Loading...

Loading...
کتب
۱۶ احادیث
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کے والد نے ایک غلام ہبہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو“۔ اس حدیث کے الفاظ محمد ( راوی ) کے ہیں۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن حميد، ح وانبانا محمد بن منصور، عن سفيان، قال سمعناه من الزهري، اخبرني حميد بن عبد الرحمن، ومحمد بن النعمان، عن النعمان بن بشير، ان اباه، نحله غلاما فاتى النبي صلى الله عليه وسلم يشهده فقال " اكل ولدك نحلت " . قال لا . قال " فاردده " . واللفظ لمحمد
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: میرے پاس ایک غلام تھا جسے میں نے اپنے ( اس ) بیٹے کو دے دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو غلام دیے ہیں؟“، کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، عن مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، ومحمد بن النعمان، يحدثانه عن النعمان بن بشير، ان اباه، اتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اني نحلت ابني غلاما كان لي فقال رسول الله " اكل ولدك نحلته " . قال لا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فارجعه
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد بشیر بن سعد اپنے بیٹے نعمان کو لے کر آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک غلام اپنے اس بیٹے کو دے دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دیا ہے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اسے واپس لے لو“۔
اخبرنا محمد بن هاشم، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، وعن محمد بن النعمان، عن النعمان بن بشير، ان اباه، بشير بن سعد جاء بابنه النعمان فقال يا رسول الله اني نحلت ابني هذا غلاما كان لي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكل بنيك نحلت " . قال لا . قال " فارجعه
بشیر بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اپنے بیٹے ) نعمان بن بشیر کو لے کر آئے اور عرض کیا: میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا ہے، اگر آپ اس عطیہ کے نفاذ کو مناسب سمجھتے ہوں تو میں اسے نافذ کر دوں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اسے واپس لے لو“۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد، قال حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن الزهري، ان محمد بن النعمان، وحميد بن عبد الرحمن، حدثاه عن بشير بن سعد، انه جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم بالنعمان بن بشير فقال اني نحلت ابني هذا غلاما فان رايت ان تنفذه انفذته . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكل بنيك نحلته " . قال لا . قال " فاردده
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک عطیہ دیا، تو ان کی ماں نے ان کے والد سے کہا کہ آپ نے جو چیز میرے بیٹے کو دی ہے اس کے دینے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا دیجئیے، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس کے لیے گواہ بننے کو ناپسند کیا۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابو معاوية، عن هشام، عن ابيه، عن النعمان بن بشير، ان اباه، نحله نحلا فقالت له امه اشهد النبي صلى الله عليه وسلم على ما نحلت ابني . فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فكره النبي صلى الله عليه وسلم ان يشهد له
بشیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس ارادہ سے آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنا دیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے لوٹا لو“۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا ابو عامر، قال حدثنا شعبة، عن سعد، - يعني ابن ابراهيم - عن عروة، عن بشير، انه نحل ابنه غلاما فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاراد ان يشهد النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اكل ولدك نحلته مثل ذا " . قال لا . قال " فاردده
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! میں نے ( اپنے بیٹے ) نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کے بھائیوں کو بھی دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”جو دیا ہے اسے واپس لے لو“۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال حدثنا حبان، قال حدثنا عبد الله، عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان بشيرا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا نبي الله نحلت النعمان نحلة . قال " اعطيت لاخوته " . قال لا . قال " فاردده
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہا: آپ گواہ رہیں میں نے اپنے مال میں سے نعمان کو فلاں اور فلاں چیزیں بطور عطیہ دی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو وہی دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں؟“۔
اخبرنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا داود، عن الشعبي، عن النعمان، قال انطلق به ابوه يحمله الى النبي صلى الله عليه وسلم قال اشهد اني قد نحلت النعمان من مالي كذا وكذا . قال " كل بنيك نحلت مثل الذي نحلت النعمان
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس ارادہ سے آئے کہ انہوں نے انہیں خاص طور پر عطیہ دیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا دیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی لڑکوں کو ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اسے دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( اس طرح کی ) کسی چیز پر گواہ نہیں بنتا۔ کیا یہ بات تمہیں اچھی نہیں لگتی کہ وہ سب تمہارے ساتھ اچھے سلوک میں یکساں اور برابر ہوں“، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: ”تب تو یہ نہیں ہو سکتا“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن عبد الوهاب، قال حدثنا داود، عن عامر، عن النعمان، ان اباه، اتى به النبي صلى الله عليه وسلم يشهد على نحل نحله اياه . فقال " اكل ولدك نحلت مثل ما نحلته " . قال لا . قال " فلا اشهد على شىء اليس يسرك ان يكونوا اليك في البر سواء " . قال بلى . قال " فلا اذا
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ماں رواحہ کی بیٹی نے ان کے باپ سے مال میں سے بعض چیزیں ہبہ کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ انہیں سال بھر ٹالتے رہے، پھر ان کے جی میں کچھ آیا تو اس ( بیٹے ) کو وہ عطیہ دے دیا۔ ان کی ماں نے کہا: میں اتنے سے مطمئن اور خوش نہیں ہوں جب تک کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنا دیتے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اس بچے کو جو عطیہ دیا ہے تو اس لڑکے کی ماں، رواحہ کی بیٹی، اس پر مجھ سے جھگڑتی ہے ( کہ میں اس پر آپ کو گواہ کیوں نہیں بناتا؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بشیر! اس لڑکے کے علاوہ بھی تمہارا اور کوئی لڑکا ہے؟“، کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے سبھی لڑکوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے جیسا تم نے اپنے اس بیٹے کو دیا ہے“، انہوں نے کہا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم و زیادتی کا گواہ نہیں بن سکتا ۱؎“۔
اخبرنا موسى بن عبد الرحمن، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا ابو حيان، عن الشعبي، قال حدثني النعمان بن بشير الانصاري، ان امه ابنة رواحة، سالت اباه بعض الموهبة من ماله لابنها فالتوى بها سنة ثم بدا له فوهبها له فقالت لا ارضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال يا رسول الله ان ام هذا ابنة رواحة قاتلتني على الذي وهبت له . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بشير الك ولد سوى هذا " . قال نعم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افكلهم وهبت لهم مثل الذي وهبت لابنك هذا " . قال لا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلا تشهدني اذا فاني لا اشهد على جور
نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں نے میرے والد سے مطالبہ کیا کہ میرے بیٹے کو کچھ عطیہ دو، تو انہوں نے: مجھے عطیہ دیا۔ میری ماں نے کہا: میں اس پر راضی ( و مطمئن ) نہیں ہوں جب تک کہ میں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا دوں، تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا، اس وقت میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں رواحہ کی بیٹی نے مجھ سے کچھ عطیہ کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی خوشی اس میں ہے کہ میں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں۔ تو آپ نے فرمایا: ”بشیر! کیا تمہارا اس کے علاوہ بھی کوئی بیٹا ہے؟“، کہا: ہاں، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے جیسا اسے دیا ہے اسے بھی دیا ہے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم و زیادتی پر گواہ نہیں بنتا“۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يعلى، قال حدثنا ابو حيان، عن الشعبي، عن النعمان، قال سالت امي ابي بعض الموهبة فوهبها لي فقالت لا ارضى حتى اشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فاخذ ابي بيدي وانا غلام فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان ام هذا ابنة رواحة طلبت مني بعض الموهبة وقد اعجبها ان اشهدك على ذلك . قال " يا بشير الك ابن غير هذا " . قال نعم . قال " فوهبت له مثل ما وهبت لهذا " . قال لا . قال " فلا تشهدني اذا فاني لا اشهد على جور
عامر شعبی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ میری بیوی عمرہ بنت رواحہ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ میں اس کے بیٹے نعمان کو کچھ ہبہ کروں، اور اس کی فرمائش یہ بھی ہے کہ جو میں اسے دوں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس کے سوا اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں بھی ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اس لڑکے کو دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں تو آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے ظلم و زیادتی پر گواہ نہ بناؤ“۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا محمد بن عبيد، قال حدثنا اسماعيل، عن عامر، قال اخبرت ان بشير بن سعد اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان امراتي عمرة بنت رواحة امرتني ان اتصدق على ابنها نعمان بصدقة وامرتني ان اشهدك على ذلك . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " هل لك بنون سواه " . قال نعم . قال " فاعطيتهم مثل ما اعطيت لهذا " . قال لا . قال " فلا تشهدني على جور
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں نے اپنے بیٹے کو کچھ ہبہ کیا ہے تو آپ اس پر گواہ ہو جائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کوئی اور لڑکا ہے؟“، انہوں نے کہا: جی ہاں، ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں بھی ایسا ہی دیا ہے جیسے تم نے اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو کیا میں ظلم پر گواہی دوں گا؟“ ۱؎۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا زكريا، عن عامر، قال حدثني عبد الله بن عتبة بن مسعود، ح وانبانا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال انبانا عبد الله، عن زكريا، عن الشعبي، عن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان رجلا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم - وقال محمد اتى النبي صلى الله عليه وسلم - فقال اني تصدقت على ابني بصدقة فاشهد فقال " هل لك ولد غيره " . قال نعم . قال " اعطيتهم كما اعطيته " . قال لا . قال " ااشهد على جور
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد مجھے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، مجھے ایک چیز دی تھی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چیز پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے اس لڑکے کے علاوہ بھی کوئی اور لڑکا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں ہے، آپ نے اپنا پورا ہاتھ ہتھیلی سمیت ایک دم سیدھا پھیلاتے ہوئے فرمایا: ”تم نے اس طرح ان کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی ۱؎؟“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، عن يحيى، عن فطر، قال حدثني مسلم بن صبيح، قال سمعت النعمان بن بشير، يقول ذهب بي ابي الى النبي صلى الله عليه وسلم يشهده على شىء اعطانيه فقال " الك ولد غيره " . قال نعم . وصف بيده بكفه اجمع كذا الا سويت بينهم
نعمان رضی الله عنہ نے دوران خطبہ کہا کہ میرے والد مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے، وہ آپ کو ایک عطیہ پر گواہ بنا رہے تھے تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس کے علاوہ تمہارے اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں ( اور بھی بیٹے ہیں ) تو آپ نے فرمایا: ”ان کے درمیان انصاف اور برابری کا معاملہ کرو“۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال انبانا عبد الله، عن فطر، عن مسلم بن صبيح، قال سمعت النعمان، يقول وهو يخطب انطلق بي ابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يشهده على عطية اعطانيها فقال " هل لك بنون سواه " . قال نعم . قال " سو بينهم
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” ( لوگو! ) اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو“ ۱؎۔
اخبرنا يعقوب بن سفيان، قال حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن حاجب بن المفضل بن المهلب، عن ابيه، قال سمعت النعمان بن بشير، يخطب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعدلوا بين ابنايكم اعدلوا بين ابنايكم