Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
زہری کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا و مروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے ( میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا ) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا صدقة بن يسار، عن الزهري، قال سالوا ابن عمر هل رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم رمل بين الصفا والمروة فقال كان في جماعة من الناس فرملوا فلا اراهم رملوا الا برمله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں ( تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم مدینے جا کر کمزور و لاغر ہو گئے ہیں ) ۔
اخبرنا ابو عمار الحسين بن حريث، قال انبانا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس، قال انما سعى النبي صلى الله عليه وسلم بين الصفا والمروة ليري المشركين قوته
صفیہ بنت شیبہ ایک عورت سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن بديل، عن المغيرة بن حكيم، عن صفية بنت شيبة، عن امراة، قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسعى في بطن المسيل ويقول " لا يقطع الوادي الا شدا
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صفا سے اتر کر نیچے آتے تو عام رفتار سے چلتے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچ جاتے تو آپ دوڑنے لگتے یہاں تک کہ اس ( نشیبی جگہ ) سے نکل جاتے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا نزل من الصفا مشى حتى اذا انصبت قدماه في بطن الوادي سعى حتى يخرج منه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قدم وادی کے نشیبی حصہ میں پہنچے، تو آپ نے رمل کیا یہاں تک کہ اس نشیبی جگہ سے نکل گئے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن سفيان، عن جعفر، عن ابيه، عن جابر، قال لما تصوبت قدما رسول الله صلى الله عليه وسلم في بطن الوادي رمل حتى خرج منه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے نیچے اترے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو آپ نے رمل کیا، اور جب چڑھائی پر پہنچے تو عام رفتار سے چلے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا جعفر بن محمد، قال حدثني ابي قال، حدثنا جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل - يعني - عن الصفا حتى اذا انصبت قدماه في الوادي رمل حتى اذا صعد مشى
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر آئے تو اس پر چڑھے پھر بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر اللہ کا ذکر کیا اس کی تسبیح اور تحمید کی اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، ہر بار ایسے ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ طواف سے فارغ ہوئے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، قال انبانا الليث، عن ابن الهاد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم المروة فصعد فيها ثم بدا له البيت فقال " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير " . قال ذلك ثلاث مرات ثم ذكر الله وسبحه وحمده ثم دعا بما شاء الله فعل هذا حتى فرغ من الطواف
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کے پاس گئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا پھر آپ نے اللہ عزوجل کی وحدانیت اور اس کی بڑائی بیان کی اور «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير» کہا پھر آپ چلے یہاں تک کہ جب آپ کے دونوں قدم نشیب میں پڑے تو آپ نے سعی کی ( دوڑے ) اور جب آپ کے قدم اونچائی و بلندی کی طرف اٹھے ۱؎ تو آپ عام چال چلنے یہاں تک کہ آپ مروہ کے پاس آئے تو وہاں بھی آپ نے وہی کیا جو آپ نے صفا پر کر کیا تھا یہاں تک کہ اپنی سعی پوری کی۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال انبانا جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذهب الى الصفا فرقي عليها حتى بدا له البيت ثم وحد الله عز وجل وكبره وقال " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير " . ثم مشى حتى اذا انصبت قدماه سعى حتى اذا صعدت قدماه مشى حتى اتى المروة ففعل عليها كما فعل على الصفا حتى قضى طوافه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے صفا و مروہ کا طواف ( یعنی ان دونوں کی سعی ) صرف ایک بار کی ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال انبانا ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابرا، يقول لم يطف النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه بين الصفا والمروة الا طوافا واحدا
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مروہ پر ایک عمرہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کے لمبے پھل سے کترے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، قال اخبرني الحسن بن مسلم، ان طاوسا، اخبره ان ابن عباس اخبره عن معاوية، انه قصر عن النبي صلى الله عليه وسلم بمشقص في عمرة على المروة
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کے پھل سے کترے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، عن معاوية، قال قصرت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم على المروة بمشقص اعرابي
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ذی الحجہ کے پہلے دہے میں بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر چکنے کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کے کناروں کو اپنے پاس موجود ایک تیر کے پھل سے کاٹے۔ قیس بن سعد کہتے ہیں: لوگ معاویہ پر اس حدیث کی وجہ سے نکیر کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا الحسن بن موسى، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن معاوية، قال اخذت من اطراف شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم بمشقص كان معي بعد ما طاف بالبيت وبالصفا والمروة في ايام العشر . قال قيس والناس ينكرون هذا على معاوية
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا تو جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لی تو آپ نے فرمایا ”جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے“۔
اخبرنا محمد بن رافع، عن يحيى، - وهو ابن ادم - عن سفيان، - وهو ابن عيينة - قال حدثني عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نرى الا الحج - قالت - فلما ان طاف بالبيت وبين الصفا والمروة قال " من كان معه هدى فليقم على احرامه ومن لم يكن معه هدى فليحلل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے بعض نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرہ کا، اور ساتھ ہدی بھی لائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور ہدی ساتھ نہیں لایا ہے، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے، اور ساتھ ہدی لے کر آیا ہے تو وہ احرام نہ کھولے، اور جس نے حج کا تلبیہ پکارا ہے تو وہ اپنا حج پورا کرے“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں ان لوگوں میں سے تھی جن ہوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا سويد، قال انبانا عبد الله، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع فمنا من اهل بالحج ومنا من اهل بعمرة واهدى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اهل بعمرة ولم يهد فليحلل ومن اهل بعمرة فاهدى فلا يحل ومن اهل بحجة فليتم حجه " . قالت عايشة وكنت ممن اهل بعمرة
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے، جب مکہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے ( یعنی احرام کھول دے ) اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے احرام پر باقی رہے“، زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی تو وہ اپنے احرام پر باقی رہے اور میرے پاس ہدی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اپنے کپڑے پہن لیے اور اپنی خوشبو میں سے، خوشبو لگائی، پھر ( جا کر ) زبیر کے پاس بیٹھی، تو وہ کہنے لگے: مجھ سے دور ہو کر بیٹھو۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ ڈر رہے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا ابو هشام، قال حدثنا وهيب بن خالد، عن منصور بن عبد الرحمن، عن امه، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مهلين بالحج فلما دنونا من مكة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لم يكن معه هدى فليحلل ومن كان معه هدى فليقم على احرامه " . قالت وكان مع الزبير هدى فاقام على احرامه ولم يكن معي هدى فاحللت فلبست ثيابي وتطيبت من طيبي ثم جلست الى الزبير فقال استاخري عني . فقلت اتخشى ان اثب عليك
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت جعرانہ کے عمرہ سے لوٹے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( امیر مقرر کر کے ) حج پر بھیجا تو ہم بھی ان کے ساتھ آئے۔ پھر جب وہ عرج ۱؎ میں تھے اور صبح کی نماز کی اقامت کہی گئی اور وہ اللہ اکبر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنی پیٹھ کے پیچھے آپ نے ایک اونٹ کی آواز سنی تو اللہ اکبر کہنے سے رک گئے اور کہنے لگے: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعا کی آواز ہے۔ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود بھی حج کے لیے آنے کا ارادہ بن گیا ہو تو ہو سکتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہوں ( آپ ہوئے ) تو ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس اونٹنی پر علی رضی اللہ عنہ سوار ہیں۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: آپ ( امیر بنا کر بھیجے گئے ہیں ) یا قاصد بن کے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم قاصد بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مقامات حج میں سورۃ برأۃ پڑھ کر لوگوں کو سنانے کے لیے بھیجا ہے۔ پھر ہم مکہ آئے تو ترویہ سے ایک دن پہلے ( یعنی ساتویں تاریخ کو ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ اور انہیں ان کے حج کے ارکان بتائے۔ جب وہ ( اپنے بیان سے ) فارغ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو سورۃ برأت پڑھ کر سنائی، یہاں تک کہ پوری سورت ختم ہو گئی، پھر ہم ان کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے انہوں نے خطبہ دیا اور انہیں حج کے احکام سکھائے۔ یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہو گئے تو علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سورۃ برأت لوگوں کو پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ پھر جب یوم النحر یعنی دسویں تاریخ آئی تو ہم نے طواف افاضہ کیا، اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ لوٹ کر آئے تو لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں طواف افاضہ کرو، قربانی کرنے اور حج کے دیگر ارکان ادا کرنے کے طریقے سکھائے اور جب وہ فارغ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو سورۃ برأت پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ پوری سورت انہوں نے ختم کی، پھر جب کوچ کا پہلا دن آیا ۲؎ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ وہ کیسے کوچ کریں اور کیسے رمی کریں۔ پھر انہیں حج کے ( باقی احکام ) سکھلائے جب وہ فارغ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سورۃ برأت لوگوں کو پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابن خثیم ( یعنی عبداللہ بن عثمان ) حدیث میں قوی نہیں ہیں، اور میں نے اس کی تخریج اس لیے کی تاکہ اسے «ابن جریج عن ابی الزبیر» نہ بنا لیا جائے ۳؎ میں نے اسے صرف اسحاق بن راہویہ بن ابراہیم سے لکھا ہے، اور یحییٰ ابن سعید القطان نے ابن خیثم کی حدیث کو نہیں چھوڑا ہے، اور نہ ہی عبدالرحمٰن کی حدیث کو۔ البتہ علی بن مدینی نے کہا ہے کہ ابن خیثم منکر الحدیث ہیں اور گویا علی بن مدینی حدیث ہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مکہ ) آئے تو ذی الحجہ کی چار تاریخیں گزر چکی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احرام کھول ڈالو اور اسے عمرہ بنا لو“، اس سے ہمارے سینے تنگ ہو گئے، اور ہمیں یہ بات شاق گزری۔ اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”لوگو! حلال ہو جاؤ ( احرام کھول دو ) اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم لوگ کر رہے ہو“، تو ہم نے احرام کھول دئیے، یہاں تک کہ ہم نے اپنی عورتوں سے صحبت کی، اور وہ سارے کام کئے جو غیر محرم کرتا ہے یہاں تک کہ یوم ترویہ یعنی آٹھویں تاریخ آئی، تو ہم مکہ کی طرف پشت کر کے حج کا تلبیہ پکارنے لگے ( اور منیٰ کی طرف چل پڑے ) ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا عبد الملك، عن عطاء، عن جابر، قال قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لاربع مضين من ذي الحجة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " احلوا واجعلوها عمرة " . فضاقت بذلك صدورنا وكبر علينا فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا ايها الناس احلوا فلولا الهدى الذي معي لفعلت مثل الذي تفعلون " . فاحللنا حتى وطينا النساء وفعلنا ما يفعل الحلال حتى اذا كان يوم التروية وجعلنا مكة بظهر لبينا بالحج
عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری طرف مڑے اور میں مکہ کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا: تم اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس کے سایہ نے ( کچھ دیر آرام کرنے کے لیے ) اتارا ہے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم منیٰ کے دو پہاڑوں کے بیچ ہو، آپ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا تو وہاں ایک وادی ہے جسے ”سربہ“ کہا جاتا ہے، اور حارث کی روایت میں ہے اسے ”سرربہ“ کہا جاتا ہے تو وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کے نال کاٹے گئے ہیں“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، حدثني مالك، عن محمد بن عمرو بن حلحلة الدولي، عن محمد بن عمران الانصاري، عن ابيه، قال عدل الى عبد الله بن عمر وانا نازل، تحت سرحة بطريق مكة فقال ما انزلك تحت هذه الشجرة فقلت انزلني ظلها . قال عبد الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كنت بين الاخشبين من منى ونفخ - بيده نحو المشرق - فان هناك واديا يقال له السربة - وفي حديث الحارث يقال له السرر - به سرحة سر تحتها سبعون نبيا
عبدالرحمٰن بن معاذ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ آپ جو کچھ فرما رہے تھے ہم اپنی قیام گاہوں میں ( بیٹھے ) سن رہے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حج کے طریقے سکھانے لگے یہاں تک کہ آپ جمروں کے پاس پہنچے تو انگلیوں سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے کے حصے میں ٹھہریں اور انصار کو حکم دیا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں قیام پذیر ہوں۔
اخبرنا محمد بن حاتم بن نعيم، قال انبانا سويد، قال انبانا عبد الله، عن عبد الوارث، - ثقة - قال حدثنا حميد الاعرج، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن رجل، منهم يقال له عبد الرحمن بن معاذ قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ففتح الله اسماعنا حتى ان كنا لنسمع ما يقول ونحن في منازلنا فطفق النبي صلى الله عليه وسلم يعلمهم مناسكهم حتى بلغ الجمار فقال بحصى الخذف وامر المهاجرين ان ينزلوا في مقدم المسجد وامر الانصار ان ينزلوا في موخر المسجد
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ کو یاد ہو، آپ نے ترویہ کے دن ظہر کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ پھر میں نے پوچھا: کوچ کے دن ۱؎ عصر کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، وعبد الرحمن بن محمد بن سلام، قالا حدثنا اسحاق الازرق، عن سفيان الثوري، عن عبد العزيز بن رفيع، قال سالت انس بن مالك فقلت اخبرني بشىء، عقلته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم اين صلى الظهر يوم التروية قال بمنى . فقلت اين صلى العصر يوم النفر قال بالابطح
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال قرات على ابي قرة موسى بن طارق عن ابن جريج، قال حدثني عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم حين رجع من عمرة الجعرانة بعث ابا بكر على الحج فاقبلنا معه حتى اذا كان بالعرج ثوب بالصبح ثم استوى ليكبر فسمع الرغوة خلف ظهره فوقف على التكبير فقال هذه رغوة ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم الجدعاء لقد بدا لرسول الله صلى الله عليه وسلم في الحج فلعله ان يكون رسول الله صلى الله عليه وسلم فنصلي معه فاذا علي عليها فقال له ابو بكر امير ام رسول قال لا بل رسول ارسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم ببراءة اقروها على الناس في مواقف الحج . فقدمنا مكة فلما كان قبل التروية بيوم قام ابو بكر رضى الله عنه فخطب الناس فحدثهم عن مناسكهم حتى اذا فرغ قام علي رضى الله عنه فقرا على الناس براءة حتى ختمها ثم خرجنا معه حتى اذا كان يوم عرفة قام ابو بكر فخطب الناس فحدثهم عن مناسكهم حتى اذا فرغ قام علي فقرا على الناس براءة حتى ختمها ثم كان يوم النحر فافضنا فلما رجع ابو بكر خطب الناس فحدثهم عن افاضتهم وعن نحرهم وعن مناسكهم فلما فرغ قام علي فقرا على الناس براءة حتى ختمها فلما كان يوم النفر الاول قام ابو بكر فخطب الناس فحدثهم كيف ينفرون وكيف يرمون فعلمهم مناسكهم فلما فرغ قام علي فقرا براءة على الناس حتى ختمها . قال ابو عبد الرحمن بن خثيم ليس بالقوي في الحديث وانما اخرجت هذا ليلا يجعل ابن جريج عن ابي الزبير وما كتبناه الا عن اسحاق بن ابراهيم ويحيى بن سعيد القطان لم يترك حديث ابن خثيم ولا عبد الرحمن الا ان علي بن المديني قال ابن خثيم منكر الحديث وكان علي بن المديني خلق للحديث