احادیث
#3950
سنن نسائی - The Kind Treatment of Women
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے ان سے بات کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ لوگ عائشہ کی باری کے دن ہدیے اور تحفے بھیجتے ہیں اور آپ سے کہیں کہ ہمیں بھی خیر سے اسی طرح محبت ہے جیسے آپ کو عائشہ سے ہے، چنانچہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے پھر بات کی، آپ نے انہیں جواب نہیں دیا۔ انہوں ( بیویوں ) نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کوئی جواب دیا؟ وہ بولیں: کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا: تم چھوڑنا مت، جب تک کوئی جواب نہ دے دیں۔ ( یا یوں کہا: ) جب تک تم دیکھ نہ لو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ جب پھر ان کی باری آئی تو انہوں نے آپ سے گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کے تعلق سے مجھے اذیت نہ دو، اس لیے کہ عائشہ کے لحاف کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوتے ہوئے میرے پاس وحی نہیں آئی“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
اخبرني محمد بن ادم، عن عبدة، عن هشام، عن عوف بن الحارث، عن رميثة، عن ام سلمة، ان نساء النبي، صلى الله عليه وسلم كلمنها ان تكلم النبي صلى الله عليه وسلم ان الناس كانوا يتحرون بهداياهم يوم عايشة وتقول له انا نحب الخير كما تحب عايشة فكلمته فلم يجبها فلما دار عليها كلمته ايضا فلم يجبها وقلن ما رد عليك قالت لم يجبني . قلن لا تدعيه حتى يرد عليك او تنظرين ما يقول . فلما دار عليها كلمته فقال " لا توذيني في عايشة فانه لم ينزل على الوحى وانا في لحاف امراة منكن الا في لحاف عايشة " . قال ابو عبد الرحمن هذان الحديثان صحيحان عن عبدة
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- The Kind Treatment of Women
- Hadith Index
- #3950
- Book Index
- 12
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
