Loading...

Loading...
کتب
۶۲ احادیث
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر صلاۃ یعنی رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے ان کے لیے صلاۃ بھیجتے یعنی ان کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور مؤذن کو جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے بخش دیا جاتا ہے، اور خشک وتر میں سے جو بھی اسے سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو اس کے ساتھ صلاۃ پڑھیں گے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي اسحاق الكوفي، عن البراء بن عازب، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله وملايكته يصلون على الصف المقدم والموذن يغفر له بمد صوته ويصدقه من سمعه من رطب ويابس وله مثل اجر من صلى معه
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیتا تھا، اور میں فجر کی پہلی اذان ۲؎ میں کہتا تھا: «حى على الفلاح، الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم، اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ» آؤ کامیابی کی طرف، نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن سفيان، عن ابي جعفر، عن ابي سلمان، عن ابي محذورة، قال كنت اوذن لرسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت اقول في اذان الفجر الاول حى على الفلاح الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله
اس سند سے بھی سفیان سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، وعبد الرحمن، قالا حدثنا سفيان، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عبد الرحمن وليس بابي جعفر الفراء
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اذان کا آخری کلمہ «اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ» ہے۔
اخبرنا محمد بن معدان بن عيسى، قال حدثنا الحسن بن اعين، قال حدثنا زهير، قال حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن بلال، قال اخر الاذان الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله
اسود کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخری کلمات یہ تھے «اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ»۔
اخبرنا سويد، قال انبانا عبد الله، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، قال كان اخر اذان بلال الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله
اس سند سے بھی اسود سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
اخبرنا سويد، قال انبانا عبد الله، عن سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، مثل ذلك
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اذان کا آخری کلمہ «لا إله إلا اللہ» ہے۔
اخبرنا سويد، قال حدثنا عبد الله، عن يونس بن ابي اسحاق، عن محارب بن دثار، قال حدثني الاسود بن يزيد، عن ابي محذورة، ان اخر الاذان، لا اله الا الله
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ ہمیں قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو سفر میں بارش کی رات میں «حى على الصلاة، حى على الفلاح، صلوا في رحالكم» نماز کے لیے آؤ، فلاح ( کامیابی ) کے لیے آؤ، اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کہتے سنا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن اوس، يقول انبانا رجل، من ثقيف انه سمع منادي النبي، صلى الله عليه وسلم يعني في ليلة مطيرة في السفر يقول حى على الصلاة حى على الفلاح صلوا في رحالكم
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی، تو انہوں نے کہا: «ألا صلوا في الرحال» لوگو سنو! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سرد بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تو وہ کہتا: «ألا صلوا في الرحال» لوگو سنو! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، ان ابن عمر، اذن بالصلاة في ليلة ذات برد وريح فقال الا صلوا في الرحال فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامر الموذن اذا كانت ليلة باردة ذات مطر يقول الا صلوا في الرحال
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا ( اور آپ سوار ہو کر چلے ) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔
اخبرنا ابراهيم بن هارون، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، قال انبانا جعفر بن محمد، عن ابيه، ان جابر بن عبد الله، قال سار رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى اذا زاغت الشمس امر بالقصواء فرحلت له حتى اذا انتهى الى بطن الوادي خطب الناس ثم اذن بلال ثم اقام فصلى الظهر ثم اقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شييا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( عرفہ سے ) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
اخبرني ابراهيم بن هارون، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، قال حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، ان جابر بن عبد الله، قال دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتهى الى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء باذان واقامتين ولم يصل بينهما شييا
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا: عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا شريك، عن سلمة بن كهيل، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، قال كنا معه بجمع فاذن ثم اقام فصلى بنا المغرب ثم قال الصلاة . فصلى بنا العشاء ركعتين فقلت ما هذه الصلاة قال هكذا صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا المكان
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ( بھی ) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، وسلمة بن كهيل، عن سعيد بن جبير، انه صلى المغرب والعشاء بجمع باقامة واحدة ثم حدث عن ابن عمر انه صنع مثل ذلك وحدث ابن عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت سے نماز پڑھی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا اسماعيل، - وهو ابن ابي خالد - قال حدثني ابو اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بجمع باقامة واحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں ( اور ) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا ۱؎ اور ان دونوں ( نمازوں ) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، عن وكيع، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع بينهما بالمزدلفة صلى كل واحدة منهما باقامة ولم يتطوع قبل واحدة منهما ولا بعد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، ( یہ ( واقعہ ) قتال کے سلسلہ میں جو ( آیتیں ) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے ) چنانچہ اللہ عزوجل نے «وكفى اللہ المؤمنين القتال» اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہو گیا ( الاحزاب: ۲۵ ) نازل فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن ابي ذيب، قال حدثنا سعيد بن ابي سعيد، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد، عن ابيه، قال شغلنا المشركون يوم الخندق عن صلاة الظهر، حتى غربت الشمس وذلك قبل ان ينزل في القتال ما نزل فانزل الله عز وجل { وكفى الله المومنين القتال } فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بلالا فاقام لصلاة الظهر فصلاها كما كان يصليها لوقتها ثم اقام للعصر فصلاها كما كان يصليها في وقتها ثم اذن للمغرب فصلاها كما كان يصليها في وقتها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ خندق ( احزاب ) کے دن مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔
اخبرنا هناد، عن هشيم، عن ابي الزبير، عن نافع بن جبير، عن ابي عبيدة، قال قال عبد الله ان المشركين شغلوا النبي صلى الله عليه وسلم عن اربع صلوات يوم الخندق فامر بلالا فاذن ثم اقام فصلى الظهر ثم اقام فصلى العصر ثم اقام فصلى المغرب ثم اقام فصلى العشاء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی ( پھر ) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، ( پھر ) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف گھومے ( اور ) فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو ۔
اخبرنا القاسم بن زكريا بن دينار، قال حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، قال حدثنا سعيد بن ابي عروبة، قال حدثنا هشام، ان ابا الزبير المكي، حدثهم عن نافع بن جبير، ان ابا عبيدة بن عبد الله بن مسعود، حدثهم ان عبد الله بن مسعود قال كنا في غزوة فحبسنا المشركون عن صلاة الظهر والعصر والمغرب والعشاء فلما انصرف المشركون امر رسول الله صلى الله عليه وسلم مناديا فاقام لصلاة الظهر فصلينا واقام لصلاة العصر فصلينا واقام لصلاة المغرب فصلينا واقام لصلاة العشاء فصلينا ثم طاف علينا فقال " ما على الارض عصابة يذكرون الله عز وجل غيركم
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں ( تو پہچان لوں گا ) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ( رضی اللہ عنہ ) ہیں۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، ان سويد بن قيس، حدثه عن معاوية بن حديج، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوما فسلم وقد بقيت من الصلاة ركعة فادركه رجل فقال نسيت من الصلاة ركعة فدخل المسجد وامر بلالا فاقام الصلاة فصلى للناس ركعة فاخبرت بذلك الناس فقالوا لي اتعرف الرجل قلت لا الا ان اراه فمر بي فقلت هذا هو . قالوا هذا طلحة بن عبيد الله
عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے ، لوگوں نے دیکھا تو وہ ( واقعی ) بکریوں کا چرواہا نکلا۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال انبانا عبد الرحمن، عن شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن عبد الله بن ربيعة، انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فسمع صوت رجل يوذن فقال مثل قوله ثم قال ان هذا لراعي غنم او عازب عن اهله . فنظروا فاذا هو راعي غنم