Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنی موت کے بعد جو چیزیں دنیا میں چھوڑ جاتا ہے ان میں سے بہترین چیزیں تین ہیں: نیک اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعائے خیر کرتی رہے، صدقہ جاریہ جس سے نفع جاری رہے، اس کا ثواب اسے پہنچتا رہے گا، اور ایسا علم کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا رہے ۔
حدثنا اسماعيل بن ابي كريمة الحراني، حدثنا محمد بن سلمة، عن ابي عبد الرحيم، حدثني زيد بن ابي انيسة، عن زيد بن اسلم، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير ما يخلف الرجل من بعده ثلاث ولد صالح يدعو له وصدقة تجري يبلغه اجرها وعلم يعمل به من بعده " . قال ابو الحسن وحدثنا ابو حاتم، حدثنا محمد بن يزيد بن سنان الرهاوي، حدثنا يزيد بن سنان، - يعني اباه - حدثني زيد بن ابي انيسة، عن فليح بن سليمان، عن زيد بن اسلم، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے وہ یہ ہیں: علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا، نیک اور صالح اولاد جو چھوڑ گیا، وراثت میں قرآن مجید چھوڑ گیا، کوئی مسجد بنا گیا، یا مسافروں کے لیے کوئی مسافر خانہ بنوا دیا ہو، یا کوئی نہر جاری کر گیا، یا زندگی اور صحت و تندرستی کی حالت میں اپنے مال سے کوئی صدقہ نکالا ہو، تو اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن وهب بن عطية، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا مرزوق بن ابي الهذيل، حدثني الزهري، حدثني ابو عبد الله الاغر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان مما يلحق المومن من عمله وحسناته بعد موته علما علمه ونشره وولدا صالحا تركه ومصحفا ورثه او مسجدا بناه او بيتا لابن السبيل بناه او نهرا اجراه او صدقة اخرجها من ماله في صحته وحياته يلحقه من بعد موته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر اور افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان علم دین سیکھے، پھر اسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب المدني، حدثني اسحاق بن ابراهيم، عن صفوان بن سليم، عن عبيد الله بن طلحة، عن الحسن البصري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " افضل الصدقة ان يتعلم المرء المسلم علما ثم يعلمه اخاه المسلم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ کبھی آپ کے پیچھے پیچھے دو آدمی چلتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سويد بن عمرو، عن حماد بن سلمة، عن ثابت، عن شعيب بن عبد الله بن عمرو، عن ابيه، قال ما ريي رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل متكيا قط ولا يطا عقبيه رجلان . قال ابو الحسن وحدثنا خازم بن يحيى، حدثنا ابراهيم بن الحجاج السامي، حدثنا حماد بن سلمة، قال ابو الحسن وحدثنا ابراهيم بن نصر الهمداني، صاحب القفيز حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة،
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن میں بقیع غرقد نامی مقبرہ سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں کی چاپ سنی تو آپ کے دل میں خیال آیا، آپ بیٹھ گئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے سے آگے کر لیا کہ کہیں آپ کے دل میں کچھ تکبر نہ آ جائے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا معان بن رفاعة، حدثني علي بن يزيد، قال سمعت القاسم بن عبد الرحمن، يحدث عن ابي امامة، قال مر النبي صلى الله عليه وسلم في يوم شديد الحر نحو بقيع الغرقد وكان الناس يمشون خلفه فلما سمع صوت النعال وقر ذلك في نفسه فجلس حتى قدمهم امامه ليلا يقع في نفسه شىء من الكبر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے چلتے اور آپ کی پیٹھ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن الاسود بن قيس، عن نبيح العنزي، عن جابر بن عبد الله، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا مشى مشى اصحابه امامه وتركوا ظهره للملايكة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس کچھ لوگ علم حاصل کرنے آئیں گے، لہٰذا جب تم ان کو دیکھو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق انہیں «مرحبا» ( خوش آمدید ) کہو، اور انہیں علم سکھاؤ ۔ محمد بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حکم سے پوچھا کہ «اقنوهم» کے کیا معنی ہیں، تو انہوں نے کہا: «علموهم»، یعنی انہیں علم سکھلاؤ۔
حدثنا محمد بن الحارث بن راشد المصري، حدثنا الحكم بن عبدة، عن ابي هارون العبدي، عن ابي سعيد الخدري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " سياتيكم اقوام يطلبون العلم فاذا رايتموهم فقولوا لهم مرحبا مرحبا بوصية رسول الله صلى الله عليه وسلم واقنوهم " . قلت للحكم ما اقنوهم قال علموهم
اسماعیل (اسماعیل بن مسلم) کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر کہا: ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، تو انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے، اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں دیکھا تو اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر فرمایا: عنقریب میرے بعد کچھ لوگ طلب علم کے لیے آئیں گے، تو تم انہیں مرحبا کہنا، مبارکباد پیش کرنا، اور انہیں علم دین سکھانا ۔ پھر حسن بصری کہتے ہیں: قسم اللہ کی ( طلب علم میں ) ہمارا بہت سے ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا کہ انہوں نے نہ تو ہمیں مرحبا کہا، نہ ہمیں مبارکباد دی، اور نہ ہی ہمیں علم دین سکھایا، اس پر مزید یہ کہ جب ہم ان کے پاس جاتے تو وہ ہمارے ساتھ بری طرح پیش آتے۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا المعلى بن هلال، عن اسماعيل، قال دخلنا على الحسن نعوده حتى ملانا البيت فقبض رجليه ثم قال دخلنا على ابي هريرة نعوده حتى ملانا البيت فقبض رجليه ثم قال دخلنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ملانا البيت وهو مضطجع لجنبه فلما رانا قبض رجليه ثم قال " انه سياتيكم اقوام من بعدي يطلبون العلم فرحبوا بهم وحيوهم وعلموهم " . قال فادركنا والله اقواما ما رحبوا بنا ولا حيونا ولا علمونا الا بعد ان كنا نذهب اليهم فيجفونا
ہارون عبدی کہتے ہیں کہ جب ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو وہ فرماتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: لوگ تمہارے پیچھے ہیں، اور عنقریب وہ تمہارے پاس زمین کے مختلف گوشوں سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے، لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عمرو بن محمد العنقزي، انبانا سفيان، عن ابي هارون العبدي، قال كنا اذا اتينا ابا سعيد الخدري قال مرحبا بوصية رسول الله صلى الله عليه وسلم . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا " ان الناس لكم تبع وانهم سياتونكم من اقطار الارض يتفقهون في الدين فاذا جاءوكم فاستوصوا بهم خيرا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی: «اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن دعا لا يسمع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع» اے اللہ! میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے، اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے، اور اس دل سے جو ( اللہ سے ) نہ ڈرے، اور اس نفس سے جو آسودہ نہ ہوتا ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، قال كان من دعاء النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم اني اعوذ بك من علم لا ينفع ومن دعاء لا يسمع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! میرے لیے اس چیز کو نفع بخش اور مفید بنا دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے، مجھے وہ چیز سکھا دے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو، اور میرا علم زیادہ کر دے، اور ہر حال میں ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن موسى بن عبيدة، عن محمد بن ثابت، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے علم دین کو جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہوتی ہے محض کسی دنیاوی فائدہ کے لیے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، وسريج بن النعمان، قالا حدثنا فليح بن سليمان، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر ابي طوالة، عن سعيد بن يسار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله لا يتعلمه الا ليصيب به عرضا من الدنيا لم يجد عرف الجنة يوم القيامة " . يعني ريحها . قال ابو الحسن انبانا ابو حاتم، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا فليح بن سليمان، فذكر نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے علم سیکھا تاکہ بے وقوفوں سے بحث و مباحثہ کرے، یا علماء پر فخر کرے، یا لوگوں کو اپنی جانب مائل کرے، تو وہ جہنم میں ہو گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حماد بن عبد الرحمن، حدثنا ابو كرب الازدي، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من طلب العلم ليماري به السفهاء او ليباهي به العلماء او ليصرف وجوه الناس اليه فهو في النار
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لیے نہ سیکھو، اور علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ، جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے جہنم ہے، جہنم ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابن ابي مريم، انبانا يحيى بن ايوب، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تعلموا العلم لتباهوا به العلماء ولا لتماروا به السفهاء ولا تخيروا به المجالس فمن فعل ذلك فالنار النار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میری امت کے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کریں گے، قرآن پڑھیں گے، اور کہیں گے کہ ہم امراء و حکام کے پاس چلیں اور ان کی دنیا سے کچھ حصہ حاصل کریں، پھر ہم اپنے دین کے ساتھ ان سے الگ ہو جائیں گے، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) یہ بات ہونے والی نہیں ہے، جس طرح کانٹے دار درخت سے کانٹا ہی چنا جا سکتا ہے، اسی طرح ان کی قربت سے صرف… چنا جا سکتا ہے ۔ محمد بن صباح راوی نے کہا: گویا آپ نے ( گناہ ) مراد لیا۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا الوليد بن مسلم، عن يحيى بن عبد الرحمن الكندي، عن عبيد الله بن ابي بردة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اناسا من امتي سيتفقهون في الدين ويقرءون القران ويقولون ناتي الامراء فنصيب من دنياهم ونعتزلهم بديننا . ولا يكون ذلك كما لا يجتنى من القتاد الا الشوك كذلك لا يجتنى من قربهم الا " . قال محمد بن الصباح كانه يعني الخطايا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب الحزن» سے اللہ کی پناہ مانگو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان قراء کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اپنے اعمال میں ریاکاری کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین قاری وہ ہیں جو مالداروں کا چکر کاٹتے ہیں ۔ محاربی کہتے ہیں: امراء سے مراد ظالم حکمران ہیں۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي، حدثنا عمار بن سيف، عن ابي معاذ البصري، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا اسحاق بن منصور، عن عمار بن سيف، عن ابي معاذ، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعوذوا بالله من جب الحزن " . قالوا يا رسول الله وما جب الحزن قال " واد في جهنم يتعوذ منه جهنم كل يوم اربعماية مرة " . قالوا يا رسول الله ومن يدخله قال " اعد للقراء المرايين باعمالهم وان من ابغض القراء الى الله الذين يزورون الامراء " . قال المحاربي الجورة . قال ابو الحسن حدثنا حازم بن يحيى حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ومحمد بن نمير قالا حدثنا ابن نمير عن معاوية النصري وكان ثقة ثم ذكر الحديث نحوه باسناده . حدثنا ابراهيم بن نصر، حدثنا ابو غسان، مالك بن اسماعيل حدثنا عمار بن سيف، عن ابي معاذ، . قال مالك بن اسماعيل قال عمار لا ادري محمد او انس بن سيرين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر اہل علم علم کی حفاظت کرتے، اور اس کو اس کے اہل ہی کے پاس رکھتے تو وہ اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوتے، لیکن ان لوگوں نے دنیا طلبی کے لیے اہل دنیا پر علم کو نچھاور کیا، تو ان کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنی تمام تر سوچوں کو ایک سوچ یعنی آخرت کی سوچ بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی غموں کے لیے کافی ہو گا، اور جس کی تمام تر سوچیں دنیاوی احوال میں پریشان رہیں، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو جائے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، والحسين بن عبد الرحمن، قالا حدثنا عبد الله بن نمير، عن معاوية النصري، عن نهشل، عن الضحاك، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، قال لو ان اهل العلم، صانوا العلم ووضعوه عند اهله لسادوا به اهل زمانهم ولكنهم بذلوه لاهل الدنيا لينالوا به من دنياهم فهانوا عليهم سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم يقول " من جعل الهموم هما واحدا هم اخرته كفاه الله هم دنياه ومن تشعبت به الهموم في احوال الدنيا لم يبال الله في اى اوديتها هلك " . قال ابو الحسن حدثنا خازم بن يحيى، حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن عبد الله بن نمير، قالا حدثنا ابن نمير، عن معاوية النصري، - وكان ثقة - ثم ذكر الحديث نحوه باسناده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے غیر اللہ کے لیے علم طلب کیا، یا اللہ کے علاوہ کی ( رضا مندی ) چاہی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم کو بنا لے ۔
حدثنا زيد بن اخزم، وابو بدر عباد بن الوليد قالا حدثنا محمد بن عباد الهنايي، حدثنا علي بن المبارك الهنايي، عن ايوب السختياني، عن خالد بن دريك، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من طلب العلم لغير الله او اراد به غير الله فليتبوا مقعده من النار
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کرنے یا لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نہ سیکھو، جس نے ایسا کیا اس کا ٹھکانا جہنم میں ہو گا ۔
حدثنا احمد بن عاصم العباداني، حدثنا بشير بن ميمون، قال سمعت اشعث بن سوار، عن ابن سيرين، عن حذيفة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تعلموا العلم لتباهوا به العلماء او لتماروا به السفهاء او لتصرفوا وجوه الناس اليكم فمن فعل ذلك فهو في النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم کو علماء پر فخر کرنے، اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرنے، اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سیکھا، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا ۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، انبانا وهب بن اسماعيل الاسدي، حدثنا عبد الله بن سعيد المقبري، عن جده، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تعلم العلم ليباهي به العلماء ويماري به السفهاء ويصرف به وجوه الناس اليه ادخله الله جهنم