Loading...

Loading...
کتب
۲۶ احادیث
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے آیت کریمہ: «ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے ( النساء: ۱۰۱ ) ، کے متعلق عرض کیا کہ اب تو لوگ مامون اور بےخوف ہو گئے ہیں؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا جس سے تم کو تعجب ہے، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے ۱؎ جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، تو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الله بن ادريس، قال انبانا ابن جريج، عن ابن ابي عمار، عن عبد الله بن بابيه، عن يعلى بن امية، قال قلت لعمر بن الخطاب { ليس عليكم جناح ان تقصروا، من الصلاة ان خفتم ان يفتنكم الذين كفروا } فقد امن الناس . فقال عمر رضى الله عنه عجبت مما عجبت منه فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ۱؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ۲؎ تو پاتے ہیں، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۳؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عبد الله بن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن امية بن عبد الله بن خالد، انه قال لعبد الله بن عمر انا نجد صلاة الحضر وصلاة الخوف في القران ولا نجد صلاة السفر في القران . فقال له ابن عمر يا ابن اخي ان الله عز وجل بعث الينا محمدا صلى الله عليه وسلم ولا نعلم شييا وانما نفعل كما راينا محمدا صلى الله عليه وسلم يفعل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ۱؎ ( اس کے باوجود ) آپ ( راستہ بھر ) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا هشيم، عن منصور بن زاذان، عن ابن سيرين، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من مكة الى المدينة لا يخاف الا رب العالمين يصلي ركعتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تھے، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا، پھر بھی ہم دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن عون، عن محمد، عن ابن عباس، قال كنا نسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين مكة والمدينة لا نخاف الا الله عز وجل نصلي ركعتين
ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ ۱؎ میں دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: میں تو ویسے ہی کر رہا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا النضر بن شميل، قال حدثنا شعبة، عن يزيد بن خمير، قال سمعت حبيب بن عبيد، يحدث عن جبير بن نفير، عن ابن السمط، قال رايت عمر بن الخطاب يصلي بذي الحليفة ركعتين فسالته عن ذلك، فقال انما افعل كما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلا تو آپ برابر قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ آئے، آپ نے وہاں دس دن تک قیام کیا تھا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن يحيى بن ابي اسحاق، عن انس، قال خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة فلم يزل يقصر حتى رجع فاقام بها عشرا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں دو رکعتیں پڑھیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں۔
اخبرنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، قال ابي انبانا ابو حمزة، - وهو السكري - عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر ركعتين ومع ابي بكر ركعتين ومع عمر ركعتين رضى الله عنهما
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے، اور سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن سفيان، - وهو ابن حبيب - عن شعبة، عن زبيد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن عمر، قال صلاة الجمعة ركعتان والفطر ركعتان والنحر ركعتان والسفر ركعتان تمام غير قصر على لسان النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ حضر ( اقامت ) کی نماز تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر چار رکعتیں فرض ہوئیں، اور سفر کی نماز دو رکعت، اور خوف کی نماز ایک رکعت ۱؎۔
اخبرني محمد بن وهب، قال حدثني محمد بن سلمة، قال حدثني ابو عبد الرحيم، قال حدثني زيد، عن ايوب، - وهو ابن عايذ - عن بكير بن الاخنس، عن مجاهد ابي الحجاج، عن ابن عباس، قال فرضت صلاة الحضر على لسان نبيكم صلى الله عليه وسلم اربعا وصلاة السفر ركعتين وصلاة الخوف ركعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حضر ( اقامت ) میں چار رکعتیں، اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔
اخبرنا يعقوب بن ماهان، قال حدثنا القاسم بن مالك، عن ايوب بن عايذ، عن بكير بن الاخنس، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال ان الله عز وجل فرض الصلاة على لسان نبيكم صلى الله عليه وسلم في الحضر اربعا وفي السفر ركعتين وفي الخوف ركعة
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ میں مکہ میں کس طرح نماز پڑھوں کہ جب میں جماعت سے نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھو، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ( پر عمل کرو ) ۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، في حديثه عن خالد بن الحارث، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت موسى، - وهو ابن سلمة - قال قلت لابن عباس كيف اصلي بمكة اذا لم اصل في جماعة قال ركعتين سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم
موسیٰ بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا: میں نے کہا: مجھ سے باجماعت نماز چھوٹ جاتی ہے اور میں بطحاء میں ہوتا ہوں، تو میں کتنی رکعت پڑھوں؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھو، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ( پر عمل کرو ) ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا سعيد، قال حدثنا قتادة، ان موسى بن سلمة، حدثهم انه، سال ابن عباس قلت تفوتني الصلاة في جماعة وانا بالبطحاء، ما ترى ان اصلي، قال ركعتين سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم
حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو ہی رکعت پڑھی، ایک ایسے وقت میں جس میں کہ لوگ سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے، اور تعداد میں زیادہ تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن وهب الخزاعي، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمنى امن ما كان الناس واكثره ركعتين
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں دو رکعت پڑھائی، ایک ایسے وقت میں جس میں لوگ تعداد میں زیادہ تھے، اور سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا ابو اسحاق، ح وانبانا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا سفيان، قال اخبرني ابو اسحاق، عن حارثة بن وهب، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى اكثر ما كان الناس وامنه ركعتين
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن بكير، عن محمد بن عبد الله بن ابي سليم، عن انس بن مالك، انه قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ومع ابي بكر وعمر ركعتين ومع عثمان ركعتين صدرا من امارته
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت پڑھی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبد الواحد، عن الاعمش، قال حدثنا ابراهيم، قال سمعت عبد الرحمن بن يزيد، ح وانبانا محمود بن غيلان، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، - رضى الله عنه - قال صليت بمنى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت پڑھی یہاں تک کہ اس کی خبر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ہی رکعت پڑھی ہے۔
اخبرنا علي بن خشرم، قال حدثنا عيسى، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال صلى عثمان بمنى اربعا حتى بلغ ذلك عبد الله فقال لقد صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت پڑھی۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال انبانا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين ومع ابي بكر - رضى الله عنه - ركعتين ومع عمر - رضى الله عنه - ركعتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے بھی وہاں دو ہی رکعت پڑھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين وصلاها ابو بكر ركعتين وصلاها عمر ركعتين وصلاها عثمان صدرا من خلافته
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے، تو آپ ہمیں دو رکعت پڑھاتے رہے یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے مکہ میں قیام کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا تھا۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا يزيد، قال انبانا يحيى بن ابي اسحاق، عن انس بن مالك، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة فكان يصلي بنا ركعتين حتى رجعنا . قلت هل اقام بمكة قال نعم اقمنا بها عشرا