Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ميمون بن ابي شبيب، عن المغيرة بن شعبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حدث عني بحديث وهو يرى انه كذب فهو احد الكاذبين
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے ڈرو، اور امیر ( سربراہ ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، گرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا، اور دین میں نئی باتوں ( بدعتوں ) سے اپنے آپ کو بچانا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن احمد بن بشير بن ذكوان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الله بن العلاء، - يعني ابن زبر - حدثني يحيى بن ابي المطاع، قال سمعت العرباض بن سارية، يقول قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فوعظنا موعظة بليغة وجلت منها القلوب وذرفت منها العيون فقيل يا رسول الله وعظتنا موعظة مودع فاعهد الينا بعهد فقال " عليكم بتقوى الله والسمع والطاعة وان عبدا حبشيا وسترون من بعدي اختلافا شديدا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ واياكم والامور المحدثات فان كل بدعة ضلالة
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے ہماری آنکھیں ڈبدبا گئیں، اور دل لرز گئے، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو رخصت ہونے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے، تو آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین ۱؎ کی سنت سے جو کچھ تمہیں معلوم ہے اس کی پابندی کرنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور امیر کی اطاعت کرنا، چاہے وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ مومن نکیل لگے ہوئے اونٹ کی طرح ہے، جدھر اسے لے جایا جائے ادھر ہی چل پڑتا ہے ۔
حدثنا اسماعيل بن بشر بن منصور، واسحاق بن ابراهيم السواق، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن ضمرة بن حبيب، عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي، انه سمع العرباض بن سارية، يقول وعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم موعظة ذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب فقلنا يا رسول الله ان هذه لموعظة مودع فماذا تعهد الينا قال " قد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدي الا هالك من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بما عرفتم من سنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ وعليكم بالطاعة وان عبدا حبشيا فانما المومن كالجمل الانف حيثما قيد انقاد
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا عبد الملك بن الصباح المسمعي، حدثنا ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن العرباض بن سارية، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح ثم اقبل علينا بوجهه فوعظنا موعظة بليغة . فذكر نحوه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ، آواز بلند اور غصہ سخت ہو جاتا، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ( حملہ آور ) لشکر سے ڈرانے والے اس شخص کی طرح ہیں جو کہہ رہا ہے کہ لشکر تمہارے اوپر صبح کو حملہ کرنے والا ہے، شام کو حملہ کرنے والا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس طرح قریب بھیجے گئے ہیں ، اور ( سمجھانے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت والی اور بیچ والی انگلی ملاتے پھر فرماتے: حمد و صلاۃ کے بعد! جان لو کہ سارے امور میں سے بہتر اللہ کی کتاب ( قرآن ) ہے، اور راستوں میں سے سب سے بہتر محمد کا راستہ ( سنت ) ہے، اور سب سے بری چیز دین میں نئی چیزیں ( بدعات ) ہیں ۱؎، اور ہر بدعت ( نئی چیز ) گمراہی ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو مرنے والا مال و اسباب چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا اہل و عیال چھوڑے تو قرض کی ادائیگی، اور بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، واحمد بن ثابت الجحدري، قالا حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا خطب احمرت عيناه وعلا صوته واشتد غضبه كانه منذر جيش يقول " صبحكم مساكم " . ويقول " بعثت انا والساعة كهاتين " . ويقرن بين اصبعيه السبابة والوسطى ثم يقول " اما بعد فان خير الامور كتاب الله وخير الهدى هدى محمد وشر الامور محدثاتها وكل بدعة ضلالة " . وكان يقول " من ترك مالا فلاهله ومن ترك دينا او ضياعا فعلى والى
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس دو ہی چیزیں ہیں، ایک کلام اور دوسری چیز طریقہ، تو سب سے بہتر کلام اللہ کا کلام ( قرآن مجید ) ہے، اور سب سے بہتر طریقہ ( سنت ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، سنو! تم اپنے آپ کو دین میں نئی چیزوں سے بچانا، اس لیے کہ دین میں سب سے بری چیز «محدثات» ( نئی چیزیں ) ہیں، اور ہر «محدث» ( نئی چیز ) بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ سنو! کہیں شیطان تمہارے دلوں میں زیادہ زندہ رہنے اور جینے کا وسوسہ نہ ڈال دے، اور تمہارے دل سخت ہو جائیں ۱؎۔ خبردار! آنے والی چیز قریب ہے ۲؎، دور تو وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں۔ خبردار! بدبخت تو وہی ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھ دیا گیا، اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرے۔ آگاہ رہو! مومن سے جنگ و جدال اور لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے، اور اسے گالی دینا فسق ( نافرمانی ) ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۳؎۔ سنو! تم اپنے آپ کو جھوٹ سے بچانا، اس لیے کہ جھوٹ سنجیدگی یا ہنسی مذاق ( مزاح ) میں کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے ۴؎، کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے جسے پورا نہ کرے ۵؎، جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، چنانچہ سچے آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ کہا اور نیک و کار ہوا، اور جھوٹے آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا اور گناہ گار ہوا۔ سنو! بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کذاب ( جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن عبيد بن ميمون المدني ابو عبيد، حدثنا ابي، عن محمد بن جعفر بن ابي كثير، عن موسى بن عقبة، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما هما اثنتان الكلام والهدى فاحسن الكلام كلام الله واحسن الهدى هدى محمد الا واياكم ومحدثات الامور فان شر الامور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة الا لا يطولن عليكم الامد فتقسو قلوبكم الا ان ما هو ات قريب وانما البعيد ما ليس بات الا ان الشقي من شقي في بطن امه والسعيد من وعظ بغيره الا ان قتال المومن كفر وسبابه فسوق ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث الا واياكم والكذب فان الكذب لا يصلح بالجد ولا بالهزل ولا يعد الرجل صبيه ثم لا يفي له فان الكذب يهدي الى الفجور وان الفجور يهدي الى النار وان الصدق يهدي الى البر وان البر يهدي الى الجنة وانه يقال للصادق صدق وبر . ويقال للكاذب كذب وفجر . الا وان العبد يكذب حتى يكتب عند الله كذابا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی: «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات» اللہ تعالیٰ کے یہ فرمان «وما يذكر إلا أولو الألباب» تک: ( سورة آل عمران: 7 ) ، یعنی: وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب اتاری، جس میں اس کی بعض آیات معلوم و متعین معنی والی محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں، اور بعض آیات متشابہ ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور ان کے معنی مراد کی جستجو کریں، حالانکہ ان کے حقیقی معنی مراد کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، اور پختہ و مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان رکھتے ہیں، یہ تمام ہمارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہیں، اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں ۔ اور ( آیت کی تلاوت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! جب ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات میں جھگڑتے اور بحث و تکرار کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اس آیت کریمہ میں مراد لیا ہے، تو ان سے بچو ۱؎۔
حدثنا محمد بن خالد بن خداش، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا ايوب، ح وحدثنا احمد بن ثابت الجحدري، ويحيى بن حكيم، قالا حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن عايشة، قالت تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الاية {هو الذي انزل عليك الكتاب منه ايات محكمات هن ام الكتاب واخر متشابهات} الى قوله {وما يذكر الا اولو الالباب} . فقال " يا عايشة اذا رايتم الذين يجادلون فيه فهم الذين عناهم الله فاحذروهم
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ہدایت پر رہنے کے بعد گمراہ اس وقت ہوئی جب وہ «جدال» ( بحث اور جھگڑے ) میں مبتلا ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: «بل هم قوم خصمون» بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں ( سورة الزخرف: 58 ) ۱؎۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، ح وحدثنا حوثرة بن محمد، حدثنا محمد بن بشر، قالا حدثنا حجاج بن دينار، عن ابي غالب، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ضل قوم بعد هدى كانوا عليه الا اوتوا الجدل " . ثم تلا هذه الاية {بل هم قوم خصمون}
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کسی بدعتی کا روزہ، نماز، صدقہ و زکاۃ، حج، عمرہ، جہاد، نفل و فرض کچھ بھی قبول نہیں کرتا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جاتا ہے جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے ۔
حدثنا داود بن سليمان العسكري، حدثنا محمد بن علي ابو هاشم بن ابي خداش الموصلي، قال حدثنا محمد بن محصن، عن ابراهيم بن ابي عبلة، عن عبد الله بن الديلمي، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقبل الله لصاحب بدعة صوما ولا صلاة ولا صدقة ولا حجا ولا عمرة ولا جهادا ولا صرفا ولا عدلا يخرج من الاسلام كما تخرج الشعرة من العجين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کسی بدعتی کا عمل قبول نہیں فرماتا جب تک کہ وہ اپنی بدعت ترک نہ کر دے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا بشر بن منصور الخياط، عن ابي زيد، عن ابي المغيرة، عن عبد الله بن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابى الله ان يقبل عمل صاحب بدعة حتى يدع بدعته
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور وہ باطل پر تھا تو اس کے لیے جنت کے کناروں میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود بحث اور کٹ حجتی چھوڑ دی اس کے لیے جنت کے بیچ میں محل بنایا جائے گا، اور جس نے اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مزین کیا اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل بنایا جائے گا ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، وهارون بن اسحاق، قالا حدثنا ابن ابي فديك، عن سلمة بن وردان، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك الكذب وهو باطل بني له قصر في ربض الجنة ومن ترك المراء وهو محق بني له في وسطها ومن حسن خلقه بني له في اعلاها
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں مٹائے گا کہ اسے یک بارگی لوگوں سے چھین لے گا، بلکہ اسے علماء کو موت دے کر مٹائے گا، جب اللہ تعالیٰ کسی بھی عالم کو باقی اور زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے، اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، تو گمراہ ہوں گے، اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا عبد الله بن ادريس، وعبدة، وابو معاوية وعبد الله بن نمير ومحمد بن بشر ح وحدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، ومالك بن انس، وحفص بن ميسرة، وشعيب بن اسحاق، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من الناس ولكن يقبض العلم بقبض العلماء فاذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسيلوا فافتوا بغير علم فضلوا واضلوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے ( بغیر تحقیق کے ) کوئی غلط فتویٰ دیا گیا ( اور اس نے اس پر عمل کیا ) تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن يزيد، عن سعيد بن ابي ايوب، حدثني ابو هاني، حميد بن هاني الخولاني عن ابي عثمان، مسلم بن يسار عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من افتي بفتيا غير ثبت فانما اثمه على من افتاه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم تین طرح کا ہے، اور جو اس کے علاوہ ہے وہ زائد قسم کا ہے: محکم آیات ۱؎، صحیح ثابت سنت ۲؎، اور منصفانہ وراثت ۳؎ ۔
حدثنا محمد بن العلاء الهمداني، حدثني رشدين بن سعد، وجعفر بن عون، عن ابن انعم، - هو الافريقي - عن عبد الرحمن بن رافع، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العلم ثلاثة فما وراء ذلك فهو فضل اية محكمة او سنة قايمة او فريضة عادلة
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یمن بھیجا تو فرمایا: جن امور و مسائل کا تمہیں علم ہو انہیں کے بارے میں فیصلے کرنا، اگر کوئی معاملہ تمہارے اوپر مشتبہ ہو جائے تو ٹھہرنا انتظار کرنا یہاں تک کہ تم اس کی حقیقت معلوم کر لو، یا اس سلسلہ میں میرے پاس لکھو ۔
حدثنا الحسن بن حماد، سجادة حدثنا يحيى بن سعيد الاموي، عن محمد بن سعيد بن حسان، عن عبادة بن نسى، عن عبد الرحمن بن غنم، حدثنا معاذ بن جبل، قال لما بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن قال " لا تقضين ولا تفصلن الا بما تعلم فان اشكل عليك امر فقف حتى تبينه او تكتب الى فيه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بنی اسرائیل کا معاملہ ہمیشہ ٹھیک ٹھاک رہا یہاں تک کہ ان میں وہ لوگ پیدا ہو گئے جو جنگ میں حاصل شدہ عورتوں کی اولاد تھے، انہوں نے رائے ( قیاس ) سے فتوی دینا شروع کیا، تو وہ خود بھی گمراہ ہوئے، اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا ابن ابي الرجال، عن عبد الرحمن بن عمرو الاوزاعي، عن عبدة بن ابي لبابة، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لم يزل امر بني اسراييل معتدلا حتى نشا فيهم المولدون ابناء سبايا الامم فقالوا بالراى فضلوا واضلوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے ( شاخیں ) ہیں، ان میں سے ادنی ( سب سے چھوٹا ) شعبہ ۱؎ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے، اور سب سے اعلیٰ اور بہتر شعبہ «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہنا ہے، اور شرم و حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۲؎۔
حدثنا علي بن محمد الطنافسي، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايمان بضع وستون او سبعون بابا ادناها اماطة الاذى عن الطريق وارفعها قول لا اله الا الله والحياء شعبة من الايمان " . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، ح وحدثنا عمرو بن رافع، حدثنا جرير، عن سهيل، جميعا عن عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے سلسلے میں ملامت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، ومحمد بن عبد الله بن يزيد، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يعظ اخاه في الحياء فقال " ان الحياء شعبة من الايمان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر تکبر ( گھمنڈ ) ہو گا وہ جنت میں نہیں داخل ہو گا، اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہیں داخل ہو گا ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، ح وحدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا سعيد بن مسلمة، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر ولا يدخل النار من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ مومنوں کو جہنم سے نجات دیدے گا، اور وہ امن میں ہو جائیں گے تو وہ اپنے ان بھائیوں کی نجات کے لیے جو جہنم میں داخل کر دئیے گئے ہوں گے، اپنے رب سے ایسی بحث و تکرار کریں گے ۱؎ کہ کسی نے دنیا میں اپنے حق کے لیے اپنے ساتھی سے بھی ویسا نہیں کیا ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! یہ ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، روزہ رکھتے تھے، اور حج کرتے تھے، تو نے ان کو جہنم میں داخل کر دیا! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ ان میں سے جنہیں تم پہچانتے ہو نکال لو ، وہ مومن ان جہنمیوں کے پاس آئیں گے، اور انہیں ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، آگ ان کی صورتوں کو نہیں کھائے ہو گی، کسی کو آگ نے اس کی آدھی پنڈلیوں تک اور کسی کو ٹخنوں تک پکڑ لیا ہو گا، پھر وہ مومن ان کو جہنم سے نکالیں گے اور عرض کریں گے: اے ہمارے رب! جن کو تو نے نکالنے کا حکم دیا تھا ہم نے ان کو نکال لیا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس شخص کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان ہو اس کو بھی جہنم سے نکال لو، پھر جس کے دل میں آدھا دینار کے برابر ایمان ہو، پھر جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس کو اس پر یقین نہ آئے وہ اس آیت کو پڑھ لے: «إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها ويؤت من لدنه أجرا عظيما» یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے، اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے ( سورة النساء: 40 ) ۲؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا خلص الله المومنين من النار وامنوا فما مجادلة احدكم لصاحبه في الحق يكون له في الدنيا اشد مجادلة من المومنين لربهم في اخوانهم الذين ادخلوا النار . قال يقولون ربنا اخواننا كانوا يصلون معنا ويصومون معنا ويحجون معنا فادخلتهم النار . فيقول اذهبوا فاخرجوا من عرفتم منهم فياتونهم فيعرفونهم بصورهم لا تاكل النار صورهم فمنهم من اخذته النار الى انصاف ساقيه ومنهم من اخذته الى كعبيه فيخرجونهم فيقولون ربنا اخرجنا من قد امرتنا . ثم يقول اخرجوا من كان في قلبه وزن دينار من الايمان ثم من كان في قلبه وزن نصف دينار ثم من كان في قلبه مثقال حبة من خردل " . قال ابو سعيد فمن لم يصدق هذا فليقرا {ان الله لا يظلم مثقال ذرة وان تك حسنة يضاعفها ويوت من لدنه اجرا عظيما}