Loading...

Loading...
کتب
۶۲ احادیث
کریب مولی ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد ( صلاۃ اللیل ) کیسی تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے ساتھ گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے یہاں تک کہ نیند گہری ہو گئی، پھر میں نے آپ کو خراٹے لیتے ہوئے دیکھا، اتنے میں آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ نے اٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، قال حدثنا خالد، عن ابن ابي هلال، عن مخرمة بن سليمان، ان كريبا، مولى ابن عباس اخبره قال سالت ابن عباس قلت كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل فوصف انه صلى احدى عشرة ركعة بالوتر ثم نام حتى استثقل فرايته ينفخ واتاه بلال فقال الصلاة يا رسول الله . فقام فصلى ركعتين وصلى بالناس ولم يتوضا
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو جب تک تم مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو ۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني خرجت