Loading...

Loading...
کتب
۲۷ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی چیزوں میں سے عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنا دی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے“۔
حدثني الشيخ الامام ابو عبد الرحمن النسايي، قال اخبرنا الحسين بن عيسى القومسي، قال حدثنا عفان بن مسلم، قال حدثنا سلام ابو المنذر، عن ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حبب الى من الدنيا النساء والطيب وجعل قرة عيني في الصلاة
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنا دی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے“۔
اخبرنا علي بن مسلم الطوسي، قال حدثنا سيار، قال حدثنا جعفر، قال حدثنا ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حبب الى النساء والطيب وجعلت قرة عيني في الصلاة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عورتوں کے بعد گھوڑوں سے زیادہ کوئی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب نہ تھی۔
اخبرنا احمد بن حفص بن عبد الله، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال لم يكن شىء احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد النساء من الخيل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کے مقابلے دوسری طرف زیادہ میلان رکھے تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا همام، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان له امراتان يميل لاحداهما على الاخرى جاء يوم القيامة احد شقيه مايل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان کچھ تقسیم کرتے تو برابر برابر کرتے، پھر فرماتے: اللہ! میرا یہ کام تو میرے دائرہ اختیار میں ہے، لہٰذا تو مجھے ملامت نہ کر ایسے کام کے سلسلے میں جو تیرے اختیار کا ہے اور مجھے اس میں کوئی اختیار نہیں۔ حماد بن زید نے یہ حدیث مرسل روایت کی ہے۔
اخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد، قال انبانا حماد بن سلمة، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عبد الله بن يزيد، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم بين نسايه ثم يعدل ثم يقول " اللهم هذا فعلي فيما املك فلا تلمني فيما تملك ولا املك " . ارسله حماد بن زيد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے آپ سے اجازت طلب کی، آپ میرے ساتھ چادر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ نے انہیں اجازت دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی ( عائشہ ) کے سلسلے میں آپ سے ۱؎ عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، اور میں خاموش ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے مجھے محبت ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تو تم بھی ان سے محبت کرو، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ بات سنی تو اٹھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی اور جو آپ نے ان ( فاطمہ ) سے کہی۔ وہ سب بولیں: ہم نہیں سمجھتے کہ تم نے ہمارا کام کر دیا، تم پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے عدل کی اپیل کرتی ہیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زینب بنت جحش کو بھیجا اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھی سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہو جاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چادر میں اسی طرح تھے کہ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں اور خوب زبان درازی کی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں، زینب رضی اللہ عنہا ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا نہیں لگے گا۔ چنانچہ جب میں نے انہیں برا بھلا کہا تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابوبکر کی بیٹی ہے“۔
اس سند سے بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا اور وہ اس میں ( صرف اتنا ) کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے زینب کو بھیجا تو انہوں نے اجازت طلب کی، آپ نے انہیں اجازت دی، پھر وہ اسی طرح آگے کہتی ہیں، معمر نے اس کے برعکس عن الزہری، عن عروۃ، عن عائشہ کہہ کر روایت کی ہے۔
اخبرني عمران بن بكار الحمصي، قال حدثنا ابو اليمان، قال انبانا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني محمد بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، ان عايشة، قالت فذكرت نحوه وقالت ارسل ازواج النبي صلى الله عليه وسلم زينب فاستاذنت فاذن لها فدخلت فقالت نحوه . خالفهما معمر رواه عن الزهري عن عروة عن عايشة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: آپ کی بیویاں – اور ایسا کلمہ کہا جس کا مفہوم یہ ہے – ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انصاف سے کام لیجئیے۔ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: ( اللہ کے رسول! ) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی ( عائشہ ) کے سلسلے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟“ کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”تو تم بھی ان ( عائشہ ) سے محبت کرو“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو آپ نے ( فاطمہ سے ) کہی، وہ سب بولیں: تم نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا، تم پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ فاطمہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ کے پاس کبھی نہیں جاؤں گی اور درحقیقت وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں ۱؎، اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ) میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ وہ بولیں: ( اللہ کے رسول! ) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ زینب رضی اللہ عنہا ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا نہیں لگے گا۔ چنانچہ ( جب ) میں نے انہیں برا بھلا کہا ( تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا ) یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”یہ ابوبکر کی بیٹی ہے“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہو جاتا تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس ( روایت ) میں غلطی ہے صحیح وہی ہے جو اس سے پہلے گزری۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی تمام کھانوں پر“ ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، { عن مرة، } عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی سارے کھانوں پر“۔
اخبرنا علي بن خشرم، قال انبانا عيسى بن يونس، عن ابن ابي ذيب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! مجھے عائشہ کے تعلق سے ایذا نہ دو، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی عورت تم میں سے ایسی نہیں ہے جس کے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو“۔
اخبرنا ابو بكر بن اسحاق الصغاني، قال حدثنا شاذان، قال حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ام سلمة لا توذيني في عايشة فانه والله ما اتاني الوحى في لحاف امراة منكن الا هي
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے ان سے بات کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ لوگ عائشہ کی باری کے دن ہدیے اور تحفے بھیجتے ہیں اور آپ سے کہیں کہ ہمیں بھی خیر سے اسی طرح محبت ہے جیسے آپ کو عائشہ سے ہے، چنانچہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے پھر بات کی، آپ نے انہیں جواب نہیں دیا۔ انہوں ( بیویوں ) نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کوئی جواب دیا؟ وہ بولیں: کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا: تم چھوڑنا مت، جب تک کوئی جواب نہ دے دیں۔ ( یا یوں کہا: ) جب تک تم دیکھ نہ لو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ جب پھر ان کی باری آئی تو انہوں نے آپ سے گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کے تعلق سے مجھے اذیت نہ دو، اس لیے کہ عائشہ کے لحاف کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوتے ہوئے میرے پاس وحی نہیں آئی“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
اخبرني محمد بن ادم، عن عبدة، عن هشام، عن عوف بن الحارث، عن رميثة، عن ام سلمة، ان نساء النبي، صلى الله عليه وسلم كلمنها ان تكلم النبي صلى الله عليه وسلم ان الناس كانوا يتحرون بهداياهم يوم عايشة وتقول له انا نحب الخير كما تحب عايشة فكلمته فلم يجبها فلما دار عليها كلمته ايضا فلم يجبها وقلن ما رد عليك قالت لم يجبني . قلن لا تدعيه حتى يرد عليك او تنظرين ما يقول . فلما دار عليها كلمته فقال " لا توذيني في عايشة فانه لم ينزل على الوحى وانا في لحاف امراة منكن الا في لحاف عايشة " . قال ابو عبد الرحمن هذان الحديثان صحيحان عن عبدة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ ہدیے اور تحفے بھیجتے جس دن عائشہ کی باری ہوتی، وہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی چاہتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبدة بن سليمان، قال حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان الناس يتحرون بهداياهم يوم عايشة يبتغون بذلك مرضاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، میں آپ کے ساتھ تھی، میں اٹھی اور اپنے اور آپ کے درمیان دروازہ بند کر دیا، جب وحی ختم ہو گئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”عائشہ! جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“۔
حدثنا محمد بن ادم، عن عبدة، عن هشام، عن صالح بن ربيعة بن هدير، عن عايشة، قالت اوحى الله الى النبي صلى الله عليه وسلم وانا معه فقمت فاجفت الباب بيني وبينه فلما رفه عنه قال لي " يا عايشة ان جبريل يقريك السلام
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“، انہوں نے کہا: «وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ» ( جبرائیل کو عائشہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا: ) آپ تو وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے“ ۱؎۔
اخبرنا نوح بن حبيب، قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " ان جبريل يقرا عليك السلام " . قالت وعليه السلام ورحمة الله وبركاته ترى ما لا نرى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ اور آگے ویسے ہی ہے جیسے اوپر گزرا“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ روایت ٹھیک ہے، پہلی والی غلط ہے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا الحكم بن نافع، قال انبانا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عايشة هذا جبريل وهو يقرا عليك السلام " . مثله سواء . قال ابو عبد الرحمن هذا الصواب والذي قبله خطا
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک پیالہ کھانا بھیجا، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم لوگ کھانا کھاؤ۔ لوگوں نے کھایا، پھر قاصد کو آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ جن کے گھر میں آپ تھے اپنا پیالہ لائیں تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا ۱؎ اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا حميد، قال حدثنا انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم عند احدى امهات المومنين فارسلت اخرى بقصعة فيها طعام فضربت يد الرسول فسقطت القصعة فانكسرت فاخذ النبي صلى الله عليه وسلم الكسرتين فضم احداهما الى الاخرى فجعل يجمع فيها الطعام ويقول " غارت امكم كلوا " . فاكلوا فامسك حتى جاءت بقصعتها التي في بيتها فدفع القصعة الصحيحة الى الرسول وترك المكسورة في بيت التي كسرتها
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک پیالے میں کھانا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آئیں۔ اتنے میں عائشہ رضی اللہ عنہا ایک چادر پہنے ہوئے آئیں، ان کے پاس ایک پتھر تھا، جس سے انہوں نے وہ پیالا مار کر دو ٹکرے کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے دونوں ٹکڑے جوڑنے لگے اور کہہ رہے تھے: تم لوگ کھاؤ، تمہاری ماں کو غیرت آ گئی، آپ نے دو بار کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا پیالا لیا اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا پیالا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا اسد بن موسى، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن ابي المتوكل، عن ام سلمة، انها - يعني - اتت بطعام في صحفة لها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه فجاءت عايشة متزرة بكساء ومعها فهر ففلقت به الصحفة فجمع النبي صلى الله عليه وسلم بين فلقتى الصحفة ويقول " كلوا غارت امكم " . مرتين ثم اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم صحفة عايشة فبعث بها الى ام سلمة واعطى صحفة ام سلمة عايشة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے جیسی کھانا بنانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکی اور میں نے برتن توڑ دیا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کفارے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”برتن کے جیسا برتن اور کھانے کے جیسا کھانا“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن عبد الرحمن، عن سفيان، عن فليت، عن جسرة بنت دجاجة، عن عايشة، قالت ما رايت صانعة طعام مثل صفية اهدت الى النبي صلى الله عليه وسلم اناء فيه طعام فما ملكت نفسي ان كسرته فسالت النبي صلى الله عليه وسلم عن كفارته فقال " اناء كاناء وطعام كطعام
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “۔ ( التحریم: ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی ہے۔
اخبرنا الحسن بن محمد الزعفراني، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، عن عطاء، انه سمع عبيد بن عمير، يقول سمعت عايشة، تزعم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمكث عند زينب بنت جحش فيشرب عندها عسلا فتواصيت انا وحفصة ان ايتنا دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم فلتقل اني اجد منك ريح مغافير اكلت مغافير فدخل على احداهما فقالت ذلك له فقال " لا بل شربت عسلا عند زينب بنت جحش ولن اعود له " . فنزلت { يا ايها النبي لم تحرم ما احل الله لك } { ان تتوبا الى الله } لعايشة وحفصة { واذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا } لقوله " بل شربت عسلا
اخبرني عبيد الله بن سعد بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني محمد بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، ان عايشة، قالت ارسل ازواج النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستاذنت عليه وهو مضطجع معي في مرطي فاذن لها فقالت يا رسول الله ان ازواجك ارسلنني اليك يسالنك العدل في ابنة ابي قحافة . وانا ساكتة فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " اى بنية الست تحبين من احب " . قالت بلى . قال " فاحبي هذه " . فقامت فاطمة حين سمعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجعت الى ازواج النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرتهن بالذي قالت والذي قال لها فقلن لها ما نراك اغنيت عنا من شىء فارجعي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقولي له ان ازواجك ينشدنك العدل في ابنة ابي قحافة . قالت فاطمة لا والله لا اكلمه فيها ابدا . قالت عايشة فارسل ازواج النبي صلى الله عليه وسلم زينب بنت جحش الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي التي كانت تساميني من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم في المنزلة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ار امراة قط خيرا في الدين من زينب واتقى لله عز وجل واصدق حديثا واوصل للرحم واعظم صدقة واشد ابتذالا لنفسها في العمل الذي تصدق به وتقرب به ما عدا سورة من حدة كانت فيها تسرع منها الفياة فاستاذنت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم مع عايشة في مرطها على الحال التي كانت دخلت فاطمة عليها فاذن لها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ازواجك ارسلنني يسالنك العدل في ابنة ابي قحافة ووقعت بي فاستطالت وانا ارقب رسول الله صلى الله عليه وسلم وارقب طرفه هل اذن لي فيها فلم تبرح زينب حتى عرفت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يكره ان انتصر فلما وقعت بها لم انشبها بشىء حتى انحيت عليها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها ابنة ابي بكر
اخبرنا محمد بن رافع النيسابوري الثقة المامون، قال حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت اجتمعن ازواج النبي صلى الله عليه وسلم فارسلن فاطمة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلن لها ان نساءك وذكر كلمة معناها ينشدنك العدل في ابنة ابي قحافة . قالت فدخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو مع عايشة في مرطها فقالت له ان نساءك ارسلنني وهن ينشدنك العدل في ابنة ابي قحافة . فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " اتحبيني " . قالت نعم قال " فاحبيها " . قالت فرجعت اليهن فاخبرتهن ما قال فقلن لها انك لم تصنعي شييا فارجعي اليه . فقالت والله لا ارجع اليه فيها ابدا . وكانت ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم حقا فارسلن زينب بنت جحش قالت عايشة وهي التي كانت تساميني من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ازواجك ارسلنني وهن ينشدنك العدل في ابنة ابي قحافة . ثم اقبلت على تشتمني فجعلت اراقب النبي صلى الله عليه وسلم وانظر طرفه هل ياذن لي من ان انتصر منها - قالت - فشتمتني حتى ظننت انه لا يكره ان انتصر منها فاستقبلتها فلم البث ان افحمتها فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " انها ابنة ابي بكر " . قالت عايشة فلم ار امراة خيرا ولا اكثر صدقة ولا اوصل للرحم وابذل لنفسها في كل شىء يتقرب به الى الله تعالى من زينب ما عدا سورة من حدة كانت فيها توشك منها الفياة . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا والصواب الذي قبله