احادیث
#340
سنن نسائی - Water
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ( پھر راوی نے ایک کلمے کا ذکر کیا جس کا مفہوم ہے ) کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی ( لوٹے میں ) ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی، اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں ( تعجب سے ) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب بن مالك، ان ابا قتادة، دخل عليها ثم ذكر كلمة معناها فسكبت له وضوءا فجاءت هرة فشربت منه فاصغى لها الاناء حتى شربت قالت كبشة فراني انظر اليه فقال اتعجبين يا ابنة اخي قلت نعم . قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ليست بنجس انما هي من الطوافين عليكم والطوافات
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Water
- Hadith Index
- #340
- Book Index
- 16
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
