Loading...

Loading...
کتب
۶۲ احادیث
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے ( اس ) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کر دیا ہے ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، ان ابا عشانة المعافري، حدثه عن عقبة بن عامر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يعجب ربك من راعي غنم في راس شظية الجبل يوذن بالصلاة ويصلي فيقول الله عز وجل انظروا الى عبدي هذا يوذن ويقيم الصلاة يخاف مني قد غفرت لعبدي وادخلته الجنة
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، قال حدثنا يحيى بن علي بن يحيى بن خلاد بن رفاعة بن رافع الزرقي، عن ابيه، عن جده، عن رفاعة بن رافع، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بينا هو جالس في صف الصلاة الحديث
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ «قد قامت الصلاة» کہتے تو اسے دو بار کہتے، چنانچہ جب ہم «قد قامت الصلاة» سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن تميم، قال حدثنا حجاج، عن شعبة، قال سمعت ابا جعفر، موذن مسجد العريان عن ابي المثنى، موذن مسجد الجامع قال سالت ابن عمر عن الاذان، فقال كان الاذان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مثنى مثنى والاقامة مرة مرة الا انك اذا قلت قد قامت الصلاة قالها مرتين فاذا سمعنا قد قامت الصلاة توضانا ثم خرجنا الى الصلاة
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت آ جائے تو تم دونوں اذان دو، پھر دونوں اقامت کہو، پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک امامت کرے ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولصاحب لي " اذا حضرت الصلاة فاذنا ثم اقيما ثم ليومكما احدكما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ۱؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان ( کی آواز ) نہ سنے، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو ( پھر ) آ جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے ( کہ ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا نودي للصلاة ادبر الشيطان وله ضراط حتى لا يسمع التاذين فاذا قضي النداء اقبل حتى اذا ثوب بالصلاة ادبر حتى اذا قضي التثويب اقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه يقول اذكر كذا اذكر كذا لما لم يكن يذكر حتى يظل المرء ان يدري كم صلى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان دینے میں اور پہلی صف میں رہنے میں کیا ثواب ہے، پھر قرعہ اندازی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے، نیز اگر وہ جان لیں ( کہ ) ظہر اول وقت پر پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے، اور اگر وہ اس ثواب کو جان لیں جو عشاء اور فجر میں ہے تو وہ ان دونوں صلاتوں میں ضرور آئیں گے، گو چوتڑ کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو يعلم الناس ما في النداء والصف الاول ثم لم يجدوا الا ان يستهموا عليه لاستهموا عليه ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا اليه ولو علموا ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے امام ہو ( لیکن ) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ۱؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عفان، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال حدثنا سعيد الجريري، عن ابي العلاء، عن مطرف، عن عثمان بن ابي العاص، قال قلت يا رسول الله اجعلني امام قومي . فقال " انت امامهم واقتد باضعفهم واتخذ موذنا لا ياخذ على اذانه اجرا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول الموذن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، ان بكير بن الاشج، حدثه ان علي بن خالد الزرقي حدثه ان النضر بن سفيان حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام بلال ينادي فلما سكت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال مثل هذا يقينا دخل الجنة
مجمع بن یحییٰ انصاری کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، اور اس نے کہا: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «اللہ أكبر اللہ أكبر» کہا، پھر اس نے «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا، پھر اس نے «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کہتے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، انبانا عبد الله بن المبارك، عن مجمع بن يحيى الانصاري، قال كنت جالسا عند ابي امامة بن سهل بن حنيف فاذن الموذن فقال الله اكبر الله اكبر فكبر اثنتين فقال اشهد ان لا اله الا الله فتشهد اثنتين فقال اشهد ان محمدا رسول الله فتشهد اثنتين ثم قال حدثني هكذا معاوية بن ابي سفيان عن قول رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا تو جیسے اس نے کہا ویسے ہی آپ نے بھی کہا۔
اخبرنا محمد بن قدامة، حدثنا جرير، عن مسعر، عن مجمع، عن ابي امامة بن سهل، قال سمعت معاوية، - رضى الله عنه - يقول سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمع الموذن فقال مثل ما قال
علقمہ بن وقاص کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، تو آپ ویسے ہی کہتے رہے جیسے مؤذن کہہ رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے «حى على الصلاة» کہا تو انہوں نے: «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا، پھر جب اس نے «حى على الفلاح» کہا تو انہوں نے: «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا، اور اس کے بعد مؤذن جس طرح کہتا رہا وہ بھی ویسے کہتے رہے پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کہتے ہوئے سنا ہے۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، وابراهيم بن الحسن المقسمي، قالا حدثنا حجاج، قال ابن جريج اخبرني عمرو بن يحيى، ان عيسى بن عمر، اخبره عن عبد الله بن علقمة بن وقاص، عن علقمة بن وقاص، قال اني عند معاوية اذ اذن موذنه فقال معاوية كما قال الموذن حتى اذا قال حى على الصلاة قال لا حول ولا قوة الا بالله فلما قال حى على الفلاح قال لا حول ولا قوة الا بالله وقال بعد ذلك ما قال الموذن ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول مثل ذلك
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے، اور مجھ پر صلاۃ و سلام ۱؎ بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ ۲؎ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا، اس پر میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۳؎۔
اخبرنا سويد، قال انبانا عبد الله، عن حيوة بن شريح، ان كعب بن علقمة، سمع عبد الرحمن بن جبير، مولى نافع بن عمرو القرشي يحدث انه سمع عبد الله بن عمرو، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سمعتم الموذن فقولوا مثل ما يقول وصلوا على فانه من صلى على صلاة صلى الله عليه عشرا ثم سلوا الله لي الوسيلة فانها منزلة في الجنة لا تنبغي الا لعبد من عباد الله ارجو ان اكون انا هو فمن سال لي الوسيلة حلت له الشفاعة
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن ( کی اذان ) سن کر یہ کہا: «وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
اخبرنا قتيبة، عن الليث، عن الحكيم بن عبد الله، عن عامر بن سعد، عن سعد بن ابي وقاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يسمع الموذن وانا اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالاسلام دينا غفر له ذنبه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «اللہم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته إلا حلت له شفاعتي يوم القيامة» اے اللہ! اس کامل پکار اور قائم رہنے والی صلاۃ کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ ۱؎ اور فضیلت ۲؎ عطا فرما، اور مقام محمود ۳؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ۴؎ تو قیامت کے دن اس پر میری شفاعت نازل ہو گی ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا علي بن عياش، قال حدثنا شعيب، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القايمة ات محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته الا حلت له شفاعتي يوم القيامة
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، عن يحيى، عن كهمس، قال حدثنا عبد الله بن بريدة، عن عبد الله بن مغفل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بين كل اذانين صلاة بين كل اذانين صلاة بين كل اذانين صلاة لمن شاء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مؤذن جب اذان دیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوتے، اور ستون کے پاس جانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے، اور نماز پڑھتے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلتے، اور وہ اسی طرح ( نماز کی حالت میں ) ہوتے، اور مغرب سے پہلے بھی پڑھتے، اور اذان و اقامت کے بیچ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو عامر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن عامر الانصاري، عن انس بن مالك، قال كان الموذن اذا اذن قام ناس من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فيبتدرون السواري يصلون حتى يخرج النبي صلى الله عليه وسلم وهم كذلك ويصلون قبل المغرب ولم يكن بين الاذان والاقامة شىء
ابوالشعثاء کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے گزرنے لگا یہاں تک کہ مسجد سے باہر نکل گیا، تو انہوں نے کہا: رہا یہ شخص تو اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، عن عمر بن سعيد، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن ابيه، قال رايت ابا هريرة ومر رجل في المسجد بعد النداء حتى قطعه فقال ابو هريرة اما هذا فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کی اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے باہر نکلا، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا جعفر بن عون، عن ابي عميس، قال اخبرنا ابو صخرة، عن ابي الشعثاء، قال خرج رجل من المسجد بعد ما نودي بالصلاة فقال ابو هريرة اما هذا فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہونے سے لے کر فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے ۱؎ اور ایک اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ اتنی دیر میں تم میں کا کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے، پھر اپنا سر اٹھاتے، اور جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فجر عیاں اور ظاہر ہو جاتی تو ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آ کر آپ کو خبر کر دیتا کہ اب اقامت ہونے والی ہے، تو آپ اس کے ساتھ نکلتے۔ بعض راوی ایک دوسرے پر اس حدیث میں اضافہ کرتے ہیں۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني ابن ابي ذيب، ويونس، وعمرو بن الحارث، ان ابن شهاب، اخبرهم عن عروة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين ان يفرغ من صلاة العشاء الى الفجر احدى عشرة ركعة يسلم بين كل ركعتين ويوتر بواحدة ويسجد سجدة قدر ما يقرا احدكم خمسين اية ثم يرفع راسه فاذا سكت الموذن من صلاة الفجر وتبين له الفجر ركع ركعتين خفيفتين ثم اضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه الموذن بالاقامة فيخرج معه وبعضهم يزيد على بعض في الحديث