Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے چلے، اور میں آپ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا، تو آپ اپنی سواری اونٹ کی نکیل ( اسے تیز چلنے سے روکنے کے لیے کھینچنے لگے یہاں تک کہ اس کے کان کی جڑیں پالان کے اگلے حصے کو چھونے لگی ) اور آپ فرما رہے تھے: ”لوگو! اپنے اوپر وقار اور سکون کو لازم پکڑو، کیونکہ بھلائی اونٹ دوڑانے میں نہیں“ ( بلکہ لوگوں کو ایذا پہنچانے سے بچنے میں ہے ) ۔
اخبرنا ابراهيم بن يونس بن محمد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا حماد، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن ابن عباس، ان اسامة بن زيد، قال افاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة وانا رديفه فجعل يكبح راحلته حتى ان ذفراها ليكاد يصيب قادمة الرحل وهو يقول " يا ايها الناس عليكم بالسكينة والوقار فان البر ليس في ايضاع الابل
ابوغطفان بن طریف سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے ( مزدلفہ کے لیے چلے، تو آپ نے اپنی اونٹنی کی مہار کھینچی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کی لکڑی سے چھونے لگا، آپ عرفہ کی شام میں ( مزدلفہ کے لیے چلتے وقت لوگوں سے ) فرما رہے تھے: ”اطمینان و سکون کو لازم پکڑو، اطمینان و سکون کو لازم پکڑو“۔
اخبرنا محمد بن علي بن حرب، قال حدثنا محرز بن الوضاح، عن اسماعيل، - يعني ابن امية - عن ابي غطفان بن طريف، حدثه انه، سمع ابن عباس، يقول لما دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم شنق ناقته حتى ان راسها ليمس واسطة رحله وهو يقول للناس " السكينة السكينة " . عشية عرفة
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو اپنی اونٹنی روک کر لوگوں سے فرمایا: ”اطمینان و وقار کو لازم پکڑو“ یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے، اور وہ منیٰ کا ایک حصہ ہے، تو فرمایا: ”چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو جسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مارا جا سکے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر تلبیہ پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن ابي معبد، مولى ابن عباس عن ابن عباس، عن الفضل بن عباس، وكان، رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في عشية عرفة وغداة جمع للناس حين دفعوا " عليكم السكينة " . وهو كاف ناقته حتى اذا دخل محسرا وهو من منى قال " عليكم بحصى الخذف الذي يرمى به " . فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى الجمرة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، آپ پر سکینت طاری تھی، آپ نے لوگوں کو بھی اطمینان و سکون سے واپس ہونے کا حکم دیا، اور وادی محسر میں اونٹ کو تیزی سے دوڑایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اتنی چھوٹی کنکریوں سے جمرہ کی رمی کریں جنہیں وہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مار سکیں۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال افاض رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه السكينة وامرهم بالسكينة واوضع في وادي محسر وامرهم ان يرموا الجمرة بمثل حصى الخذف
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے اور کہنے لگے: ”اللہ کے بندو! اطمینان و سکون کو لازم پکڑو“، آپ اس طرح اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور ایوب نے اپنی ہتھیلی کے باطن سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
اخبرني ابو داود، قال حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم افاض من عرفة وجعل يقول " السكينة عباد الله " . يقول بيده هكذا واشار ايوب بباطن كفه الى السماء
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ آپ کیسے چل رہے تھے ) تو انہوں نے کہا: آپ «عنق» ( تیز چال ) چل رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کی رفتار چلتے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن هشام، عن ابيه، عن اسامة بن زيد، انه سيل عن مسير النبي، صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع قال كان يسير العنق فاذا وجد فجوة نص والنص فوق العنق
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو پہاڑ کی گھاٹی کی طرف مڑے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے عرض کیا: کیا ( یہاں ) آپ مغرب کی نماز پڑھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھنے کی جگہ آگے ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ابراهيم بن عقبة، عن كريب، عن اسامة بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم حيث افاض من عرفة مال الى الشعب قال فقلت له اتصلي المغرب قال " المصلى امامك
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی میں اترے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے پیشاب کیا، پھر ہلکا وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے ہو گی“ ( یعنی آگے چل کر پڑھیں گے ) تو جب ہم مزدلفہ آئے، تو ابھی ( قافلے کے ) پیچھے والے لوگ اترے بھی نہ تھے کہ آپ نے نماز شروع کر دی۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن عقبة، عن كريب، عن اسامة بن زيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل الشعب الذي ينزله الامراء فبال ثم توضا وضوءا خفيفا فقلت يا رسول الله الصلاة . قال " الصلاة امامك " . فلما اتينا المزدلفة لم يحل اخر الناس حتى صلى
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد، عن يحيى، عن عدي بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، عن ابي ايوب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع بين المغرب والعشاء بجمع
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء دونوں مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھیں۔
اخبرنا القاسم بن زكريا، قال حدثنا مصعب بن المقدام، عن داود، عن الاعمش، عن عمارة، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابن مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم جمع بين المغرب والعشاء بجمع
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ ایک تکبیر سے پڑھیں، نہ ان دونوں کے بیچ میں کوئی نفل پڑھی، اور نہ ہی ان دونوں نمازوں کے بعد۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن ابن ابي ذيب، قال حدثني الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع بين المغرب والعشاء بجمع باقامة واحدة لم يسبح بينهما ولا على اثر كل واحدة منهما
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں، ان دونوں کے درمیان اور کوئی نماز نہیں پڑھی۔ مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی دو رکعتیں۔ اور عبداللہ بن عمر اسی طرح دونوں نمازیں جمع کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔
اخبرنا عيسى بن ابراهيم، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، ان عبيد الله بن عبد الله، اخبره ان اباه قال جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين المغرب والعشاء ليس بينهما سجدة صلى المغرب ثلاث ركعات والعشاء ركعتين . وكان عبد الله بن عمر يجمع كذلك حتى لحق بالله عز وجل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک اقامت سے پڑھی۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن سلمة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب والعشاء بجمع باقامة واحدة
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا: آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو بٹھایا، پھر مغرب پڑھی، پھر آپ نے لوگوں کو ( اترنے کی اطلاع ) بھیجی، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( اونٹ پر ) سوار ہوئے۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال انبانا عبد الله، عن ابراهيم بن عقبة، ان كريبا، قال سالت اسامة بن زيد - وكان ردف رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة - فقلت كيف فعلتم قال اقبلنا نسير حتى بلغنا المزدلفة فاناخ فصلى المغرب ثم بعث الى القوم فاناخوا في منازلهم فلم يحلوا حتى صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء الاخرة ثم حل الناس فنزلوا فلما اصبحنا انطلقت على رجلي في سباق قريش وردفه الفضل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات مجھے اپنے گھر والوں کے کمزور لوگوں ساتھ پہلے ہی ( منیٰ ) بھیج دیا تھا۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال انبانا سفيان، عن عبيد الله بن ابي يزيد، قال سمعت ابن عباس، يقول انا ممن، قدم النبي صلى الله عليه وسلم ليلة المزدلفة في ضعفة اهله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے ان کمزور لوگوں میں سے تھا جنہیں آپ نے مزدلفہ کی رات پہلے ہی ( منیٰ ) بھیج دیا تھا۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس، قال كنت فيمن قدم النبي صلى الله عليه وسلم ليلة المزدلفة في ضعفة اهله
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی ہاشم کے کمزور لوگوں ( یعنی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں ) کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ سے منیٰ رات ہی میں چلے جائیں۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا ابو عاصم، وعفان، وسليمان، عن شعبة، عن مشاش، عن عطاء، عن ابن عباس، عن الفضل، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر ضعفة بني هاشم ان ينفروا من جمع بليل
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رات کی تاریکی ہی میں مزدلفہ سے منیٰ چلے جانے کا حکم دیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن جريج، قال حدثنا عطاء، عن سالم بن شوال، ان ام حبيبة، اخبرته ان النبي صلى الله عليه وسلم امرها ان تغلس من جمع الى منى
ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رات کی تاریکی ہی میں مزدلفہ سے منیٰ چلے جاتے تھے۔
اخبرنا عبد الجبار بن العلاء، عن سفيان، عن عمرو، عن سالم بن شوال، عن ام حبيبة، قالت كنا نغلس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من المزدلفة الى منى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے فجر ہونے سے پہلے لوٹ جانے کی اجازت دی، اس لیے کہ وہ ایک بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا منصور، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم، عن عايشة، قالت انما اذن النبي صلى الله عليه وسلم لسودة في الافاضة قبل الصبح من جمع لانها كانت امراة ثبطة