احادیث
#3681
سنن نسائی - Presents
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ماں رواحہ کی بیٹی نے ان کے باپ سے مال میں سے بعض چیزیں ہبہ کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ انہیں سال بھر ٹالتے رہے، پھر ان کے جی میں کچھ آیا تو اس ( بیٹے ) کو وہ عطیہ دے دیا۔ ان کی ماں نے کہا: میں اتنے سے مطمئن اور خوش نہیں ہوں جب تک کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنا دیتے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اس بچے کو جو عطیہ دیا ہے تو اس لڑکے کی ماں، رواحہ کی بیٹی، اس پر مجھ سے جھگڑتی ہے ( کہ میں اس پر آپ کو گواہ کیوں نہیں بناتا؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بشیر! اس لڑکے کے علاوہ بھی تمہارا اور کوئی لڑکا ہے؟“، کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے سبھی لڑکوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے جیسا تم نے اپنے اس بیٹے کو دیا ہے“، انہوں نے کہا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم و زیادتی کا گواہ نہیں بن سکتا ۱؎“۔
اخبرنا موسى بن عبد الرحمن، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا ابو حيان، عن الشعبي، قال حدثني النعمان بن بشير الانصاري، ان امه ابنة رواحة، سالت اباه بعض الموهبة من ماله لابنها فالتوى بها سنة ثم بدا له فوهبها له فقالت لا ارضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال يا رسول الله ان ام هذا ابنة رواحة قاتلتني على الذي وهبت له . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بشير الك ولد سوى هذا " . قال نعم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افكلهم وهبت لهم مثل الذي وهبت لابنك هذا " . قال لا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلا تشهدني اذا فاني لا اشهد على جور
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Presents
- Hadith Index
- #3681
- Book Index
- 10
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
