Loading...

Loading...
کتب
۲۳ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، عن سفيان، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان بعض، ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اغتسلت من الجنابة فتوضا النبي صلى الله عليه وسلم بفضلها فذكرت ذلك له فقال " ان الماء لا ينجسه شىء
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں سے وضو کریں؟ اور حال یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا الوليد بن كثير، قال حدثنا محمد بن كعب القرظي، عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن رافع، عن ابي سعيد الخدري، قال قيل يا رسول الله اتتوضا من بير بضاعة وهي بير يطرح فيها لحوم الكلاب والحيض والنتن فقال " الماء طهور لا ينجسه شىء
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: کیا آپ اس سے وضو کر رہے ہیں حالانکہ اس میں تو ایسی بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں جو ناگوار ہوتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم، قال حدثنا عبد الملك بن عمرو، قال حدثنا عبد العزيز بن مسلم، - وكان من العابدين - عن مطرف بن طريف، عن خالد بن ابي نوف، عن سليط، عن ابن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، قال مررت بالنبي صلى الله عليه وسلم وهو يتوضا من بير بضاعة فقلت اتتوضا منها وهي يطرح فيها ما يكره من النتن فقال " الماء لا ينجسه شىء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ۱؎ ہو تو وہ گندگی کو دفع کر دیتا ہے ۲؎۔
اخبرنا الحسين بن حريث المروزي، قال حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الماء وما ينوبه من الدواب والسباع فقال " اذا كان الماء قلتين لم يحمل الخبث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس کی طرف بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نہ روکو ( پیشاب کر لینے دو ) جب وہ پیشاب کر چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، ان اعرابيا، بال في المسجد فقام اليه بعض القوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزرموه " . فلما فرغ دعا بدلو من ماء فصبه عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو ( پیشاب کر لینے دو ) ، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، اس لیے کہ تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ہو۔
اخبرنا عبد الرحمن بن ابراهيم، عن عمر بن عبد الواحد، عن الاوزاعي، عن محمد بن الوليد، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، قال قام اعرابي فبال في المسجد فتناوله الناس فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعوه واهريقوا على بوله دلوا من ماء فانما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے اس حال میں کہ وہ جنبی ہو ۔
اخبرنا الحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، عن عمرو، - وهو ابن الحارث - عن بكير، ان ابا السايب، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يغتسل احدكم في الماء الدايم وهو جنب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں، اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو ہم پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا، اور مردار حلال ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن صفوان بن سليم، عن سعيد بن سلمة، ان المغيرة بن ابي بردة، اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا نركب البحر ونحمل معنا القليل من الماء فان توضانا به عطشنا افنتوضا من ماء البحر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو الطهور ماوه الحل ميتته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح صاف کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیتا ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد» اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولوں کے ذریعہ دھو دے ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا جرير، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو ( جو اس میں ہے ) اسے بہا دے، پھر اسے سات مرتبہ دھو ڈالے ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابي رزين، وابي، صالح عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ولغ الكلب في اناء احدكم فليرقه ثم ليغسله سبع مرات
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اور شکاری کتوں کی نیز بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھو لو، اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، - يعني ابن الحارث - عن شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت مطرفا، عن عبد الله بن مغفل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتل الكلاب ورخص في كلب الصيد والغنم وقال " اذا ولغ الكلب في الاناء فاغسلوه سبع مرات وعفروه الثامنة بالتراب
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا سروکار؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات دفعہ دھو لو، آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مغفل کی مخالفت کی ہے اور ( اپنی روایت میں ) یوں کہا ہے: ان میں سے ایک بار مٹی سے مانجھو ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، عن ابي التياح، يزيد بن حميد قال سمعت مطرفا، يحدث عن عبد الله بن مغفل، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الكلاب قال " ما بالهم وبال الكلاب " . قال ورخص في كلب الصيد وكلب الغنم وقال " اذا ولغ الكلب في الاناء فاغسلوه سبع مرات وعفروا الثامنة بالتراب " . خالفه ابو هريرة فقال احداهن بالتراب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے ( مانجھے ) ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن خلاس، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا ولغ الكلب في اناء احدكم فليغسله سبع مرات اولاهن بالتراب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے ( مانجھے ) ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبدة بن سليمان، عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا ولغ الكلب في اناء احدكم فليغسله سبع مرات اولاهن بالتراب
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ( پھر راوی نے ایک کلمے کا ذکر کیا جس کا مفہوم ہے ) کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی ( لوٹے میں ) ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی، اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں ( تعجب سے ) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب بن مالك، ان ابا قتادة، دخل عليها ثم ذكر كلمة معناها فسكبت له وضوءا فجاءت هرة فشربت منه فاصغى لها الاناء حتى شربت قالت كبشة فراني انظر اليه فقال اتعجبين يا ابنة اخي قلت نعم . قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ليست بنجس انما هي من الطوافين عليكم والطوافات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے دانتوں سے ہڈی سے گوشت نوچتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی تھی، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كنت اتعرق العرق فيضع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاه حيث وضعته وانا حايض وكنت اشرب من الاناء فيضع فاه حيث وضعت وانا حايض
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں دونوں ایک ساتھ وضو کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان الرجال والنساء يتوضيون في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم جميعا
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن عاصم الاحول، قال سمعت ابا حاجب، - قال ابو عبد الرحمن واسمه سوادة بن عاصم - عن الحكم بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يتوضا الرجل بفضل وضوء المراة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، انها كانت تغتسل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الاناء الواحد