Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر ( بھلائی ) انسان کی فطری عادت ہے، اور شر ( برائی ) نفس کی خصومت ہے، اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا مروان بن جناح، عن يونس بن ميسرة بن حلبس، انه حدثه قال سمعت معاوية بن ابي سفيان، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " الخير عادة والشر لجاجة ومن يرد الله به خيرا يفقهه في الدين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا روح بن جناح ابو سعد، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فقيه واحد اشد على الشيطان من الف عابد
کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابوالدرداء! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ سے ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث روایت کرتے ہیں؟! ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ کی آمد کا سبب تجارت تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، کہا: کوئی اور مقصد تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص علم دین کی تلاش میں کوئی راستہ چلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الله بن داود، عن عاصم بن رجاء بن حيوة، عن داود بن جميل، عن كثير بن قيس، قال كنت جالسا عند ابي الدرداء في مسجد دمشق فاتاه رجل فقال يا ابا الدرداء اتيتك من المدينة مدينة رسول الله صلى الله عليه وسلم لحديث بلغني انك تحدث به عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال فما جاء بك تجارة قال لا . قال ولا جاء بك غيره قال لا . قال فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له طريقا الى الجنة وان الملايكة لتضع اجنحتها رضا لطالب العلم وان طالب العلم يستغفر له من في السماء والارض حتى الحيتان في الماء وان فضل العالم على العابد كفضل القمر على ساير الكواكب ان العلماء هم ورثة الانبياء ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما انما ورثوا العلم فمن اخذه اخذ بحظ وافر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نااہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حفص بن سليمان، حدثنا كثير بن شنظير، عن محمد بن سيرين، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " طلب العلم فريضة على كل مسلم وواضع العلم عند غير اهله كمقلد الخنازير الجوهر واللولو والذهب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دور کر دیا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے بعض پریشانیاں دور فرما دے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو چھپایا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے عیب کو چھپائے گا، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے، اور جب بھی اللہ تعالیٰ کے کسی گھر میں کچھ لوگ اکٹھا ہو کر قرآن کریم پڑھتے ہیں یا ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں، تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا، تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نفس عن مومن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله في الدنيا والاخرة ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والاخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه ومن سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له به طريقا الى الجنة وما اجتمع قوم في بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم الا حفتهم الملايكة ونزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وذكرهم الله فيمن عنده ومن ابطا به عمله لم يسرع به نسبه
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: کس لیے آئے ہو؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے کے لیے، صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنے گھر سے علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن عاصم بن ابي النجود، عن زر بن حبيش، قال اتيت صفوان بن عسال المرادي فقال ما جاء بك قلت انبط العلم . قال فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من خارج خرج من بيته في طلب العلم الا وضعت له الملايكة اجنحتها رضا بما يصنع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری اس مسجد میں صرف خیر ( علم دین ) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کی نظر دوسروں کی متاع پر لگی ہوتی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن حميد بن صخر، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من جاء مسجدي هذا لم ياته الا لخير يتعلمه او يعلمه فهو بمنزلة المجاهد في سبيل الله ومن جاء لغير ذلك فهو بمنزلة الرجل ينظر الى متاع غيره
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے ، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا، اور فرمایا: عالم اور متعلم ( سیکھنے اور سکھانے والے ) دونوں ثواب میں شریک ہیں، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا عثمان بن ابي عاتكة، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكم بهذا العلم قبل ان يقبض وقبضه ان يرفع " . وجمع بين اصبعيه الوسطى والتي تلي الابهام هكذا ثم قال " العالم والمتعلم شريكان في الاجر ولا خير في ساير الناس
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی کمرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے، ایک تلاوت قرآن اور ذکرو دعا میں مشغول تھا، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، پھر انہیں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا داود بن الزبرقان، عن بكر بن خنيس، عن عبد الرحمن بن زياد، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم من بعض حجره فدخل المسجد فاذا هو بحلقتين احداهما يقرءون القران ويدعون الله والاخرى يتعلمون ويعلمون فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كل على خير هولاء يقرءون القران ويدعون الله فان شاء اعطاهم وان شاء منعهم وهولاء يتعلمون ويعلمون وانما بعثت معلما " . فجلس معهم
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اس لیے کہ بعض علم رکھنے والے خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بعض علم کو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں اتنا مزید کہا: تین چیزیں ہیں کہ ان میں کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، ہر نیک کام محض اللہ کی رضا کے لیے کرنا، مسلمانوں کے اماموں اور سرداروں کی خیر خواہی چاہنا، مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنا، ان سے جدا نہ ہونا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا ليث بن ابي سليم، عن يحيى بن عباد ابي هبيرة الانصاري، عن ابيه، عن زيد بن ثابت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نضر الله امرا سمع مقالتي فبلغها فرب حامل فقه غير فقيه ورب حامل فقه الى من هو افقه منه " . زاد فيه علي بن محمد " ثلاث لا يغل عليهن قلب امري مسلم اخلاص العمل لله والنصح لايمة المسلمين ولزوم جماعتهم
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی مسجد خیف میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بہت سے وہ ہیں جو علم کو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، عن محمد بن اسحاق، عن عبد السلام، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالخيف من منى فقال " نضر الله امرا سمع مقالتي فبلغها فرب حامل فقه غير فقيه ورب حامل فقه الى من هو افقه منه " . حدثنا علي بن محمد، حدثنا خالي، يعلى ح وحدثنا هشام بن عمار، حدثنا سعيد بن يحيى، قالا حدثنا محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن الوليد، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سماك، عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " نضر الله امرا سمع منا حديثا فبلغه فرب مبلغ احفظ من سامع
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو خطبہ دیا اور فرمایا: یہ باتیں حاضرین مجلس ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، اس لیے کہ بہت سے لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اس بارے میں ہوشمند اور باشعور ہوتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، - املاه علينا - حدثنا قرة بن خالد، حدثنا محمد بن سيرين، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، وعن رجل، اخر هو افضل في نفسي من عبد الرحمن عن ابي بكرة قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم النحر فقال " ليبلغ الشاهد الغايب فانه رب مبلغ يبلغه اوعى له من سامع
معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! حاضرین یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، ح وحدثنا اسحاق بن منصور، انبانا النضر بن شميل، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، معاوية القشيري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا ليبلغ الشاهد الغايب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں انہیں چاہیئے کہ جو لوگ یہاں حاضر نہیں ہیں، ان تک ( جو کچھ انہوں نے سنا ہے ) پہنچا دیں ۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، حدثني قدامة بن موسى، عن محمد بن الحصين التميمي، عن ابي علقمة، مولى ابن عباس عن يسار، مولى ابن عمر عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليبلغ شاهدكم غايبكم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی، اور اسے محفوظ رکھا، پھر میری جانب سے اسے اوروں کو پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بہت سے علم دین رکھنے والے اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا مبشر بن اسماعيل الحلبي، عن معان بن رفاعة، عن عبد الوهاب بن بخت المكي، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نضر الله عبدا سمع مقالتي فوعاها ثم بلغها عني فرب حامل فقه غير فقيه ورب حامل فقه الى من هو افقه منه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض لوگ خیر کی کنجی اور برائی کے قفل ہوتے ہیں ۱؎ اور بعض لوگ برائی کی کنجی اور خیر کے قفل ہوتے ہیں، تو اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجیاں رکھ دیں ہیں، اور اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجیاں رکھ دی ہیں ۱؎۔
حدثنا الحسين بن الحسن المروزي، انبانا محمد بن ابي عدي، حدثنا محمد بن ابي حميد، حدثنا حفص بن عبيد الله بن انس، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من الناس مفاتيح للخير مغاليق للشر وان من الناس مفاتيح للشر مغاليق للخير فطوبى لمن جعل الله مفاتيح الخير على يديه وويل لمن جعل الله مفاتيح الشر على يديه
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خیر خزانے ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو ۔
حدثنا هارون بن سعيد الايلي ابو جعفر، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان هذا الخير خزاين ولتلك الخزاين مفاتيح فطوبى لعبد جعله الله مفتاحا للخير مغلاقا للشر وويل لعبد جعله الله مفتاحا للشر مغلاقا للخير
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عالم کے لیے آسمان و زمین کی تمام مخلوق مغفرت طلب کرتی ہے، یہاں تک کہ سمندر میں مچھلیاں بھی ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حفص بن عمر، عن عثمان بن عطاء، عن ابيه، عن ابي الدرداء، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انه ليستغفر للعالم من في السموات ومن في الارض حتى الحيتان في البحر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو علم دین سکھایا، تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس شخص کو جو اس پر عمل کرے، اور عمل کرنے والے کے ثواب سے کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔
حدثنا احمد بن عيسى المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، عن يحيى بن ايوب، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من علم علما فله اجر من عمل به لا ينقص من اجر العامل