احادیث
#2995
سنن نسائی - The Pilgrimage (Hajj)
عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری طرف مڑے اور میں مکہ کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا: تم اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس کے سایہ نے ( کچھ دیر آرام کرنے کے لیے ) اتارا ہے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم منیٰ کے دو پہاڑوں کے بیچ ہو، آپ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا تو وہاں ایک وادی ہے جسے ”سربہ“ کہا جاتا ہے، اور حارث کی روایت میں ہے اسے ”سرربہ“ کہا جاتا ہے تو وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کے نال کاٹے گئے ہیں“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، حدثني مالك، عن محمد بن عمرو بن حلحلة الدولي، عن محمد بن عمران الانصاري، عن ابيه، قال عدل الى عبد الله بن عمر وانا نازل، تحت سرحة بطريق مكة فقال ما انزلك تحت هذه الشجرة فقلت انزلني ظلها . قال عبد الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كنت بين الاخشبين من منى ونفخ - بيده نحو المشرق - فان هناك واديا يقال له السربة - وفي حديث الحارث يقال له السرر - به سرحة سر تحتها سبعون نبيا
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- The Pilgrimage (Hajj)
- Hadith Index
- #2995
- Book Index
- 378
Grades
- Abu GhuddahDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
