Loading...

Loading...
کتب
۳۳ احادیث
سلمہ بن نفیل کندی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! لوگوں نے گھوڑوں کی اہمیت اور قدر و قیمت ہی گھٹا دی، ہتھیار اتار کر رکھ دیے اور کہتے ہیں: اب کوئی جہاد نہیں رہا، لڑائی موقوف ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور ( پورے طور پر متوجہ ہو کر ) فرمایا: ”غلط اور جھوٹ کہتے ہیں، ( صحیح معنوں میں ) لڑائی کا وقت تو اب آیا ہے ۱؎، میری امت میں سے تو ایک امت ( ایک جماعت ) حق کی خاطر ہمیشہ برسرپیکار رہے گی اور اللہ تعالیٰ کچھ قوموں کے دلوں کو ان کی خاطر کجی میں مبتلا رکھے گا ۲؎ اور انہیں ( اہل حق کو ) ان ہی ( گمراہ لوگوں ) کے ذریعہ روزی ملے گی ۳؎، یہ سلسلہ قیامت ہونے تک چلتا رہے گا، جب تک اللہ کا وعدہ ( متقیوں کے لیے جنت اور مشرکوں و کافروں کے لیے جہنم ) پورا نہ ہو جائے گا، قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی ( خیر ) بندھی ہوئی ہے ۴؎ اور مجھے بذریعہ وحی یہ بات بتا دی گئی ہے کہ جلد ہی میرا انتقال ہو جائے گا اور تم لوگ مختلف گروہوں میں بٹ کر میری اتباع ( کا دعویٰ ) کرو گے اور حال یہ ہو گا کہ سب ( اپنے متعلق حق پر ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود ) ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہوں گے اور مسلمانوں کے گھر کا آنگن ( جہاں وہ پڑاؤ کر سکیں، ٹھہر سکیں، کشادگی سے رہ سکیں ) شام ہو گا“ ۵؎۔
اخبرنا احمد بن عبد الواحد، قال حدثنا مروان، - وهو ابن محمد - قال حدثنا خالد بن يزيد بن صالح بن صبيح المري، قال حدثنا ابراهيم بن ابي عبلة، عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي، عن جبير بن نفير، عن سلمة بن نفيل الكندي، قال كنت جالسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رجل يا رسول الله اذال الناس الخيل ووضعوا السلاح وقالوا لا جهاد قد وضعت الحرب اوزارها فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم بوجهه وقال " كذبوا الان الان جاء القتال ولا يزال من امتي امة يقاتلون على الحق ويزيغ الله لهم قلوب اقوام ويرزقهم منهم حتى تقوم الساعة وحتى ياتي وعد الله والخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة وهو يوحى الى اني مقبوض غير ملبث وانتم تتبعوني افنادا يضرب بعضكم رقاب بعض وعقر دار المومنين الشام
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دیا ہے“۔ گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں: بعض ایسے گھوڑے ہیں جن کے باعث آدمی ( یعنی گھوڑے والے ) کو اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے، اور کچھ گھوڑے وہ ہوتے ہیں جو آدمی کی عزت و وقار کے لیے پردہ پوشی کا باعث ( اور آدمی کا بھرم باقی رکھنے کا سبب بنتے ) ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو آدمی کے لیے بوجھ ( اور وبال ) ہوتے ہیں۔ اب رہے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے اجر و ثواب کا باعث بنتے ہیں تو یہ ایسے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے رکھے جائیں اور جہاد کے لیے تیار کیے جائیں، وہ جو چیز بھی کھالیں گے ان کے اپنے پیٹ میں ڈالی ہوئی ہر چیز کے عوض ان کے مالک کو اجر و ثواب ملے گا اگرچہ وہ چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑ دئیے گئے ہوں۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔
اخبرنا عمرو بن يحيى بن الحارث، قال حدثنا محبوب بن موسى، قال حدثنا ابو اسحاق، - يعني الفزاري - عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة الخيل ثلاثة فهي لرجل اجر وهي لرجل ستر وهي على رجل وزر فاما الذي هي له اجر فالذي يحتبسها في سبيل الله فيتخذها له ولا تغيب في بطونها شييا الا كتب له بكل شىء غيبت في بطونها اجر ولو عرضت له مرج " . وساق الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ گھوڑے ایسے ہیں جو آدمی کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہیں، اور بعض گھوڑے ایسے ہیں جو آدمی کے لیے ستر و حجاب کا ذریعہ ہیں، اور بعض گھوڑے وہ ہیں جو آدمی پر بوجھ ہوتے ہیں، اب رہا وہ آدمی جس کے لیے گھوڑے اجر و ثواب کا باعث ہوتے ہیں تو وہ ایسا آدمی ہے جس نے گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے باندھ کر پالا اور باغ و چراگاہ میں چرنے کے لیے ان کی رسی لمبی کی، تو وہ اس رسی کی درازی کے سبب چراگاہ اور باغ میں جتنی دور بھی چریں گے اس کے لیے ( اسی اعتبار سے ) نیکیاں لکھی جائیں گی اور اگر وہ اپنی رسی توڑ کر آگے پیچھے دوڑنے لگیں اور ( بقدر ) ایک دو منزل بلندیوں پر چڑھ جائیں تو بھی ان کے ہر قدم ( اور حارث کی روایت کے مطابق ) حتیٰ کہ ان کی لید ( گوبر ) پر بھی اسے اجر و ثواب ملے گا اور اگر وہ کسی نہر پر پہنچ جائیں اور اس نہر سے وہ پانی پی لیں اور مالک کا انہیں پانی پلانے کا پہلے سے کوئی ارادہ بھی نہ رہا ہو تو بھی یہ اس کی نیکیوں میں شمار ہوں گی اور اسے اس کا بھی اجر ملے گا۔ اور ( اب رہا دوسرا ) وہ شخص جو گھوڑے پالے شکر کی نعمت اور دوسرے لوگوں سے مانگنے کی محتاجی سے بے نیازی کے اظہار کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے ان کی گردنوں اور ان کے پٹھوں کے ذریعہ ( یعنی ان کی زکاۃ دے، اور جب اللہ کی راہ میں ان پر سواری کی ضرورت پیش آئے تو انہیں سواری کے لیے پیش کرے ) تو ایسے شخص کے لیے یہ گھوڑے اس کے لیے ( جہنم کے عذاب اور مار سے بچنے کے لیے ) ڈھال بن جائیں گے۔ اور ( اب رہا تیسرا ) وہ شخص جو فخر، ریا و نمود اور اہل اسلام سے دشمنی کی خاطر گھوڑے باندھے تو یہ گھوڑے اس کے لیے بوجھ ( عذاب و مصیبت ) ہیں“۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سلسلے میں ان کے متعلق مجھ پر کچھ نہیں اترا ہے سوائے اس منفرد جامع آیت کے «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی یا بھلائی کرے گا وہ اسے قیامت کے دن دیکھے گا اور جو شخص ذرہ برابر شر ( برائی ) کرے گا وہ اسے دیکھے گا“ ( الزلزال: ۷، ۸ ) ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الخيل لرجل اجر ولرجل ستر وعلى رجل وزر فاما الذي هي له اجر فرجل ربطها في سبيل الله فاطال لها في مرج او روضة فما اصابت في طيلها ذلك في المرج او الروضة كان له حسنات ولو انها قطعت طيلها ذلك فاستنت شرفا او شرفين كانت اثارها " . وفي حديث الحارث " وارواثها حسنات له ولو انها مرت بنهر فشربت منه ولم يرد ان تسقى كان ذلك حسنات فهي له اجر ورجل ربطها تغنيا وتعففا ولم ينس حق الله عز وجل في رقابها ولا ظهورها فهي لذلك ستر ورجل ربطها فخرا ورياء ونواء لاهل الاسلام فهي على ذلك وزر " . وسيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الحمير فقال " لم ينزل على فيها شىء الا هذه الاية الجامعة الفاذة { فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره}
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورت کے بعد گھوڑوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب اور پسندیدہ نہ تھی۔
اخبرني احمد بن حفص، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس، قال لم يكن شىء احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد النساء من الخيل
صحابی رسول ابو وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( اپنے بچوں کے ) نام انبیاء کے ناموں پر رکھو، اور اللہ کے نزدیک سب ناموں میں زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہے ۱؎، گھوڑے باندھو، ان کی پیشانی سہلاؤ اور ان کے پٹھوں کی مالش کرو، ان کے گلے میں قلادے لٹکاؤ، لیکن تانت کے نہیں، کمیتی ( سرخ سیاہ رنگ والے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں یا اشقر ( سرخ زرد رنگ والے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانیاں اور ٹانگیں سفید ہوں یا «ادھم» ( کالے رنگ کے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگوں پر سفیدی ہو“ ( یہ گھوڑے اچھے اور خیر و برکت والے ہوتے ہیں ) ۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا ابو احمد البزاز، هشام بن سعيد الطالقاني قال حدثنا محمد بن مهاجر الانصاري، عن عقيل بن شبيب، عن ابي وهب، - وكانت له صحبة - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسموا باسماء الانبياء واحب الاسماء الى الله عز وجل عبد الله وعبد الرحمن وارتبطوا الخيل وامسحوا بنواصيها واكفالها وقلدوها ولا تقلدوها الاوتار وعليكم بكل كميت اغر محجل او اشقر اغر محجل او ادهم اغر محجل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «شکال» گھوڑا ناپسند فرماتے تھے۔ اس حدیث کے الفاظ اسماعیل راوی کی روایت کے ہیں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، ح وانبانا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر، قال حدثنا شعبة، عن عبد الله بن يزيد، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يكره الشكال من الخيل . واللفظ لاسماعيل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «شکال» گھوڑا ناپسند فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: گھوڑے کا «شکال» یہ ہے کہ اس کے تین پیر سفید ہوں اور ایک کسی اور رنگ کا ہو یا تین پیر کسی اور رنگ کے ہوں اور ایک سفید ہو، «شکال» ہمیشہ پیروں میں ہوتا ہے ہاتھ میں نہیں۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال حدثني سلم بن عبد الرحمن، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كره الشكال من الخيل . قال ابو عبد الرحمن الشكال من الخيل ان تكون ثلاث قوايم محجلة وواحدة مطلقة او تكون الثلاثة مطلقة ورجل محجلة وليس يكون الشكال الا في رجل ولا يكون في اليد
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے، عورت، گھوڑے اور گھر میں“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، ومحمد بن منصور، - واللفظ له - قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في ثلاثة المراة والفرس والدار
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہے“۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن حمزة، وسالم، ابنى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر، رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في الدار والمراة والفرس
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نحوست کسی چیز میں ہو سکتی ہے تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان يك في شىء ففي الربعة والمراة والفرس
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ( رکھ دی گئی ) ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا النضر، قال حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت انسا، ح وانبانا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثني ابو التياح، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البركة في نواصي الخيل
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گھوڑے کی پیشانی کے بال اپنی انگلیوں کے درمیان لے کر گوندھتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ فرما رہے تھے: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر رکھ دیا گیا ہے۔ خیر سے مراد ثواب اور مال غنیمت ہے“ ۱؎۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا يونس، عن عمرو بن سعيد، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن جرير، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفتل ناصية فرس بين اصبعيه ويقول " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة الاجر والغنيمة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر ہے“۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الخيل في نواصيها الخير الى يوم القيامة
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر رکھ دی گئی ہے“۔
حدثنا محمد بن العلاء ابو كريب، قال حدثنا ابن ادريس، عن حصين، عن عامر، عن عروة البارقي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة
ابوالجعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر کی گرہ لگا دی گئی ( جس کے سبب ) اجر بھی ملے گا اور غنیمت بھی“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن حصين، عن الشعبي، عن عروة بن ابي الجعد، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة الاجر والمغنم
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑے کی پیشانی سے قیامت تک کے لیے خیر وابستہ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت بھی“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال انبانا محمد بن جعفر، قال انبانا شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، عن عروة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة الاجر والمغنم
عروہ بن ابی الجعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر باندھ دیا گیا ہے ( اور خیر سے مراد کیا ہے؟ ) ثواب اور مال غنیمت“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال انبانا شعبة، قال اخبرني حصين، وعبد الله بن ابي السفر، انهما سمعا الشعبي، يحدث عن عروة بن ابي الجعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة الاجر والمغنم
خالد بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہمارے قریب سے گزرا کرتے تھے، کہتے تھے: اے خالد! ہمارے ساتھ آؤ، چل کر تیر اندازی کرتے ہیں، پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں سستی سے ان کے ساتھ نکلنے میں دیر کر دی تو انہوں نے آواز لگائی: خالد! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی ایک بات بتاتا ہوں، چنانچہ میں ان کے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: ( ایک ) بھلائی حاصل کرنے کے ارادہ سے تیر بنانے والا، ( دوسرا ) تیر چلانے والا، ( تیسرا ) تیر پکڑنے والا، اٹھا اٹھا کر دینے والا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) تیر اندازی کرو، گھوڑ سواری کرو اور تمہاری تیر اندازی مجھے تمہاری گھوڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے۔ ( مباح و مندوب ) لہو و لذت یابی، تفریح و مزہ تو صرف تین چیزوں میں ہے: ( ایک ) اپنے گھوڑے کو میدان میں کار آمد بنانے کے لیے سدھانے میں، ( دوسرے ) اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، کھیل کود میں اور ( تیسرے ) اپنی کمان و تیر سے تیر اندازی کرنے میں اور جو شخص تیر اندازی جاننے ( و سیکھنے ) کے بعد اس سے نفرت و بیزاری کے باعث اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کی ( جو اسے حاصل تھی ) ناشکری ( و ناقدری ) کی۔ راوی کو شبہ ہو گیا ہے کہ آپ نے اس موقع پر «کفرہا» کہا یا «کفر بہا» کہا۔
اخبرنا الحسن بن اسماعيل بن مجالد، قال حدثنا عيسى بن يونس، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، قال حدثني ابو سلام الدمشقي، عن خالد بن يزيد الجهني، قال كان عقبة بن عامر يمر بي فيقول يا خالد اخرج بنا نرمي . فلما كان ذات يوم ابطات عنه فقال يا خالد تعال اخبرك بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيته فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة صانعه يحتسب في صنعه الخير والرامي به ومنبله وارموا واركبوا وان ترموا احب الى من ان تركبوا وليس اللهو الا في ثلاثة تاديب الرجل فرسه وملاعبته امراته ورميه بقوسه ونبله ومن ترك الرمى بعد ما علمه رغبة عنه فانها نعمة كفرها " . او قال " كفر بها
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عربی گھوڑے کو ( یہاں مخاطب عرب تھے ) ( اس لیے آپ نے عربی گھوڑا کہا، لیکن مقصود راہ جہاد میں کام آنے والے گھوڑے ہیں، اس لیے ہر اس عمدہ گھوڑے کو خواہ کسی بھی ملک کا ہو جو جہاد کی نیت سے رکھا جائے اس دعا کی اجازت ہونی چاہیئے ) ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ( وہ کہتا ہے ) اے اللہ! اولاد آدم میں سے جس کی بھی سپردگی میں مجھے دے اور جس کو بھی مجھے عطا کرے مجھے اس کے گھر والوں اور اس کے مالوں میں سب سے زیادہ محبوب و عزیز بنا دے یا مجھے اس کے محبوب گھر والوں اور پسندیدہ مالوں میں سے کر دے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال انبانا يحيى، قال حدثنا عبد الحميد بن جعفر، قال حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن سويد بن قيس، عن معاوية بن حديج، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من فرس عربي الا يوذن له عند كل سحر بدعوتين اللهم خولتني من خولتني من بني ادم وجعلتني له فاجعلني احب اهله وماله اليه او من احب ماله واهله اليه
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ میں خچر دیا گیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھا ( کر جفتی کرا ) دیں تو ہمارے پاس اس جیسے ( بہت سے خچر ) ہو جائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو نادان و ناسمجھ ہوتے ہیں“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن ابن زرير، عن علي بن ابي طالب، رضى الله عنه قال اهديت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بغلة فركبها فقال علي لو حملنا الحمير على الخيل لكانت لنا مثل هذه . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما يفعل ذلك الذين لا يعلمون