Loading...

Loading...
کتب
۱۷ احادیث
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے ) اور انتقال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر سوار ہوا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار کے اور زمین کے جسے اللہ کے راستہ میں دے دیا تھا کچھ نہ چھوڑا تھا نہ دینار نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی، ( مصنف ) کہتے ہیں ( میرے استاذ ) قتیبہ نے دوسری بار یہ بتایا کہ زمین کو صدقہ کر دیا تھا۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن الحارث، قال ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم دينارا ولا درهما ولا عبدا ولا امة الا بغلته الشهباء التي كان يركبها وسلاحه وارضا جعلها في سبيل الله . وقال قتيبة مرة اخرى صدقة
عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اپنے سفید خچر، ہتھیار اور زمین کے جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ چھوڑ کر نہ گئے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا سفيان، قال حدثني ابو اسحاق، قال سمعت عمرو بن الحارث، يقول ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم الا بغلته البيضاء وسلاحه وارضا تركها صدقة
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ نے اپنے انتقال کے موقع پر ) اپنے «شہباء» خچر، ہتھیار اور اپنی زمین کے علاوہ جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ نہ چھوڑ کر گئے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو بكر الحنفي، قال حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابيه، قال سمعت عمرو بن الحارث، يقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ترك الا بغلته الشهباء وسلاحه وارضا تركها صدقة
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خیبر میں ( حصہ میں ) ایک زمین ملی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کہا: مجھے بہت اچھی زمین ملی ہے، مجھے اس سے زیادہ محبوب و پسندیدہ مال ( کبھی ) نہ ملا تھا، آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو صدقہ کر سکتے ہو تو انہوں نے اسے بایں طور صدقہ کر دیا کہ وہ زمین نہ تو بیچی جائے گی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جائے گی اور اس کی پیداوار فقیروں، محتاجوں اور قرابت داروں میں، گردن چھڑانے ( یعنی غلام آزاد کرانے میں ) ، مہمانوں کو کھلانے پلانے اور مسافروں کی مدد و امداد میں صرف کی جائے گی اور کچھ حرج نہیں اگر اس کا ولی، نگراں، محافظ و مہتمم اس میں سے کھائے مگر شرط یہ ہے کہ وہ معروف طریقے ( انصاف و اعتدال ) سے کھائے ( کھانے کے نام پر لے کر ) مالدار بننے کا خواہشمند نہ ہو اور دوسروں ( دوستوں ) کو کھلائے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو داود الحفري، عمر بن سعد عن سفيان الثوري، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، قال اصبت ارضا من ارض خيبر فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اصبت ارضا لم اصب مالا احب الى ولا انفس عندي منها . قال " ان شيت تصدقت بها " . فتصدق بها - على ان لا تباع ولا توهب - في الفقراء وذي القربى والرقاب والضيف وابن السبيل لا جناح على من وليها ان ياكل بالمعروف غير متمول مالا ويطعم
عمر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا معاوية بن عمرو، عن ابي اسحاق الفزاري، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ( بعد فتح خیبر تقسیم غنیمت میں ) ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے جس سے بہتر مال میرے نزدیک مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ ہمیں بتائیں میں اسے کیا کروں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس سے حاصل پیداوار کو تقسیم ( خیرات ) کر دو، تو انہوں نے اس زمین کو بایں طور صدقہ کر دیا کہ وہ نہ بیچی جائے گی نہ وہ بخشش میں دی جائے گی اور نہ وہ ورثہ میں دی جائے گی، اس کی آمدنی تقسیم ہو گی فقراء میں، جملہ رشتہ ناطہٰ والوں میں، غلام آزاد کرنے میں، اللہ کی راہ ( جہاد ) میں، مہمان نوازی میں، مسافروں کی امداد میں، اس زمین کے متولی ( نگران و مہتمم ) کے اس کی آمدنی میں سے معروف طریقے سے کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور نہ ہی دوست واحباب کو کھلانے میں کوئی حرج ہے لیکن ( اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر ) مالدار بننے کی کوشش نہ کرے۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، ان عمر، قال اصاب عمر ارضا بخيبر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اصبت ارضا لم اصب مالا قط انفس عندي فكيف تامر به قال " ان شيت حبست اصلها وتصدقت بها " . فتصدق بها - على ان لا تباع ولا توهب ولا تورث - في الفقراء والقربى والرقاب وفي سبيل الله والضيف وابن السبيل لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف ويطعم صديقا غير متمول فيه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کے بارے میں صلاح و مشورہ کرنے کے لیے آئے اور کہا: مجھے ایک ایسی بڑی زمین ملی ہے جس سے میری نظروں میں زیادہ قیمتی مال مجھے کبھی نہیں ملا تو آپ مجھے اس زمین کے بارے میں کیا حکم و مشورہ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اصل زمین کو روک کر وقف کر دو اور اس کی آمدنی کو صدقہ کر دو“۔ تو انہوں نے اس طرح صدقہ کر دیا کہ وہ بیچی نہ جا سکے گی اور نہ ھبہ کی جا سکے گی اور اس کی پیداوار اور آمدنی کو صدقہ کر دیا فقراء، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے، اللہ کی راہ، مسافروں ( کی امداد ) میں اور مہمانوں ( کے تواضع ) میں۔ اور اس کے ولی ( نگراں و مہتمم ) کے اس میں سے کھانے اور اپنے دوست کو کھلانے میں کوئی حرج و مضائقہ نہیں ہے لیکن ( اس کے ذریعہ سے ) مالدار بننے کی کوشش نہ ہو، حدیث کے الفاظ راوی حدیث اسماعیل مسعود کے ہیں۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر، عن ابن عون، قال وانبانا حميد بن مسعدة، قال حدثنا بشر، قال حدثنا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال اصاب عمر ارضا بخيبر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاستامره فيها فقال اني اصبت ارضا كثيرا لم اصب مالا قط انفس عندي منه فما تامر فيها قال " ان شيت حبست اصلها وتصدقت بها " . فتصدق بها - على انه لا تباع ولا توهب - فتصدق بها في الفقراء والقربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح - يعني - على من وليها ان ياكل او يطعم صديقا غير متمول اللفظ لاسماعيل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ اس زمین کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورہ کرنے آئے، آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اصل کو روک کر وقف کر دو اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دو“۔ تو انہوں نے اس کی اصل کو اس طرح روک کر وقف کیا کہ یہ زمین نہ تو بیچی جا سکے گی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جا سکے گی اور نہ ہی کسی کو وراثت میں دی جا سکے گی۔ اور اس کو صدقہ کیا اس طرح کہ اس سے فقراء، قرابت دار فائدہ اٹھائیں گے، اس کی آمدنی سے غلاموں کو آزاد کرانے میں مدد دی جائے گی اور مساکین پر خرچ کی جائے گی، مسافر کی مدد اور مہمان کی تواضع کی جائے گی اور جو اس زمین کا ولی ( سر پرست و نگراں ) ہو گا وہ بھی اس کی آمدنی سے معروف طریقے سے کھا سکے گا اور اپنے دوست کو کھلا سکے گا، لیکن ( اپنے کھانے پینے کے نام پہ اس میں سے لے کر ) مالدار اور سیٹھ نہ بن سکے گا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا ازهر السمان، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، ان عمر، اصاب ارضا بخيبر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم يستامره في ذلك فقال " ان شيت حبست اصلها وتصدقت بها " . فحبس اصلها ان لا تباع و لا توهب ولا تورث فتصدق بها على الفقراء والقربى والرقاب وفي المساكين وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف او يطعم صديقه غير متمول فيه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «لن تنالوا الر حتى تنفقوا مما تحبون» ”تم «بِر» ( بھلائی ) کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم اس میں سے خرچ نہ کرو جسے تم پسند کرتے ہو“ ( آل عمران: ۹۲ ) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہم سے ہمارے اچھے مال میں سے مانگتا ہے، تو اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین اللہ کی راہ میں وقف کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقف کو اپنے قرابت داروں: حسان بن ثابت اور ابی بن کعب کے لیے کر دو“ ( کہ وہ لوگ اس زمین کو اپنے تصرف میں لائیں اور فائدہ اٹھائیں ) ۔
اخبرنا ابو بكر بن نافع، قال حدثنا بهز، قال حدثنا حماد، قال حدثنا ثابت، عن انس، قال لما نزلت هذه الاية { لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون } قال ابو طلحة ان ربنا ليسالنا عن اموالنا فاشهدك يا رسول الله اني قد جعلت ارضي لله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجعلها في قرابتك في حسان بن ثابت وابى بن كعب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے پاس خیبر میں جو سو حصے ہیں اس سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ مال مجھے کبھی بھی نہیں ملا، میں نے اسے صدقہ کر دینے کا ارادہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اصل روک لو اور اس کا پھل ( پیداوار ) تقسیم کر دو“۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال عمر للنبي صلى الله عليه وسلم ان الماية سهم التي لي بخيبر لم اصب مالا قط اعجب الى منها قد اردت ان اتصدق بها . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " احبس اصلها وسبل ثمرتها
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا اچھا مال ہاتھ لگا ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا تھا۔ میرے پاس سو «راس» ( جانور ) تھے تو میں نے انہیں خیبر والوں کو دے کر سو حصے خرید لیے اور میرا ارادہ ہے کہ انہیں اللہ عزوجل کی راہ میں دے کر اس کی قرابت حاصل کر لوں۔ آپ نے فرمایا: ” ( اگر تمہارا ایسا ارادہ ہے تو ) اصل ( یعنی زمین ) کو روک لو اور پھل تقسیم کر دو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله الخلنجي، ببيت المقدس قال حدثنا سفيان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، رضى الله عنه قال جاء عمر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني اصبت مالا لم اصب مثله قط كان لي ماية راس فاشتريت بها ماية سهم من خيبر من اهلها واني قد اردت ان اتقرب بها الى الله عز وجل . قال " فاحبس اصلها وسبل الثمرة
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک زمین ثمغ ( مدینہ ) میں تھی، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اصل ( زمین ) کو روک لو اور اس کے پھل ( پیداوار و فوائد ) کو تقسیم کر دو“۔
اخبرنا محمد بن مصفى بن بهلول، قال حدثنا بقية، عن سعيد بن سالم المكي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ارض لي بثمغ قال " احبس اصلها وسبل ثمرتها
معتمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حصین بن عبدالرحمٰن کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے اور وہ عمرو بن جاوان سے، جو ایک تمیمی شخص ہیں، روایت کرتے ہیں، اور یہ بات اس طرح ہوئی کہ میں ( حصین بن عبدالرحمٰن ) نے ان سے ( یعنی عمرو بن جاوان سے ) کہا: کیا تم نے احنف بن قیس کا اعتزال دیکھا ہے، کیسے ہوا؟ وہ کہتے ہیں: میں نے احنف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں مدینہ آیا ( اس وقت ) میں حج پر نکلا ہوا تھا، اسی اثناء میں ہم اپنی قیام گاہوں میں اپنے کجاوے اتار اتار کر رکھ رہے تھے کہ اچانک ایک آنے والے شخص نے آ کر بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ اکٹھا ہیں اور انہیں کے درمیان کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان میں علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم موجود ہیں۔ میں وہاں کھڑا ہو گیا، اسی دوران یہ آواز آئی: یہ لو عثمان بن عفان بھی آ گئے، وہ آئے ان کے جسم پر ایک زرد رنگ کی چادر تھی ۱؎، میں نے اپنے پاس والے سے کہا: جیسے تم ہو ویسے رہو مجھے دیکھ لینے دو وہ ( عثمان ) کیا کہتے ہیں، عثمان نے کہا: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ( موجود ہیں ) انہوں نے کہا: میں آپ لوگوں سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص خرید لے گا فلاں کا «مربد» ( کھلیان، کھجور سکھانے کی جگہ ) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے خرید لیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر آپ کو بتایا تھا کہ میں نے عقلان کا «مربد» ( کھلیان ) خرید لیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا: ”اسے ہماری مسجد ( مسجد نبوی ) میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“، لوگوں نے کہا: ہاں، ( ایسا ہی ہوا تھا ) ( پھر ) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خرید لے گا ( رومہ مدینہ کی ایک جگہ کا نام ہے ) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“۔ میں ( بئررومہ خرید کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور ( آپ سے ) کہا: میں نے بئررومہ خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“، لوگوں نے کہا: ہاں ( ایسا ہی ہوا تھا ) انہوں نے ( پھر ) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ تبوک کے موقع پر ) فرمایا تھا: ”جو شخص جیش عسرۃ ( تہی دست لشکر ) کو ( سواریوں اور سامان حرب و ضرب سے ) آراستہ کرے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے ان لشکریوں کو ساز و سامان کے ساتھ تیار کر دیا یہاں تک کہ انہیں عقال ( اونٹوں کے پاؤں باندھنے کی رسی ) اور خطام ( مہار بنانے کی رسی ) کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی۔ لوگوں نے کہا: ہاں ( آپ درست فرماتے ہیں ایسا ہی ہوا تھا ) یہ سن کر انہوں نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلے۔ مدینہ پہنچ کر ہم اپنے پڑاؤ کی جگہوں ( خیموں ) میں اپنی سواریوں سے سامان اتار اتار کر رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے نے آ کر خبر دی کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہیں اور گھبرائے ہوئے ہیں تو ہم بھی ( وہاں ) چلے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مسجد کے بیچ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگ انہیں ( چاروں طرف سے ) گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ ہم یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان بن عفان آ گئے، وہ اپنے اوپر ایک پیلی چادر ڈالے ہوئے تھے اور اس سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے۔ ( آ کر ) کہنے لگے: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں ( ہیں ) انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بنی فلاں کا «مربد» ( کھجوریں خشک کرنے کا میدان، کھلیان ) خرید لے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے ( وقف کر کے ہماری ) مسجد میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“۔ ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں ( ہمیں معلوم ہے ) ( پھر ) انہوں نے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا“، تو میں نے اسے اتنے اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اسے اتنے داموں میں خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کو عام مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“۔ انہوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں، ( پھر ) انہوں نے کہا: میں قسم دیتا ہوں تم کو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا ”جو شخص ان لوگوں کو تیار کر دے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“۔ «هؤلاء» سے مراد جیش عسرت ہے ( ساز و سامان سے تہی دست لشکر ) تو میں نے انہیں مسلح کر دیا اور اس طرح تیار کر دیا کہ انہیں اونٹوں کے پیر باندھنے کی رسی اور نکیل کی رسی کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی تو ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا ہاں ( ایسا ہی ہوا ہے ) تب عثمان نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ ( میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا ہے اور ایسا کرنے والا مجرم نہیں ہو سکتا ) ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الله بن ادريس، قال سمعت حصين بن عبد الرحمن، يحدث عن عمرو بن جاوان، عن الاحنف بن قيس، قال خرجنا حجاجا فقدمنا المدينة ونحن نريد الحج فبينا نحن في منازلنا نضع رحالنا اذ اتانا ات فقال ان الناس قد اجتمعوا في المسجد وفزعوا . فانطلقنا فاذا الناس مجتمعون على نفر في وسط المسجد واذا علي والزبير وطلحة وسعد بن ابي وقاص فانا لكذلك اذ جاء عثمان بن عفان عليه ملاءة صفراء قد قنع بها راسه فقال اها هنا علي اها هنا طلحة اها هنا الزبير اها هنا سعد قالوا نعم . قال فاني انشدكم بالله الذي لا اله الا هو اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يبتاع مربد بني فلان غفر الله له " . فابتعته بعشرين الفا او بخمسة وعشرين الفا فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال " اجعلها في مسجدنا واجره لك " . قالوا اللهم نعم . قال فانشدكم بالله الذي لا اله الا هو اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يبتاع بير رومة غفر الله له " . فابتعته بكذا وكذا فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت قد ابتعتها بكذا وكذا . قال " اجعلها سقاية للمسلمين واجرها لك " . قالوا اللهم نعم . قال فانشدكم بالله الذي لا اله الا هو اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نظر في وجوه القوم فقال " من جهز هولاء الله غفر له " . يعني جيش العسرة فجهزتهم حتى ما يفقدون عقالا ولا خطاما . قالوا اللهم نعم . قال اللهم اشهد اللهم اشهد
ثمامہ بن حزن قشیری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر موجود تھا جب انہوں نے اوپر سے جھانک کر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو وہاں بئررومہ کے سوا کہیں بھی پینے کا میٹھا پانی نہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ہے کوئی جو رومہ کا کنواں خرید کر ( وقف کر کے ) اپنے اور تمام مسلمانوں کے ڈولوں کو یکساں کر دے اس کے عوض اسے جنت میں اس سے بہتر ملے گا“۔ میں نے ( آپ کے اس ارشاد کے بعد ) اسے اپنے ذاتی مال سے خرید کر اپنا ڈول عام مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ کر دیا ( یعنی وقف کر دیا اور اپنے لیے کوئی تخصیص نہ کی ) اور آج یہ حال ہے کہ تم لوگ مجھے اس کا پانی پینے نہیں دے رہے ہو، حال یہ ہے کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں۔ لوگوں نے کہا: ہاں، ( اسی طرح ہے ) ( پھر ) انہوں نے کہا: میں تم سے اسلام اور اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو جیش عسرہ ( ضرورت مند لشکر ) کو میں نے اپنا مال صرف کر کے جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا۔ ان لوگوں نے کہا: ہاں، ( ایسا ہی ہے ) انہوں نے ( پھر ) کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے مسجد اپنے نمازیوں پر تنگ ہو گئی تھی، آپ نے فرمایا تھا: ”کون ہے جو فلاں خاندان کی زمین کو خرید کر جنت میں اس سے بہتر پانے کے لیے اسے مسجد میں شامل کر کے مسجد کو مزید وسعت دیدے“۔ تو میں نے اس زمین کے کئی ٹکڑے کو اپنا ذاتی مال صرف کر کے خرید لیا تھا اور مسجد میں اس کا اضافہ کر دیا تھا اور تمہارا حال آج یہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے تک نہیں دے رہے ہو۔ لوگوں نے کہا: ہاں ( بجا فرما رہے ہیں آپ ) ۔ انہوں نے ( پھر ) کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر بھی تھے اور میں بھی تھا، اس وقت وہ پہاڑ ہلنے لگا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: ”ثبیر! سکون سے رہ، کیونکہ ( یہاں ) تیرے اوپر نبی، صدیق اور دو شہید موجود ہیں“۔ لوگوں نے کہا: اللہ گواہ ہے، ہاں ( آپ ٹھیک کہتے ہیں ) انہوں نے کہا: اللہ اکبر، اللہ بہت بڑا ہے۔ ان لوگوں نے ( میرے شہید ہونے کی ) گواہی دی۔ رب کعبہ کی قسم میں شہید ہوں۔
اخبرني زياد بن ايوب، قال حدثنا سعيد بن عامر، عن يحيى بن ابي الحجاج، عن سعيد الجريري، عن ثمامة بن حزن القشيري، قال شهدت الدار حين اشرف عليهم عثمان فقال انشدكم بالله وبالاسلام هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بير رومة فقال " من يشتري بير رومة فيجعل فيها دلوه مع دلاء المسلمين بخير له منها في الجنة " . فاشتريتها من صلب مالي فجعلت دلوي فيها مع دلاء المسلمين وانتم اليوم تمنعوني من الشرب منها حتى اشرب من ماء البحر قالوا اللهم نعم . قال فانشدكم بالله والاسلام هل تعلمون اني جهزت جيش العسرة من مالي قالوا اللهم نعم . قال فانشدكم بالله والاسلام هل تعلمون ان المسجد ضاق باهله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يشتري بقعة ال فلان فيزيدها في المسجد بخير له منها في الجنة " . فاشتريتها من صلب مالي فزدتها في المسجد وانتم تمنعوني ان اصلي فيه ركعتين قالوا اللهم نعم . قال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على ثبير ثبير مكة ومعه ابو بكر وعمر وانا فتحرك الجبل فركضه رسول الله صلى الله عليه وسلم برجله وقال " اسكن ثبير فانما عليك نبي وصديق وشهيدان " . قالوا اللهم نعم . قال الله اكبر شهدوا لي ورب الكعبة . يعني اني شهيد
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ جب لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو عثمان نے مکان کے اوپر سے نیچے کی طرف جھانکتے ہوئے لوگوں سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس نے پہاڑ کے ہلنے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ جب پہاڑ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھوکر لگا کر کہا تھا: ”ٹھہرا رہ ( سکون سے رہ ) تیرے اوپر ایک نبی، صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں“، ( کوئی اور نہیں ) اس وقت میں آپ کے ساتھ تھا ( یہ سن کر ) بہت سے لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی، انہوں نے ( پھر ) کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ) فرمایا تھا: ”یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ ہاتھ عثمان کا“ ۱؎، تو بہت سے لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر انہوں نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جس نے جیش عسرہ ( تنگ حالی سے دوچار لشکر ) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”کون ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ایسا خرچ جس کی ( بارگاہ الٰہی میں ) قبولیت یقینی ہے“۔ اس وقت میں نے اپنے ذاتی مال کو خرچ کر کے آدھے لشکر کی ضروریات کو پورا کر کے میدان جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا تو بےشمار لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے ( پھر ) کہا: میں اس شخص سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”کون ہے جو جنت میں ایک گھر کے عوض اس مسجد ( نبوی ) میں توسیع کرتا ہے“۔ میں نے ( یہ سن کر مسجد سے ملی ہوئی زمین ) اپنے پیسوں سے خرید کر مسجد کو کشادہ کر دیا، تو لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے پھر کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جو بئررومہ کی فروختگی کے وقت موجود تھا میں نے اسے اپنا مال دے کر خریدا تھا اور میں نے اسے مسافروں کے لیے عام کر دیا تھا ( جو بھی گزرنے والا اس کا پانی پینا چاہے پیے ) لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔
اخبرنا عمران بن بكار بن راشد، قال حدثنا خطاب بن عثمان، قال حدثنا عيسى بن يونس، حدثني ابي، عن ابي اسحاق، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان عثمان، اشرف عليهم حين حصروه فقال انشد بالله رجلا سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم الجبل حين اهتز فركله برجله وقال " اسكن فانه ليس عليك الا نبي او صديق او شهيدان " . وانا معه فانتشد له رجال ثم قال انشد بالله رجلا شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بيعة الرضوان يقول " هذه يد الله وهذه يد عثمان " . فانتشد له رجال ثم قال انشد بالله رجلا سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم جيش العسرة يقول " من ينفق نفقة متقبلة " . فجهزت نصف الجيش من مالي فانتشد له رجال ثم قال انشد بالله رجلا سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من يزيد في هذا المسجد ببيت في الجنة " . فاشتريته من مالي فانتشد له رجال ثم قال انشد بالله رجلا شهد رومة تباع فاشتريتها من مالي فابحتها لابن السبيل فانتشد له رجال
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ کا ان کے گھر میں محاصرہ کر دیا گیا اور لوگ ان کے گھر کے چاروں طرف اکٹھا ہو گئے تو انہوں نے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھا، اور عبدالرحمٰن نے ( اوپر گزری ہوئی ) پوری حدیث بیان کی۔
اخبرني محمد بن وهب، قال حدثني محمد بن سلمة، قال حدثني ابو عبد الرحيم، قال حدثني زيد بن ابي انيسة، عن ابي اسحاق، عن ابي عبد الرحمن السلمي، قال لما حصر عثمان في داره اجتمع الناس حول داره - قال - فاشرف عليهم . وساق الحديث
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا المعتمر بن سليمان، قال سمعت ابي يحدث، عن حصين بن عبد الرحمن، عن عمرو بن جاوان، - رجل من بني تميم - وذاك اني قلت له ارايت اعتزال الاحنف بن قيس ما كان قال سمعت الاحنف يقول اتيت المدينة وانا حاج فبينا نحن في منازلنا نضع رحالنا اذ اتى ات فقال قد اجتمع الناس في المسجد فاطلعت فاذا يعني الناس مجتمعون واذا بين اظهرهم نفر قعود فاذا هو علي بن ابي طالب والزبير وطلحة وسعد بن ابي وقاص رحمة الله عليهم فلما قمت عليهم قيل هذا عثمان بن عفان قد جاء - قال - فجاء وعليه ملية صفراء فقلت لصاحبي كما انت حتى انظر ما جاء به . فقال عثمان اها هنا علي اها هنا الزبير اها هنا طلحة اها هنا سعد قالوا نعم . قال فانشدكم بالله الذي لا اله الا هو اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يبتاع مربد بني فلان غفر الله له " . فابتعته فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اني ابتعت مربد بني فلان . قال " فاجعله في مسجدنا واجره لك " . قالوا نعم . قال فانشدكم بالله الذي لا اله الا هو هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يبتاع بير رومة غفر الله له " . فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت قد ابتعت بير رومة . قال " فاجعلها سقاية للمسلمين واجرها لك " . قالوا نعم . قال فانشدكم بالله الذي لا اله الا هو هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يجهز جيش العسرة غفر الله له " . فجهزتهم حتى ما يفقدون عقالا ولا خطاما . قالوا نعم . قال اللهم اشهد اللهم اشهد اللهم اشهد