احادیث
#3599
سنن نسائی - Endowments
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ( بعد فتح خیبر تقسیم غنیمت میں ) ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے جس سے بہتر مال میرے نزدیک مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ ہمیں بتائیں میں اسے کیا کروں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس سے حاصل پیداوار کو تقسیم ( خیرات ) کر دو، تو انہوں نے اس زمین کو بایں طور صدقہ کر دیا کہ وہ نہ بیچی جائے گی نہ وہ بخشش میں دی جائے گی اور نہ وہ ورثہ میں دی جائے گی، اس کی آمدنی تقسیم ہو گی فقراء میں، جملہ رشتہ ناطہٰ والوں میں، غلام آزاد کرنے میں، اللہ کی راہ ( جہاد ) میں، مہمان نوازی میں، مسافروں کی امداد میں، اس زمین کے متولی ( نگران و مہتمم ) کے اس کی آمدنی میں سے معروف طریقے سے کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور نہ ہی دوست واحباب کو کھلانے میں کوئی حرج ہے لیکن ( اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر ) مالدار بننے کی کوشش نہ کرے۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، ان عمر، قال اصاب عمر ارضا بخيبر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اصبت ارضا لم اصب مالا قط انفس عندي فكيف تامر به قال " ان شيت حبست اصلها وتصدقت بها " . فتصدق بها - على ان لا تباع ولا توهب ولا تورث - في الفقراء والقربى والرقاب وفي سبيل الله والضيف وابن السبيل لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف ويطعم صديقا غير متمول فيه
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Endowments
- Hadith Index
- #3599
- Book Index
- 6
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
