Loading...

Loading...
کتب
۴۸ احادیث
ام عطیہ رضی اللہ عنہا (نسیبہ) کہتی ہیں کہ ہم لوگ زردی اور مٹیالا پن کو کچھ نہیں شمار کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال انبانا اسماعيل، عن ايوب، عن محمد، قال قالت ام عطية كنا لا نعد الصفرة والكدرة شييا
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہو جاتیں تھی تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے تھے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے متعلق ) پوچھا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» آپ سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے وہ گندگی ہے ( البقرہ: ۲۲۲ ) نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور انہیں اپنے گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں، اس پر یہود کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں، اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم دونوں اٹھے، اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، اور کہنے لگے: کیا ہم حیض کے دنوں میں ان سے جماع نہ کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ناراض ہو گئے ہیں، ( اسی دوران ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آیا، تو آپ نے ان کے پیچھے ( آدمی ) بھیجا وہ انہیں بلا کر لایا، آپ نے ان کو دودھ پلایا، تو اس سے جانا گیا کہ آپ ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، قال كانت اليهود اذا حاضت المراة منهم لم يواكلوهن ولا يشاربوهن ولا يجامعوهن في البيوت فسالوا النبي صلى الله عليه وسلم فانزل الله عز وجل { ويسالونك عن المحيض قل هو اذى } الاية فامرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يواكلوهن ويشاربوهن ويجامعوهن في البيوت وان يصنعوا بهن كل شىء ما خلا الجماع . فقالت اليهود ما يدع رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا من امرنا الا خالفنا . فقام اسيد بن حضير وعباد بن بشر فاخبرا رسول الله صلى الله عليه وسلم قالا انجامعهن في المحيض فتمعر رسول الله صلى الله عليه وسلم تمعرا شديدا حتى ظننا انه قد غضب فقاما فاستقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم هدية لبن فبعث في اثارهما فردهما فسقاهما فعرف انه لم يغضب عليهما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے ۱؎ اور وہ حائضہ ہو تو وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے ۲؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، قال حدثني الحكم، عن عبد الحميد، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجل ياتي امراته وهي حايض يتصدق بدينار او بنصف دينار
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آ گیا، تو میں چپکے سے کھسک آئی، اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم حائضہ ہو گئی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ نے مجھے بلایا، تو میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی، یہ الفاظ عبیداللہ بن سعید کے ہیں۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا معاذ بن هشام، ح وانبانا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي ح، وانبانا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، - وهو ابن الحارث - قال حدثنا هشام، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة، ان زينب بنت ابي سلمة، حدثته ان ام سلمة حدثتها قالت، بينما انا مضطجعة، مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ حضت فانسللت فاخذت ثياب حيضتي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انفست " . قلت نعم فدعاني فاضطجعت معه في الخميلة . واللفظ لعبيد الله بن سعيد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ کو مجھ سے کچھ لگ جاتا تو آپ اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی کپڑا میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر اگر دوبارہ مجھ سے آپ کو کچھ لگ جاتا تو آپ پھر اسی طرح کرتے، صرف اسی جگہ کو دھوتے اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، عن جابر بن صبح، قال سمعت خلاسا، يحدث عن عايشة، قالت كنت انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم نبيت في الشعار الواحد وانا طامث حايض فان اصابه مني شىء غسل مكانه لم يعده ثم صلى فيه ثم يعود فان اصابه مني شىء فعل مثل ذلك غسل مكانه لم يعده وصلى فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بیویوں میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ اپنا ازار باندھ لے، پھر آپ اس سے چمٹتے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن شرحبيل، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر احدانا اذا كانت حايضا ان تشد ازارها ثم يباشرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم سے کوئی جب حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس سے چمٹتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كانت احدانا اذا حاضت امرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تتزر ثم يباشرها
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو ان دونوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جب آپ میں سے کوئی حائضہ ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ کہا: جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہو جاتی تو آپ ہمیں کشادہ تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر آپ اس کے سینہ اور چھاتی سے چمٹتے۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن عياش، - وهو ابو بكر - عن صدقة بن سعيد، ثم ذكر كلمة معناها حدثنا جميع بن عمير، قال دخلت على عايشة مع امي وخالتي فسالتاها كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع اذا حاضت احداكن قالت كان يامرنا اذا حاضت احدانا ان تتزر بازار واسع ثم يلتزم صدرها وثدييها
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حائضہ بیوی سے چمٹتے جب وہ تہبند باندھے ہوتی جو کبھی اس کے دونوں رانوں کے نصف تک پہنچتا، اور کبھی گھٹنوں تک۔ لیث کی روایت میں ہے: وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی۔
اخبرنا الحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، عن يونس، والليث، عن ابن شهاب، عن حبيب، مولى عروة عن بدية، - وكان الليث يقول ندبة - مولاة ميمونة عن ميمونة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يباشر المراة من نسايه وهي حايض اذا كان عليها ازار يبلغ انصاف الفخذين والركبتين في حديث الليث تحتجز به
شریح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے جب کہ وہ حائضہ ہو؟، تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے، تو میں آپ کے ساتھ کھاتی، اور میں حائضہ ہوتی، آپ ہڈی لیتے تو مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اس سے اپنے دانتوں سے نوچتی پھر رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے، اور اس سے اپنے دانتوں سے نوچتے، آپ ہڈی پر اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی، اور آپ پانی مانگتے تو پینے سے پہلے مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اسے اٹھا لیتی اور اس میں سے پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے اور اس میں سے پیتے، آپ پیالہ میں اسی جگہ اپنا منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد بن جميل بن طريف، قال انبانا يزيد بن المقدام بن شريح بن هاني، عن ابيه، عن شريح، انه سال عايشة هل تاكل المراة مع زوجها وهي طامث قالت نعم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعوني فاكل معه وانا عارك كان ياخذ العرق فيقسم على فيه فاعترق منه ثم اضعه فياخذه فيعترق منه ويضع فمه حيث وضعت فمي من العرق ويدعو بالشراب فيقسم على فيه من قبل ان يشرب منه فاخذه فاشرب منه ثم اضعه فياخذه فيشرب منه ويضع فمه حيث وضعت فمي من القدح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں سے میں پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا پانی پیتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی۔
اخبرني ايوب بن محمد الوزان، قال حدثنا عبد الله بن جعفر، قال حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن الاعمش، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع فاه على الموضع الذي اشرب منه ويشرب من فضل شرابي وانا حايض
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے برتن دیتے، تو میں اس سے پیتی جب کہ میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں اسے آپ کو دے دیتی تھی تو آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاشتے اور اسی ( جگہ ) کو اپنے منہ پر رکھتے۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن مسعر، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، قال سمعت عايشة، تقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يناولني الاناء فاشرب منه وانا حايض ثم اعطيه فيتحرى موضع فمي فيضعه على فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں پیالہ سے پانی پیتی اور میں حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ رکھتے اور اس سے پیتے، اور میں ہڈی سے اپنے دانت سے گوشت نوچتی اور حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھتے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا مسعر، وسفيان، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اشرب من القدح وانا حايض، فاناوله النبي صلى الله عليه وسلم فيضع فاه على موضع في فيشرب منه واتعرق من العرق وانا حايض فاناوله النبي صلى الله عليه وسلم فيضع فاه على موضع في
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم ( بیویوں ) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، وعلي بن حجر، - واللفظ له - قالا حدثنا سفيان، عن منصور، عن امه، عن عايشة، قالت كان راس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجر احدانا وهي حايض وهو يقرا القران
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا حائضہ اپنی نماز قضاء کرے گی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ( خارجیہ ) ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حائضہ ہوتی تھیں، تو نہ ہم قضاء کرتے اور نہ ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال انبانا اسماعيل، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن معاذة العدوية، قالت سالت امراة عايشة اتقضي الحايض الصلاة فقالت احرورية انت قد كنا نحيض عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا نقضي ولا نومر بقضاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا اٹھا دو ، تو انہوں نے کہا: میں ( آج کل ) نماز نہیں پڑھ رہی ہوں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( حیض ) تمہارے ہاتھ میں نہیں ، تو انہوں نے کپڑا اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن يزيد بن كيسان، قال حدثني ابو حازم، قال قال ابو هريرة بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد اذ قال " يا عايشة ناوليني الثوب " . فقالت اني لا اصلي . فقال " انه ليس في يدك " . فناولته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو ، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔
اخبرنا قتيبة، عن عبيدة، عن الاعمش، ح واخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ثابت بن عبيد، عن القاسم بن محمد، قال قالت عايشة قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ناوليني الخمرة من المسجد " . فقلت اني حايض . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليست حيضتك في يدك
قال اسحاق انبانا ابو معاوية، عن الاعمش، بهذا الاسناد مثله
المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ۱؎ وہ حائضہ ہوتی۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، عن منبوذ، عن امه، ان ميمونة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع راسه في حجر احدانا فيتلو القران وهي حايض وتقوم احدانا بخمرته الى المسجد فتبسطها وهي حايض
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتیں وہ حائضہ ہوتیں، اور آپ معتکف ہوتے، ( اس طرح کہ ) آپ اپنا سر ( مسجد سے نکال کر ) ان کے پاس کر دیتے، اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں۔
اخبرنا نصر بن علي، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، انها كانت ترجل راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي حايض وهو معتكف فيناولها راسه وهي في حجرتها