Loading...

Loading...
کتب
۲۶ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ دن ٹھہرے رہے ۱؎ اور آپ دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔
اخبرنا عبد الرحمن بن الاسود البصري، قال حدثنا محمد بن ربيعة، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عراك بن مالك، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقام بمكة خمسة عشر يصلي ركعتين ركعتين
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر حج و عمرہ کے ارکان و مناسک پورے کرنے کے بعد ( مکہ میں ) تین دن تک ٹھر سکتا ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الملك بن زنجويه، عن عبد الرزاق، عن ابن جريج، قال اخبرني اسماعيل بن محمد بن سعد، ان حميد بن عبد الرحمن، اخبره ان السايب بن يزيد اخبره انه، سمع العلاء بن الحضرمي، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يمكث المهاجر بعد قضاء نسكه ثلاثا
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر اپنے نسک ( حج و عمرہ کے ارکان ) پورے کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھر سکتا ہے ۔
اخبرنا ابو عبد الرحمن، قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، في حديثه عن سفيان، عن عبد الرحمن بن حميد، عن السايب بن يزيد، عن العلاء بن الحضرمي، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يمكث المهاجر بمكة بعد نسكه ثلاثا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ سے مکہ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ گئیں، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے نماز قصر پڑھی ہے، اور میں نے پوری پڑھی ہے، اور آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے اور میں نے رکھا ہے تو آپ نے فرمایا: عائشہ! تم نے اچھا کیا ، اور آپ نے مجھ پر کوئی نکیر نہیں کی۔
اخبرني احمد بن يحيى الصوفي، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا العلاء بن زهير الازدي، قال حدثنا عبد الرحمن بن الاسود، عن عايشة، انها اعتمرت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة حتى اذا قدمت مكة قالت يا رسول الله بابي انت وامي قصرت واتممت وافطرت وصمت . قال " احسنت يا عايشة " . وما عاب على
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
اخبرني احمد بن يحيى، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا العلاء بن زهير، قال حدثنا وبرة بن عبد الرحمن، قال كان ابن عمر لا يزيد في السفر على ركعتين لا يصلي قبلها ولا بعدها . فقيل له ما هذا قال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ ( اب ) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔
اخبرني نوح بن حبيب، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا عيسى بن حفص بن عاصم، قال حدثني ابي قال، كنت مع ابن عمر في سفر فصلى الظهر والعصر ركعتين ثم انصرف الى طنفسة له فراى قوما يسبحون قال ما يصنع هولاء قلت يسبحون . قال لو كنت مصليا قبلها او بعدها لاتممتها صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان لا يزيد في السفر على الركعتين وابا بكر حتى قبض وعمر وعثمان - رضى الله عنهم - كذلك