احادیث
#3563
سنن نسائی - Horses, Races and Shooting
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ گھوڑے ایسے ہیں جو آدمی کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہیں، اور بعض گھوڑے ایسے ہیں جو آدمی کے لیے ستر و حجاب کا ذریعہ ہیں، اور بعض گھوڑے وہ ہیں جو آدمی پر بوجھ ہوتے ہیں، اب رہا وہ آدمی جس کے لیے گھوڑے اجر و ثواب کا باعث ہوتے ہیں تو وہ ایسا آدمی ہے جس نے گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے باندھ کر پالا اور باغ و چراگاہ میں چرنے کے لیے ان کی رسی لمبی کی، تو وہ اس رسی کی درازی کے سبب چراگاہ اور باغ میں جتنی دور بھی چریں گے اس کے لیے ( اسی اعتبار سے ) نیکیاں لکھی جائیں گی اور اگر وہ اپنی رسی توڑ کر آگے پیچھے دوڑنے لگیں اور ( بقدر ) ایک دو منزل بلندیوں پر چڑھ جائیں تو بھی ان کے ہر قدم ( اور حارث کی روایت کے مطابق ) حتیٰ کہ ان کی لید ( گوبر ) پر بھی اسے اجر و ثواب ملے گا اور اگر وہ کسی نہر پر پہنچ جائیں اور اس نہر سے وہ پانی پی لیں اور مالک کا انہیں پانی پلانے کا پہلے سے کوئی ارادہ بھی نہ رہا ہو تو بھی یہ اس کی نیکیوں میں شمار ہوں گی اور اسے اس کا بھی اجر ملے گا۔ اور ( اب رہا دوسرا ) وہ شخص جو گھوڑے پالے شکر کی نعمت اور دوسرے لوگوں سے مانگنے کی محتاجی سے بے نیازی کے اظہار کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے ان کی گردنوں اور ان کے پٹھوں کے ذریعہ ( یعنی ان کی زکاۃ دے، اور جب اللہ کی راہ میں ان پر سواری کی ضرورت پیش آئے تو انہیں سواری کے لیے پیش کرے ) تو ایسے شخص کے لیے یہ گھوڑے اس کے لیے ( جہنم کے عذاب اور مار سے بچنے کے لیے ) ڈھال بن جائیں گے۔ اور ( اب رہا تیسرا ) وہ شخص جو فخر، ریا و نمود اور اہل اسلام سے دشمنی کی خاطر گھوڑے باندھے تو یہ گھوڑے اس کے لیے بوجھ ( عذاب و مصیبت ) ہیں“۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سلسلے میں ان کے متعلق مجھ پر کچھ نہیں اترا ہے سوائے اس منفرد جامع آیت کے «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی یا بھلائی کرے گا وہ اسے قیامت کے دن دیکھے گا اور جو شخص ذرہ برابر شر ( برائی ) کرے گا وہ اسے دیکھے گا“ ( الزلزال: ۷، ۸ ) ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الخيل لرجل اجر ولرجل ستر وعلى رجل وزر فاما الذي هي له اجر فرجل ربطها في سبيل الله فاطال لها في مرج او روضة فما اصابت في طيلها ذلك في المرج او الروضة كان له حسنات ولو انها قطعت طيلها ذلك فاستنت شرفا او شرفين كانت اثارها " . وفي حديث الحارث " وارواثها حسنات له ولو انها مرت بنهر فشربت منه ولم يرد ان تسقى كان ذلك حسنات فهي له اجر ورجل ربطها تغنيا وتعففا ولم ينس حق الله عز وجل في رقابها ولا ظهورها فهي لذلك ستر ورجل ربطها فخرا ورياء ونواء لاهل الاسلام فهي على ذلك وزر " . وسيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الحمير فقال " لم ينزل على فيها شىء الا هذه الاية الجامعة الفاذة { فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره}
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Horses, Races and Shooting
- Hadith Index
- #3563
- Book Index
- 3
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
