Loading...

Loading...
کتب
۳۳ احادیث
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا ہو سکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے تھے، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا، آپ نے اسے پہنچا دیا۔ قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامۃ الناس سے ہٹ کر ہم اہل بیت سے تین باتوں کے سوا اور کوئی خصوصیت نہیں برتی۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کریں، ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں اور نہ ہی گدھوں کو گھوڑیوں پر کدائیں ( جفتی کرائیں ) ۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا حماد، عن ابي جهضم، عن عبد الله بن عبيد الله بن عباس، قال كنت عند ابن عباس فساله رجل اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر قال لا . قال فلعله كان يقرا في نفسه قال خمشا هذه شر من الاولى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد امره الله تعالى بامره فبلغه والله ما اختصنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بشىء دون الناس الا بثلاثة امرنا ان نسبغ الوضوء وان لا ناكل الصدقة ولا ننزي الحمر على الخيل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑا پالے اور اللہ پر اس کا پورا ایمان ہو اور اللہ کے وعدوں پر اسے پختہ یقین ہو تو اس گھوڑے کی آسودگی، اس کی سیرابی، اس کا پیشاب اور اس کا گوبر سب نیکیاں بنا کر اس کے میزان میں رکھ دی جائیں گی“۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، حدثني طلحة بن ابي سعيد، ان سعيدا المقبري، حدثه عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احتبس فرسا في سبيل الله ايمانا بالله وتصديقا لوعد الله كان شبعه وريه وبوله وروثه حسنات في ميزانه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک ) گھوڑوں کی دوڑ کرائی ( کہ کون گھوڑا آگے نکلتا ہے ) ۱؎ حفیاء سے روانہ کرتے ( دوڑاتے ) اور ثنیۃ الوداع آخری حد تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں میں بھی دوڑ کرائی جو محنت و مشقت کے عادی نہ تھے ( جو سدھائے اور تربیت یافتہ نہ تھے ) اور ان کے دوڑ کی حد ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک تھی ۲؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سابق بين الخيل يرسلها من الحفياء وكان امدها ثنية الوداع وسابق بين الخيل التي لم تضمر وكان امدها من الثنية الى مسجد بني زريق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ کرایا، ( دوڑ کی ) آخری حد حفیاء سے شروع ہو کر ثنیۃ الوداع تک تھی، ( ایسے ہی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کے درمیان بھی ثنیۃ سے لے کر مسجد بنی زریق کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرایا جو، غیر تربیت یافتہ تھے ( جو مشقت اور بھوک و تکلیف کے عادی نہ تھے ) ۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اس مقابلے کے دوڑ میں حصہ لیا تھا۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سابق بين الخيل التي قد اضمرت من الحفياء وكان امدها ثنية الوداع وسابق بين الخيل التي لم تضمر من الثنية الى مسجد بني زريق وان عبد الله كان ممن سابق بها
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف تین چیزوں میں ( انعام و اکرام کی ) شرط لگانا جائز ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن ابن ابي ذيب، عن نافع بن ابي نافع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا سبق الا في نصل او حافر او خف
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے بڑھنے کی شرط صرف تین چیزوں میں لگانا درست ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں“۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن ابو عبيد الله المخزومي، قال حدثنا سفيان، عن ابن ابي ذيب، عن نافع بن ابي نافع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا سبق الا في نصل او خف او حافر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ شرط حلال نہیں ہے سوائے اونٹ میں اور گھوڑے میں ۱؎۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا ابن ابي مريم، قال انبانا الليث، عن ابن ابي جعفر، عن محمد بن عبد الرحمن، عن سليمان بن يسار، عن ابي عبد الله، مولى الجندعيين عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال لا يحل سبق الا على خف او حافر
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی ( دیہاتی ) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات ( ہار ) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے: اللہ کے رسول! عضباء شکست کھا گئی ( اور ہمیں اس کا رنج ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کے حق ( و اختیار ) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہو جاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کر دیتا اور نیچے گرا دیتا ہے“ ( اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن خالد، قال حدثنا حميد، عن انس، قال كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ناقة تسمى العضباء لا تسبق فجاء اعرابي على قعود فسبقها فشق على المسلمين فلما راى ما في وجوههم قالوا يا رسول الله سبقت العضباء . قال " ان حقا على الله ان لا يرتفع من الدنيا شىء الا وضعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں اور گھوڑوں کے آگے بڑھنے کے مقابلوں کے سوا اور کہیں شرط لگانا درست نہیں ہے“۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، عن محمد بن عمرو، عن ابي الحكم، - مولى لبني ليث - عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا سبق الا في خف او حافر
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ تو جلب ہے اور نہ جنب ہے اور نہ ہی شغار ہے اور جس نے لوٹ کھسوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا حميد، قال حدثنا الحسن، عن عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا جلب ولا جنب ولا شغار في الاسلام ومن انتهب نهبة فليس منا
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب اور نہ ہی شغار ہے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن ابي قزعة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا جلب ولا جنب ولا شغار في الاسلام
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اونٹنی کی ) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز ( رنج و ملال ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے“۔
اخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، قال حدثنا بقية بن الوليد، قال حدثنى شعبة، قال حدثني حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال سابق رسول الله صلى الله عليه وسلم اعرابي فسبقه فكان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وجدوا في انفسهم من ذلك فقيل له في ذلك فقال " حق على الله ان لا يرفع شىء نفسه في الدنيا الا وضعه الله
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ ۔ ( فتح ) خیبر کے سال زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت میں ) چار حصے لگائے۔ ایک حصہ ان کا اپنا اور ایک حصہ قرابت داری کا لحاظ کر کے کیونکہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی ماں تھیں اور دو حصے گھوڑے کے۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال اخبرني سعيد بن عبد الرحمن، عن هشام بن عروة، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن جده، انه كان يقول ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم عام خيبر للزبير بن العوام اربعة اسهم سهما للزبير وسهما لذي القربى لصفية بنت عبد المطلب ام الزبير وسهمين للفرس