Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل مکہ کے پاس سورۃ براءت دے کر بھیجا محرر بن ابی ہریرہ نے اپنے والد سے پوچھا: آپ لوگ کیا پکارتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہم اعلان کرتے تھے کہ جنت میں سوائے مومن کے کوئی نہ جائے گا، اور ننگا ہو کر کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہد و معاہدہ ہو تو اس کی مدت و مہلت چار مہینے کی ہے، اور جب چار مہینے گزر جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری ہو گا، اور اس کا رسول بھی، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کر سکے گا۔ میں ( یہ باتیں ) لوگوں کو پکار پکار کر بتا رہا تھا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، وعثمان بن عمر، قالا حدثنا شعبة، عن المغيرة، عن الشعبي، عن المحرر بن ابي هريرة، عن ابيه، قال جيت مع علي بن ابي طالب حين بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اهل مكة ببراءة قال " ما كنتم تنادون " . قال كنا ننادي " انه لا يدخل الجنة الا نفس مومنة ولا يطوف بالبيت عريان ومن كان بينه وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد فاجله او امده الى اربعة اشهر فاذا مضت الاربعة اشهر فان الله بريء من المشركين ورسوله ولا يحج بعد العام مشرك " . فكنت انادي حتى صحل صوتي
مطلب بن ابی وداعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ طواف کے اپنے سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو مطاف کے کنارے آئے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کسی طرح کی آڑ نہ تھی ۱؎۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، عن يحيى، عن ابن جريج، عن كثير بن كثير، عن ابيه، عن المطلب بن ابي وداعة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم حين فرغ من سبعه جاء حاشية المطاف فصلى ركعتين وليس بينه وبين الطوافين احد
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے لگائے اور مقام ( ابراہیم ) کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور فرمایا: «لقد كان لكم في رسول اللہ أسوة حسنة» ”رسول اللہ کی ذات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے“ ( تو اللہ کا رسول جیسا کچھ کرے ویسے ہی تم بھی کرنا ) ( الأحزاب: ۲۱ ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، قال يعني ابن عمر قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت سبعا وصلى خلف المقام ركعتين وطاف بين الصفا والمروة وقال { لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں، پھر آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا: کہ ہم وہیں ( سعی ) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے ( اپنی کتاب میں ) شروع کی ہے، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی۔ اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار کہا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، قال انبانا الليث، عن ابن الهاد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبيت سبعا رمل منها ثلاثا ومشى اربعا ثم قام عند المقام فصلى ركعتين ثم قرا { واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى } ورفع صوته يسمع الناس ثم انصرف فاستلم ثم ذهب فقال " نبدا بما بدا الله " . فبدا بالصفا فرقي عليها حتى بدا له البيت فقال ثلاث مرات " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير " . فكبر الله وحمده ثم دعا بما قدر له ثم نزل ماشيا حتى تصوبت قدماه في بطن المسيل فسعى حتى صعدت قدماه ثم مشى حتى اتى المروة فصعد فيها ثم بدا له البيت فقال " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير " . قال ذلك ثلاث مرات ثم ذكر الله وسبحه وحمده ثم دعا عليها بما شاء الله فعل هذا حتى فرغ من الطواف
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ: «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، اسی سے تم بھی شروع کرو“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف سبعا رمل ثلاثا ومشى اربعا ثم قرا { واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى } فصلى سجدتين وجعل المقام بينه وبين الكعبة ثم استلم الركن ثم خرج فقال " ان الصفا والمروة من شعاير الله فابدءوا بما بدا الله به
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام ابراہیم پر پہنچے تو آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس میں آپ نے سورۃ فاتحہ اور «قل يا أيها الكافرون»، اور «قل هو اللہ أحد» پڑھی پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے، اور آپ نے اس کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکلے۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، عن الوليد، عن مالك، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما انتهى الى مقام ابراهيم قرا { واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى } فصلى ركعتين فقرا فاتحة الكتاب و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } ثم عاد الى الركن فاستلمه ثم خرج الى الصفا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا هشيم، قال انبانا عاصم، ومغيرة، ح وانبانا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا عاصم، عن الشعبي، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم شرب من ماء زمزم وهو قايم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم ( کا پانی ) پلایا، تو آپ نے اسے پیا اور آپ کھڑے تھے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن عاصم، عن الشعبي، عن ابن عباس، قال سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم من زمزم فشربه وهو قايم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ صفا کی طرف اس دروازے سے نکلے جس دروازے سے باہر نکلا جاتا ہے، تو صفا و مروہ کی سعی کی۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ سنت ہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن دينار، قال سمعت ابن عمر، يقول لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة طاف بالبيت سبعا ثم صلى خلف المقام ركعتين ثم خرج الى الصفا من الباب الذي يخرج منه فطاف بالصفا والمروة . قال شعبة واخبرني ايوب عن عمرو بن دينار عن ابن عمر انه قال سنة
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے آیت کریمہ: «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» پڑھی اور کہا: میں صفا و مروہ کے درمیان نہ پھروں، تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۱؎، تو انہوں نے کہا: تم نے کتنی بری بات کہی ہے ( صحیح یہ ہے ) کہ لوگ ایام جاہلیت میں صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے ( بلکہ اسے گناہ سمجھتے تھے ) تو جب اسلام آیا، اور قرآن اترا، اور یہ آیت «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی، اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی کی، تو یہی سنت ہے۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، قال قرات على عايشة { فلا جناح عليه ان يطوف بهما } قلت ما ابالي ان لا اطوف بينهما . فقالت بيسما قلت انما كان ناس من اهل الجاهلية لا يطوفون بينهما فلما كان الاسلام ونزل القران { ان الصفا والمروة من شعاير الله } الاية فطاف رسول الله صلى الله عليه وسلم وطفنا معه فكانت سنة
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے متعلق پوچھا ( میں نے کہا کہ اس سے تو پتا چلتا ہے کہ ) کوئی صفا و مروہ کی سعی نہ کرے، تو قسم اللہ کی اس پر کوئی حرج نہیں، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! تم نے نامناسب بات کہی ہے۔ اس آیت کا مطلب اگر وہی ہوتا جو تم نے نکالا ہے تو یہ آیت اس طرح اترتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ”اگر کوئی صفا و مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں“۔ لیکن یہ آیت انصار کے بارے میں اتری ہے۔ اسلام لانے سے پہلے وہ مشلل ۱؎ کے پاس مناۃ بت کے لیے احرام باندھتے تھے جس کی وہ عبادت کرتے تھے، اور جو مناۃ کے نام سے احرام باندھتا تھا وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج جانتا تھا تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ: «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس سے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں کوئی گناہ نہیں“ اتاری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کی سعی کو مسنون قرار دیا۔ تو کسی کے لیے جائز و درست نہیں کہ ان دونوں کی سعی چھوڑ دے۔
اخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا ابي، عن شعيب، عن الزهري، عن عروة، قال سالت عايشة عن قول الله، عز وجل { فلا جناح عليه ان يطوف بهما } فوالله ما على احد جناح ان لا يطوف بالصفا والمروة . قالت عايشة بيسما قلت يا ابن اختي ان هذه الاية لو كانت كما اولتها كانت فلا جناح عليه ان لا يطوف بهما ولكنها نزلت في الانصار قبل ان يسلموا كانوا يهلون لمناة الطاغية التي كانوا يعبدون عند المشلل وكان من اهل لها يتحرج ان يطوف بالصفا والمروة فلما سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك انزل الله عز وجل { ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما } ثم قد سن رسول الله صلى الله عليه وسلم الطواف بينهما فليس لاحد ان يترك الطواف بهما
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد ( خانہ کعبہ ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: ”ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا عبد الرحمن بن القاسم، قال حدثني مالك، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين خرج من المسجد وهو يريد الصفا وهو يقول " نبدا بما بدا الله به
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: ”ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال انبانا يحيى بن سعيد، عن جعفر بن محمد، قال حدثني ابي قال، حدثنا جابر، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الصفا وقال " نبدا بما بدا الله به " . ثم قرا " { ان الصفا والمروة من شعاير الله}
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے یہاں تک کہ جب آپ نے بیت اللہ کو دیکھا، تو آپ نے تکبیر کہی۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا جعفر بن محمد، قال حدثني ابي قال، حدثنا جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رقي على الصفا حتى اذا نظر الى البيت كبر
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صفا پر کھڑے ہوتے تو تین بار تکبیر کہتے اور «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہتے اور دعا کرتے، اور مروہ پر بھی پہنچ کر ایسا ہی کرتے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا وقف على الصفا يكبر ثلاثا ويقول " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير " . يصنع ذلك ثلاث مرات ويدعو ويصنع على المروة مثل ذلك
ابو جعفر بن محمد الباقر کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی اللہ عنہ سے سنا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر رکتے، آپ اس کے درمیان اللہ عزوجل کی تہلیل کرتے، اور دعا کرتے تھے۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال انبانا شعيب، قال اخبرني ابن جريج، قال اخبرني جعفر بن محمد، انه سمع اباه، يحدث انه سمع جابرا، عن حجة النبي، صلى الله عليه وسلم ثم وقف النبي صلى الله عليه وسلم على الصفا يهلل الله عز وجل ويدعو بين ذلك
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا سات پھیرا کیا، جس میں سے تین میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، اور آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اور ( پڑھتے وقت ) آواز بلند کی، آپ لوگوں کو سنا رہے تھے پھر آپ پلٹے اور حجر اسود کا استلام کیا پھر ( صفا کی طرف ) گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے اسی سے ہم بھی ( سعی ) شروع کریں گے، پھر آپ نے صفا سے شروع کیا تو آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو تین بار آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير» پڑھا اللہ کی بڑائی بیان کی، اور اس کی تعریف کی اور حسب توفیق دعائیں مانگی۔ پھر پیدل ہی نیچے اترے یہاں تک کہ وادی کے بالکل نشیب میں پہنچ گئے تو آپ دوڑے یہاں تک کہ آپ کے قدم بلندی کی طرف بڑھے پھر آپ عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پر آئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار پڑھا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا، اس کی تسبیح اور تعریف کی اور دعا مانگی جتنی اللہ کو منظور تھیں اسی طرح ( ہر بار ) کرتے رہے یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہو گئے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن، { عبد } الحكم عن شعيب، قال انبانا الليث، عن ابن الهاد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبيت سبعا رمل منها ثلاثا ومشى اربعا ثم قام عند المقام فصلى ركعتين وقرا { واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى } ورفع صوته يسمع الناس ثم انصرف فاستلم ثم ذهب فقال " نبدا بما بدا الله به " . فبدا بالصفا فرقي عليها حتى بدا له البيت وقال ثلاث مرات " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير " . وكبر الله وحمده ثم دعا بما قدر له ثم نزل ماشيا حتى تصوبت قدماه في بطن المسيل فسعى حتى صعدت قدماه ثم مشى حتى اتى المروة فصعد فيها ثم بدا له البيت فقال " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير " . قال ذلك ثلاث مرات ثم ذكر الله وسبحه وحمده ثم دعا عليها بما شاء الله فعل هذا حتى فرغ من الطواف
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، ( اور ایسا اس لیے کیا ) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں سے اونچائی پر رہیں اور تاکہ لوگ مسئلے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔
اخبرني عمران بن يزيد، قال انبانا شعيب، قال انبانا ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول طاف النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع على راحلته بالبيت وبين الصفا والمروة ليراه الناس وليشرف وليسالوه ان الناس غشوه
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں دوڑتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا بشر بن السري، قال حدثنا سفيان، عن عطاء بن السايب، عن كثير بن جمهان، قال رايت ابن عمر يمشي بين الصفا والمروة فقال ان امشي فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي وان اسعى فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسعى
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کو دیکھا … آگے راوی نے اسی طرح ذکر کیا ہے جو اوپر کی حدیث میں گزرا، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں ( میں عام چال چل لوں یہی میرے لیے بہت ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا الثوري، عن عبد الكريم الجزري، عن سعيد بن جبير، قال رايت ابن عمر وذكر نحوه الا انه قال وانا شيخ، كبير