احادیث
#257
سنن ابن ماجہ - Sunnah (Introduction)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر اہل علم علم کی حفاظت کرتے، اور اس کو اس کے اہل ہی کے پاس رکھتے تو وہ اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوتے، لیکن ان لوگوں نے دنیا طلبی کے لیے اہل دنیا پر علم کو نچھاور کیا، تو ان کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنی تمام تر سوچوں کو ایک سوچ یعنی آخرت کی سوچ بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی غموں کے لیے کافی ہو گا، اور جس کی تمام تر سوچیں دنیاوی احوال میں پریشان رہیں، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو جائے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، والحسين بن عبد الرحمن، قالا حدثنا عبد الله بن نمير، عن معاوية النصري، عن نهشل، عن الضحاك، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، قال لو ان اهل العلم، صانوا العلم ووضعوه عند اهله لسادوا به اهل زمانهم ولكنهم بذلوه لاهل الدنيا لينالوا به من دنياهم فهانوا عليهم سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم يقول " من جعل الهموم هما واحدا هم اخرته كفاه الله هم دنياه ومن تشعبت به الهموم في احوال الدنيا لم يبال الله في اى اوديتها هلك " . قال ابو الحسن حدثنا خازم بن يحيى، حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن عبد الله بن نمير، قالا حدثنا ابن نمير، عن معاوية النصري، - وكان ثقة - ثم ذكر الحديث نحوه باسناده
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Sunnah (Introduction)
- Hadith Index
- #257
- Book Index
- 257
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiHasan
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
