Loading...

Loading...
کتب
۴۸ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارا مقصد صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ کیا تم حائضہ ہو گئی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر مقدر کر دیا ہے ۱؎، اب تم وہ سارے کام کرو، جو حاجی کرتا ہے، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم بن محمد بن ابي بكر الصديق، - رضى الله عنه - عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نرى الا الحج فلما كنا بسرف حضت فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال " ما لك انفست " . قلت نعم . قال " هذا امر كتبه الله عز وجل على بنات ادم فاقضي ما يقضي الحاج غير ان لا تطوفي بالبيت
عروۃ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کی شاخ قبیلہ بنو اسد کی ایک خاتون ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور ذکر کیا کہ انہیں استحاضہ آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو ایک رگ ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو تو غسل کر لو، اور اپنے ( بدن سے ) خون دھو لو پھر نماز پڑھو ۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا اسماعيل بن عبد الله، - وهو ابن سماعة - قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال اخبرني هشام بن عروة، عن عروة، ان فاطمة بنت قيس، من بني اسد قريش انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت انها تستحاض فزعمت انه قال لها " انما ذلك عرق فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغتسلي واغسلي عنك الدم ثم صلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب بند ہو جائے تو غسل کر لو ( اور نماز پڑھو ) ۔
اخبرنا هشام بن عمار، قال حدثنا سهل بن هاشم، قال حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغتسلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک رگ ہے، تو تم غسل کر لو پھر نماز پڑھو ، چنانچہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت استفتت ام حبيبة بنت جحش رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني استحاض فقال " ان ذلك عرق فاغتسلي ثم صلي " . فكانت تغتسل عند كل صلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق دریافت کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے ٹب کو خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ( نماز روزے سے ) اتنے دن رکی رہو جس قدر تمہیں تمہارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کر لو ۔ ( امام نسائی فرماتے ہیں ) ہمیں قتیبہ نے دوبارہ یہ حدیث بیان کی تو ( یزید بن ابی حبیب اور عراک بن مالک کے درمیان ) جعفر بن ربیعہ کا ذکر نہیں کیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عايشة، قالت ان ام حبيبة سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدم - فقالت عايشة رايت مركنها ملان دما - فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلي " .واخبرنا به قتيبة مرة اخرى ولم يذكر فيه جعفر بن ربيعة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق دریافت کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے ٹب کو خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ( نماز روزے سے ) اتنے دن رکی رہو جس قدر تمہیں تمہارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کر لو ۔ ( امام نسائی فرماتے ہیں ) ہمیں قتیبہ نے دوبارہ یہ حدیث بیان کی تو ( یزید بن ابی حبیب اور عراک بن مالک کے درمیان ) جعفر بن ربیعہ کا ذکر نہیں کیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عايشة، قالت ان ام حبيبة سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدم - فقالت عايشة رايت مركنها ملان دما - فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلي " .واخبرنا به قتيبة مرة اخرى ولم يذكر فيه جعفر بن ربيعة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے تو میں پاک نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، البتہ صرف ان دنوں اور راتوں کے بقدر چھوڑ دو جن میں تم حائضہ رہتی ہو، پھر غسل کر لو اور لنگوٹ کس کر نماز پڑھو ۔
انبانا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا عبيد الله بن عمر، قال اخبرني عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، قالت سالت امراة النبي صلى الله عليه وسلم قالت اني استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال " لا ولكن دعي قدر تلك الايام والليالي التي كنت تحيضين فيها ثم اغتسلي واستثفري وصلي
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خون آتا تھا، تو انہوں نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ان راتوں اور دنوں کی تعداد شمار کر کے رکھے جن میں اسے اس بیماری سے پہلے جو اسے لاحق ہوئی ہے حیض آتا تھا، اور اسی کے بقدر ہر مہینہ نماز چھوڑ دے، پھر جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے پھر نماز پڑھے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، ان امراة، كانت تهراق الدم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم استفتت لها ام سلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لتنظر عدد الليالي والايام التي كانت تحيض من الشهر قبل ان يصيبها الذي اصابها فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر فاذا خلفت ذلك فلتغتسل ثم لتستثفر بالثوب ثم لتصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں کو استحاضہ کا خون آتا تھا، وہ پاک نہیں رہ پاتی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رحم میں شیطان کی ایک ایڑ ہے، تو اسے چاہیئے کہ اپنے حیض کو دیکھ لے جس میں وہ حائضہ ہوتی تھی ( اور اسی کے بقدر ) نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے ۔
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود بن ابراهيم، قال حدثنا اسحاق، - وهو ابن بكر بن مضر - قال حدثني ابي، عن يزيد بن عبد الله، - وهو ابن اسامة بن الهاد - عن ابي بكر، - وهو ابن محمد بن عمرو بن حزم - عن عمرة، عن عايشة، قالت ان ام حبيبة بنت جحش التي كانت تحت عبد الرحمن بن عوف وانها استحيضت لا تطهر فذكر شانها لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليست بالحيضة ولكنها ركضة من الرحم لتنظر قدر قريها التي كانت تحيض لها فلتترك الصلاة ثم تنظر ما بعد ذلك فلتغتسل عند كل صلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جحش کی بیٹی ( ام حبیبہ ) کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، یہ تو ایک رگ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں کے برابر نماز ترک کر دیں، اور غسل کریں اور نماز پڑھیں، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی ۔
اخبرنا ابو موسى، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عمرة، عن عايشة، ان ابنة جحش، كانت تستحاض سبع سنين فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ليست بالحيضة انما هو عرق " . فامرها ان تترك الصلاة قدر اقرايها وحيضتها وتغتسل وتصلي فكانت تغتسل عند كل صلاة
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے استحاضہ کے خون کی شکایت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو بس ایک رگ ہے، تو تم دیکھتی رہو جب تمہارا حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب تمہارا حیض گزر جائے تو پاکی حاصل کرو ( یعنی غسل کرو ) پھر اس حیض سے دوسرے حیض کے بیچ نماز پڑھو ۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال انبانا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله، عن المنذر بن المغيرة، عن عروة، ان فاطمة بنت ابي حبيش، حدثته انها، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكت اليه الدم فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق فانظري اذا اتاك قروك فلا تصلي واذا مر قروك فلتطهري ثم صلي ما بين القرء الى القرء " . قال ابو عبد الرحمن قد روى هذا الحديث هشام بن عروة عن عروة ولم يذكر فيه ما ذكر المنذر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض آنے لگے تو نماز ترک کر دو اور جب ختم ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھو ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبدة، ووكيع، وابو معاوية قالوا حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاءت فاطمة بنت ابي حبيش الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني امراة استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال " لا انما ذلك عرق وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مستحاضہ عورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہا گیا کہ یہ ایک نہ بند ہونے والی رگ ہے، اور اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، عشاء کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور صبح کی نماز کے لیے ایک غسل کرے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، ان امراة، مستحاضة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم قيل لها انه عرق عاند وامرت ان توخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل لهما غسلا واحدا وتوخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل لهما غسلا واحدا وتغتسل لصلاة الصبح غسلا واحدا
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں مستحاضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ ( نماز نہ پڑھو ) پھر غسل کرو، اور ظہر کو مؤخر کرو، اور عصر میں جلدی کرو، اور غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء کو جلدی کرو، اور غسل کر کے ( دونوں کو ایک ساتھ ) پڑھو، اور فجر کے لیے ( الگ ایک ) غسل کرو ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم، عن زينب بنت جحش، قالت قلت للنبي صلى الله عليه وسلم انها مستحاضة . فقال " تجلس ايام اقرايها ثم تغتسل وتوخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل وتصلي وتوخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل وتصليهما جميعا وتغتسل للفجر
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ آتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو تو وہ سیاہ خون ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو تم نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کرو، کیونکہ یہ رگ ( کا خون ) ہے ۔ محمد بن مثنی کا کہنا ہے کہ ہم سے یہ حدیث ابن ابی عدی نے اپنی کتاب سے بیان کی ہے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد بن عمرو، - وهو ابن علقمة بن وقاص - عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن فاطمة بنت ابي حبيش، انها كانت تستحاض فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان دم الحيض - فانه دم اسود يعرف - فامسكي عن الصلاة واذا كان الاخر فتوضيي فانما هو عرق " . قال محمد بن المثنى حدثنا ابن ابي عدي هذا من كتابه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو جب یہ ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا ابن ابی عدی نے ذکر کیا ہے «واللہ تعالیٰ اعلم»۔
واخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابن ابي عدي، من حفظه قال حدثنا محمد بن عمرو، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش، كانت تستحاض فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان دم الحيض دم اسود يعرف فاذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة فاذا كان الاخر فتوضيي وصلي " . قال ابو عبد الرحمن قد روى هذا الحديث غير واحد ولم يذكر احد منهم ما ذكر ابن ابي عدي والله تعالى اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہوئیں، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لو اور وضو کرو اور نماز پڑھو، یہ تو بس رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، ( راوی سے ) پوچھا گیا غسل کرے؟ تو اس نے کہا: اس میں کسی کو شک نہیں ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، اور اس میں «وتوضئي» کا ذکر حماد کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے، «واللہ تعالیٰ اعلم»۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت استحيضت فاطمة بنت ابي حبيش فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وتوضيي وصلي فانما ذلك عرق وليست بالحيضة " . قيل له فالغسل قال " وذلك لا يشك فيه احد " . قال ابو عبد الرحمن قد روى هذا الحديث غير واحد عن هشام بن عروة ولم يذكر فيه " وتوضيي " . غير حماد والله تعالى اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني استحاض فلا اطهر . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فامسكي عن الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب اس کے بقدرگزر جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قالت فاطمة بنت ابي حبيش لرسول الله صلى الله عليه وسلم لا اطهر افادع الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ تو رگ ( کا خون ) ہے، ( خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے ) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔
اخبرنا ابو الاشعث، قال حدثنا خالد بن الحارث، قال سمعت هشاما، يحدث عن ابيه، عن عايشة، ان بنت ابي حبيش، قالت يا رسول الله اني لا اطهر افاترك الصلاة قال " لا انما هو عرق " . قال خالد وفيما قرات عليه " وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي