه وتومن بالبعث الاخر " . قال يا رسول الله ما الاسلام قال " ان تعبد الله ولا تشرك به شييا وتقيم الصلاة المكتوبة وتوتي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان " . قال يا رسول الله ما الاحسان قال " ان تعبد الله كانك تراه فانك ان لا تراه فانه يراك " . قال يا رسول الله متى الساعة قال " ما المسيول عنها باعلم من السايل ولكن ساحدثك عن اشراطها اذا ولدت الامة ربتها فذلك من اشراطها واذا تطاول رعاء الغنم في البنيان فذلك من اشراطها في خمس لا يعلمهن الا الله " . فتلا رسول الله صلى الله عليه وسلم {ان الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الارحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس باى ارض تموت ان الله عليم خبير}
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان دل کی معرفت، زبان سے اقرار اور اعضائے بدن سے عمل کا نام ہے ۔ ابوالصلت کہتا ہے: یہ سند ایسی ہے کہ اگر دیوانے پر پڑھ دی جائے تو وہ اچھا ہو جائے۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا عبد السلام بن صالح ابو الصلت الهروي، حدثنا علي بن موسى الرضا، عن ابيه، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن علي بن الحسين، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايمان معرفة بالقلب وقول باللسان وعمل بالاركان " . قال ابو الصلت لو قري هذا الاسناد على مجنون لبرا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی ( یا اپنے پڑوسی ) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يومن احدكم حتى يحب لاخيه - او قال لجاره - ما يحب لنفسه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والد، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يومن احدكم حتى اكون احب اليه من ولده ووالده والناس اجمعين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں اس وقت تک نہیں داخل ہو سکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آؤ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اپنا لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے! آپس میں سلام کو عام کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، وابو معاوية عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لا تدخلوا الجنة حتى تومنوا ولا تومنوا حتى تحابوا اولا ادلكم على شىء اذا فعلتموه تحاببتم افشوا السلام بينكم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ( نافرمانی ) ہے، اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عفان، حدثنا شعبة، عن الاعمش، ح وحدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سباب المسلم فسوق وقتاله كفر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا کو اس حال میں چھوڑا کہ خالص اللہ واحد کی عبادت کرتا رہا، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، نماز قائم کی، اور زکاۃ ادا کی، تو اس کی موت اس حال میں ہو گی کہ اللہ اس سے راضی ہو گا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی اللہ کا دین ہے جس کو رسول لے کر آئے، اور اپنے رب کی طرف سے اس کی تبلیغ کی، اس سے پہلے کہ دین میں لوگوں کی باتوں اور طرح طرح کی خواہشوں کی ملاوٹ اور آمیزش ہو۔ اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورۃ ( براءۃ ) میں موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة» الآية، یعنی: اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں، اور زکاۃ ادا کریں ( سورۃ التوبہ: ۵ ) ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یعنی بتوں کو چھوڑ دیں اور ان کی عبادت سے دستبردار ہو جائیں، اور نماز قائم کریں، زکاۃ دیں ( تو ان کا راستہ چھوڑ دو ) ۔ اور دوسری آیت میں یہ ہے: «فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فإخوانكم في الدين» یعنی: اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں، زکاۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ( سورۃ التوبہ: ۱۱ ) ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا ابو احمد، حدثنا ابو جعفر الرازي، عن الربيع بن انس، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فارق الدنيا على الاخلاص لله وحده وعبادته لا شريك له واقام الصلاة وايتاء الزكاة مات والله عنه راض " . قال انس وهو دين الله الذي جاءت به الرسل وبلغوه عن ربهم قبل هرج الاحاديث واختلاف الاهواء وتصديق ذلك في كتاب الله في اخر ما نزل يقول الله {فان تابوا} قال خلعوا الاوثان وعبادتها {واقاموا الصلاة واتوا الزكاة} وقال في اية اخرى {فان تابوا واقاموا الصلاة واتوا الزكاة فاخوانكم في الدين} حدثنا ابو حاتم، حدثنا عبيد الله بن موسى العبسي، حدثنا ابو جعفر الرازي، عن الربيع بن انس، مثله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا ابو النضر، حدثنا ابو جعفر، عن يونس، عن الحسن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله واني رسول الله ويقيموا الصلاة ويوتوا الزكاة
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال ( لڑنے ) کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا عبد الحميد بن بهرام، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله واني رسول الله ويقيموا الصلاة ويوتوا الزكاة
ابن عباس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دو قسم کے لوگ ایسے ہوں گے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں: ایک مرجئہ اور دوسرے قدریہ ( منکرین قدر ) ۔
حدثنا محمد بن اسماعيل الرازي، انبانا يونس بن محمد، حدثنا عبد الله بن محمد الليثي، حدثنا نزار بن حيان، عن عكرمة، عن ابن عباس، وعن جابر بن عبد الله، قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صنفان من امتي ليس لهما في الاسلام نصيب اهل الارجاء واهل القدر
ابوہریرہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ ایمان بڑھتا، اور گھٹتا ہے
حدثنا ابو عثمان البخاري، سعيد بن سعد قال حدثنا الهيثم بن خارجة، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن عياش - عن عبد الوهاب بن مجاهد، عن مجاهد، عن ابي هريرة، وابن، عباس قالا الايمان يزيد وينقص
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔
حدثنا ابو عثمان البخاري، حدثنا الهيثم، حدثنا اسماعيل، عن جرير بن عثمان، عن الحارث، - اظنه - عن مجاهد، عن ابي الدرداء، قال الايمان يزداد وينقص
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ( یعنی جو خود سچے ہیں اور سچے مانے گئے ہیں ) نے بیان کیا کہ پیدائش اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس فرشتہ سے کہتا ہے: اس کا عمل، اس کی مدت عمر، اس کا رزق، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر اس کا مقدر غالب آ جاتا ہے ( یعنی لکھی ہوئی تقدیر غالب آ جاتی ہے ) ، اور وہ جہنم والوں کا عمل کر بیٹھتا ہے، اور اس میں داخل ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی جہنم والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، کہ اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آ جاتی ہے، اور وہ جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے، اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ومحمد بن فضيل، وابو معاوية ح وحدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا ابو معاوية، ومحمد بن عبيد، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، قال قال عبد الله بن مسعود حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق قال " يجمع خلق احدكم في بطن امه اربعين يوما ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يبعث الله اليه الملك فيومر باربع كلمات فيقول اكتب عمله واجله ورزقه وشقي ام سعيد . فوالذي نفسي بيده ان احدكم ليعمل بعمل اهل الجنة حتى ما يكون بينه وبينها الا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل النار فيدخلها وان احدكم ليعمل بعمل اهل النار حتى ما يكون بينه وبينها الا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل الجنة فيدخلها
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے، اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں یہ شبہات میرے دین اور میرے معاملے کو خراب نہ کر دیں، چنانچہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور عرض کیا: ابوالمنذر! میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات وارد ہوئے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا دین اور میرا معاملہ خراب نہ ہو جائے، لہٰذا آپ اس سلسلہ میں مجھ سے کچھ بیان کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کچھ فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو ( یا کہا: احد پہاڑ کے برابر مال ہو ) اور تم اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو، تو یہ اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پہ ایمان نہ لاؤ، تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تمہیں نہیں پہنچا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا ۱؎، اور اگر تم اس اعتقاد کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے، اور کوئی حرج نہیں کہ تم میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں: میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا، اور مجھ سے کہا: کوئی مضائقہ نہیں کہ تم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ان دونوں ( ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے بتایا تھا، اور انہوں نے کہا: تم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے بھی پوچھ لو۔ چنانچہ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے بھی پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد کے برابر سونا یا احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اس وقت تک تمہاری جانب سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم پوری تقدیر پہ کلی طور پر ایمان نہ لاؤ، اور تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا ہے تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تم سے چوک گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس عقیدہ کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے ۲؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا اسحاق بن سليمان، قال سمعت ابا سنان، عن وهب بن خالد الحمصي، عن ابن الديلمي، قال وقع في نفسي شىء من هذا القدر خشيت ان يفسد على ديني وامري فاتيت ابى بن كعب فقلت ابا المنذر انه قد وقع في قلبي شىء من هذا القدر فخشيت على ديني وامري فحدثني من ذلك بشىء لعل الله ان ينفعني به . فقال لو ان الله عذب اهل سمواته واهل ارضه لعذبهم وهو غير ظالم لهم ولو رحمهم لكانت رحمته خيرا لهم من اعمالهم . ولو كان لك مثل جبل احد ذهبا او مثل جبل احد تنفقه في سبيل الله ما قبل منك حتى تومن بالقدر . فتعلم ان ما اصابك لم يكن ليخطيك وان ما اخطاك لم يكن ليصيبك . وانك ان مت على غير هذا دخلت النار ولا عليك ان تاتي اخي عبد الله بن مسعود فتساله . فاتيت عبد الله فسالته فذكر مثل ما قال ابى وقال لي ولا عليك ان تاتي حذيفة . فاتيت حذيفة فسالته فقال مثل ما قالا وقال ايت زيد بن ثابت فاساله . فاتيت زيد بن ثابت فسالته فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لو ان الله عذب اهل سمواته واهل ارضه لعذبهم وهو غير ظالم لهم ولو رحمهم لكانت رحمته خيرا لهم من اعمالهم ولو كان لك مثل احد ذهبا او مثل جبل احد ذهبا تنفقه في سبيل الله ما قبله منك حتى تومن بالقدر كله فتعلم ان ما اصابك لم يكن ليخطيك وما اخطاك لم يكن ليصيبك وانك ان مت على غير هذا دخلت النار
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زمین کو کریدا، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: جنت و جہنم میں ہر شخص کا ٹھکانہ لکھ دیا گیا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کر لیں ( اور عمل چھوڑ دیں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عمل کرو، اور صرف لکھی تقدیر پر بھروسہ نہ کر کے بیٹھو، اس لیے کہ ہر ایک کو اسی عمل کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى فسنيسره لليسرى وأما من بخل واستغنى وكذب بالحسنى فسنيسره للعسرى»، یعنی: جس نے اللہ کی راہ میں دیا اپنے رب سے ڈرا، اور اچھی بات کی تصدیق کرتا رہا، تو ہم بھی اس پر سہولت کا راستہ آسان کر دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی، لاپرواہی برتی اور اچھی بات کو جھٹلایا تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے ( سورة الليل: 5-10 ) ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم وبيده عود فنكت في الارض ثم رفع راسه فقال " ما منكم من احد الا وقد كتب مقعده من الجنة ومقعده من النار " . قيل يا رسول الله افلا نتكل قال " لا اعملوا ولا تتكلوا فكل ميسر لما خلق له " . ثم قرا {فاما من اعطى واتقى * وصدق بالحسنى * فسنيسره لليسرى * واما من بخل واستغنى * وكذب بالحسنى * فسنيسره للعسرى}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور پیارا ہے ۱؎، دونوں میں سے ہر ایک میں خیر ہے، ہر اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں نفع دے، اور اللہ سے مدد طلب کرو، دل ہار کر نہ بیٹھ جاؤ، اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش کہ میں نے ایسا ویسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو: جو اللہ نے مقدر کیا تھا اور جو اس نے چاہا کیا، اس لیے کہ اگر مگر شیطان کے عمل کے لیے راستہ کھول دیتا ہے ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد الطنافسي، قالا حدثنا عبد الله بن ادريس، عن ربيعة بن عثمان، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن القوي خير واحب الى الله من المومن الضعيف وفي كل خير احرص على ما ينفعك واستعن بالله ولا تعجز فان اصابك شىء فلا تقل لو اني فعلت كذا وكذا . ولكن قل قدر الله وما شاء فعل فان " لو " تفتح عمل الشيطان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم و موسیٰ علیہا السلام میں مناظرہ ہوا، موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ نے ہمیں ناکام و نامراد بنا دیا، اور اپنے گناہ کے سبب ہمیں جنت سے نکال دیا، تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسیٰ! اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی ہم کلامی کے لیے منتخب کیا، اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی، کیا تم مجھ کو ایک ایسے عمل پر ملامت کرتے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا! ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: چنانچہ آدم موسیٰ پر غالب آ گئے، آدم موسیٰ پر غالب آ گئے، آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ويعقوب بن حميد بن كاسب، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، سمع طاوسا، يقول سمعت ابا هريرة، يخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " احتج ادم وموسى فقال له موسى يا ادم انت ابونا خيبتنا واخرجتنا من الجنة بذنبك . فقال له ادم يا موسى اصطفاك الله بكلامه وخط لك التوراة بيده اتلومني على امر قدره الله على قبل ان يخلقني باربعين سنة فحج ادم موسى فحج ادم موسى فحج ادم موسى " . ثلاثا