Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی کوئی نماز بغیر اس کے وقت کے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے مغرب و عشاء کے جنہیں آپ نے مزدلفہ میں پڑھی، اور اسی دن کی فجر جسے آپ نے اس کے مقررہ وقت سے پہلے پڑھی۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة قط الا لميقاتها الا صلاة المغرب والعشاء صلاهما بجمع وصلاة الفجر يوميذ قبل ميقاتها
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ یہاں یہ نماز ( یعنی نماز فجر ) پڑھ لی، اور ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفہ میں رات یا دن میں ( کسی وقت بھی ) وقوف کر چکا ہے تو اس کا حج پورا ہو گیا“۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن اسماعيل، وداود، وزكريا، عن الشعبي، عن عروة بن مضرس، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم واقفا بالمزدلفة فقال " من صلى معنا صلاتنا هذه ها هنا ثم اقام معنا وقد وقف قبل ذلك بعرفة ليلا او نهارا فقد تم حجه
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پا لے یہاں تک کہ وہ وہاں سے واپس منیٰ کو لوٹے تو اس نے حج پا لیا۔ اور جو امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو نہ پا سکا تو اس نے حج نہیں پایا“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثني جرير، عن مطرف، عن الشعبي، عن عروة بن مضرس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادرك جمعا مع الامام والناس حتى يفيض منها فقد ادرك الحج ومن لم يدرك مع الناس والامام فلم يدرك
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طے کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے ریت کا کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ نماز ( یعنی نماز فجر ) ہمارے ساتھ پڑھی، اور وہ اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کے کسی حصے میں ٹھہر چکا ہے، تو اس کا حج پورا ہو گیا، اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا“۔
اخبرنا علي بن الحسين، قال حدثنا امية، عن شعبة، عن سيار، عن الشعبي، عن عروة بن مضرس، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بجمع فقلت يا رسول الله اني اقبلت من جبلى طيي لم ادع حبلا الا وقفت عليه فهل لي من حج فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى هذه الصلاة معنا وقد وقف قبل ذلك بعرفة ليلا او نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: کیا میرا حج ہوا؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز ( یعنی نماز فجر ) پڑھی، اور اس مقام پر لوٹتے وقت تک ٹھہرا، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، قال سمعت الشعبي، يقول حدثني عروة بن مضرس بن اوس بن حارثة بن لام، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بجمع فقلت هل لي من حج فقال " من صلى هذه الصلاة معنا ووقف هذا الموقف حتى يفيض وافاض قبل ذلك من عرفات ليلا او نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه
عروہ بن مضرس طائی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں آپ کے پاس طے کے دونوں پہاڑوں سے ہو کر آیا ہوں میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے، اور میں خود بھی تھک کر چور چور ہو چکا ہوں۔ ریت کا کوئی ٹیلہ ایسا نہیں رہا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے یہاں ہمارے ساتھ نماز فجر پڑھی، اور اس سے پہلے وہ عرفہ آ چکا ہو تو اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن اسماعيل، قال اخبرني عامر، قال اخبرني عروة بن مضرس الطايي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اتيتك من جبلى طيي اكللت مطيتي واتعبت نفسي ما بقي من حبل الا وقفت عليه فهل لي من حج فقال " من صلى صلاة الغداة ها هنا معنا وقد اتى عرفة قبل ذلك فقد قضى تفثه وتم حجه
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”حج عرفہ ( میں وقوف ) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آ جائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرے اور تیرہویں کو بھی رکے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے“۔ پھر آپ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، جو لوگوں میں اسے پکار پکار کر کہنے لگا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال حدثني بكير بن عطاء، قال سمعت عبد الرحمن بن يعمر الديلي، قال شهدت النبي صلى الله عليه وسلم بعرفة واتاه ناس من نجد فامروا رجلا فساله عن الحج فقال " الحج عرفة من جاء ليلة جمع قبل صلاة الصبح فقد ادرك حجه ايام منى ثلاثة ايام { من تعجل في يومين فلا اثم عليه ومن تاخر فلا اثم عليه } " . ثم اردف رجلا فجعل ينادي بها في الناس
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا مزدلفہ موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا جعفر بن محمد، قال حدثنا ابي قال، اتينا جابر بن عبد الله فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المزدلفة كلها موقف
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مزدلفہ میں تھے کہ میں نے اس ذات کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اس جگہ «لبيك اللہم لبيك» کہتے سنا۔
اخبرنا هناد بن السري، في حديثه عن ابي الاحوص، عن حصين، عن كثير، - وهو ابن مدرك - عن عبد الرحمن بن يزيد، قال قال ابن مسعود ونحن بجمع سمعت الذي، انزلت عليه سورة البقرة يقول في هذا المكان " لبيك اللهم لبيك
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو وہ کہنے لگے: اہل جاہلیت جب تک سورج نکل نہیں جاتا مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے، کہتے تھے «أشرق ثبیر» ”اے ثبیر روشن ہو جا“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی، پھر وہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، قال سمعته يقول شهدت عمر بجمع فقال ان اهل الجاهلية كانوا لا يفيضون حتى تطلع الشمس ويقولون اشرق ثبير وان رسول الله صلى الله عليه وسلم خالفهم ثم افاض قبل ان تطلع الشمس
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے خاندان کے کمزور لوگوں کے ساتھ ( رات ہی میں ) بھیج دیا تو ہم نے نماز فجر منیٰ میں پڑھی، اور جمرہ کی رمی کی۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن اشهب، ان داود بن عبد الرحمن، حدثهم ان عمرو بن دينار حدثه ان عطاء بن ابي رباح حدثهم انه، سمع ابن عباس، يقول ارسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم في ضعفة اهله فصلينا الصبح بمنى ورمينا الجمرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے خواہش ہوئی کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی جس طرح سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت طلب کی تھی۔ اور لوگوں کے آنے سے پہلے میں بھی منیٰ میں نماز فجر پڑھتی، سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( پہلے ہی لوٹ جانے کی ) اجازت مانگی۔ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی، تو انہوں نے فجر منیٰ میں پڑھی، اور لوگوں کے پہنچنے سے پہلے رمی کر لی۔
اخبرنا محمد بن ادم بن سليمان، قال حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن عبيد الله، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن ام المومنين، عايشة قالت وددت اني استاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما استاذنته سودة فصليت الفجر بمنى قبل ان ياتي الناس وكانت سودة امراة ثقيلة ثبطة فاستاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذن لها فصلت الفجر بمنى ورمت قبل ان ياتي الناس
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا۔ میں نے ان سے کہا: ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آ گئے ( حالانکہ دن میں آنا چاہیئے ) ، تو انہوں نے کہا: ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے ( یعنی غلس میں آتے تھے ) جو تم سے بہتر تھے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عطاء بن ابي رباح، ان مولى، لاسماء بنت ابي بكر اخبره قال جيت مع اسماء بنت ابي بكر منى بغلس فقلت لها لقد جينا منى بغلس . فقالت قد كنا نصنع هذا مع من هو خير منك
عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز بھگاتے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، قال حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال سيل اسامة بن زيد وانا جالس، معه كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في حجة الوداع حين دفع قال كان يسير ناقته فاذا وجد فجوة نص
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، عن ابي معبد، عن عبد الله بن عباس، عن الفضل بن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للناس حين دفعوا عشية عرفة وغداة جمع " عليكم بالسكينة " . وهو كاف ناقته حتى اذا دخل منى فهبط حين هبط محسرا قال " عليكم بحصى الخذف الذي يرمى به الجمرة " . وقال قال النبي صلى الله عليه وسلم يشير بيده كما يخذف الانسان
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹ کو تیز دوڑایا۔
اخبرنا ابراهيم بن محمد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم اوضع في وادي محسر
ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے ( وہاں پہنچ کر ) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔
اخبرني ابراهيم بن هارون، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، قال حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، قال دخلنا على جابر بن عبد الله فقلت اخبرني عن حجة النبي، صلى الله عليه وسلم . فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دفع من المزدلفة قبل ان تطلع الشمس واردف الفضل بن العباس حتى اتى محسرا حرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرجك على الجمرة الكبرى حتى اتى الجمرة التي عند الشجرة فرمى بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها حصى الخذف رمى من بطن الوادي
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، تو برابر تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کی۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن سفيان، - وهو ابن حبيب - عن عبد الملك بن جريج، وعبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن ابن عباس، عن الفضل بن عباس، انه كان رديف النبي صلى الله عليه وسلم فلم يزل يلبي حتى رمى الجمرة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لبیک پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کی۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن حبيب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لبى حتى رمى الجمرة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا: اور آپ اپنی سواری پر تھے کہ ”میرے لیے کنکریاں چن دو“۔ تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں جو چھوٹی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ سکتی تھیں جب میں نے آپ کے ہاتھ میں انہیں رکھا تو آپ نے فرمایا: ”ایسی ہی ہونی چاہیئے، اور تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے دین میں غلو ہی نے ہلاک کر دیا ہے۔“
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، قال حدثنا ابن علية، قال حدثنا عوف، قال حدثنا زياد بن حصين، عن ابي العالية، قال قال ابن عباس قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة العقبة وهو على راحلته " هات القط لي " . فلقطت له حصيات هن حصى الخذف فلما وضعتهن في يده قال بامثال هولاء " واياكم والغلو في الدين فانما اهلك من كان قبلكم الغلو في الدين