Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا: جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کر لے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے، اور زہری کے دیگر تلامذہ «عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر» کے بدلے «سالم بن عبداللہ عن أبيه» کہتے ہیں۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عبد الله بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال وهو قايم على المنبر " من جاء منكم الجمعة فليغتسل " . قال ابو عبد الرحمن ما اعلم احدا تابع الليث على هذا الاسناد غير ابن جريج واصحاب الزهري يقولون عن سالم بن عبد الله عن ابيه بدل عبد الله بن عبد الله بن عمر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں ( مسجد میں ) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی؟ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو ، اور آپ نے ( دوران خطبہ ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ( پچھلے ) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا ، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا لو ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن عياض بن عبد الله، قال سمعت ابا سعيد الخدري، يقول جاء رجل يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب بهيية بذة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصليت " . قال لا . قال " صل ركعتين " . وحث الناس على الصدقة فالقوا ثيابا فاعطاه منها ثوبين فلما كانت الجمعة الثانية جاء ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فحث الناس على الصدقة - قال - فالقى احد ثوبيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جاء هذا يوم الجمعة بهيية بذة فامرت الناس بالصدقة فالقوا ثيابا فامرت له منها بثوبين ثم جاء الان فامرت الناس بالصدقة فالقى احدهما " . فانتهره وقال " خذ ثوبك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا ۱؎ ( اور بیٹھ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تم نے سنت پڑھ لی؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ اور ( سنت ) پڑھو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة اذ جاء رجل فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " صليت " . قال لا . قال " قم فاركع
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو موسى، اسراييل بن موسى قال سمعت الحسن، يقول سمعت ابا بكرة، يقول لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر والحسن معه وهو يقبل على الناس مرة وعليه مرة ويقول " ان ابني هذا سيد ولعل الله ان يصلح به بين فيتين من المسلمين عظيمتين
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی (ام ہشام) کہتی ہیں کہ میں نے «ق والقرآن المجيد» کو جمعہ کے دن منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سن سن کر یاد کیا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا هارون بن اسماعيل، قال حدثنا علي، - وهو ابن المبارك - عن يحيى، عن محمد بن عبد الرحمن، عن ابنة حارثة بن النعمان، قالت حفظت { ق والقران المجيد } من في رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يوم الجمعة
حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر ( خطبہ دیتے ہوئے ) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں برا بھلا کہا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہیں کیا، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن حصين، ان بشر بن مروان، رفع يديه يوم الجمعة على المنبر فسبه عمارة بن رويبة الثقفي وقال ما زاد رسول الله صلى الله عليه وسلم على هذا واشار باصبعه السبابة
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آ گئے، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا ۔
اخبرنا محمد بن عبد العزيز، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن حسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب فجاء الحسن والحسين - رضى الله عنهما - وعليهما قميصان احمران يعثران فيهما فنزل النبي صلى الله عليه وسلم فقطع كلامه فحملهما ثم عاد الى المنبر ثم قال " صدق الله { انما اموالكم واولادكم فتنة } رايت هذين يعثران في قميصيهما فلم اصبر حتى قطعت كلامي فحملتهما
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکرو اذکار زیادہ کرتے، لایعنی باتوں سے گریز کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر دیتے تھے، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں، عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد العزيز بن غزوان، قال انبانا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، قال حدثني يحيى بن عقيل، قال سمعت عبد الله بن ابي اوفى، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر الذكر ويقل اللغو ويطيل الصلاة ويقصر الخطبة ولا يانف ان يمشي مع الارملة والمسكين فيقضي له الحاجة
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا شريك، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال جالست النبي صلى الله عليه وسلم فما رايته يخطب الا قايما ويجلس ثم يقوم فيخطب الخطبة الاخرة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے، ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر فصل کرتے تھے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر بن المفضل، قال حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخطب الخطبتين وهو قايم وكان يفصل بينهما بجلوس
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے، جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو جھوٹا ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - قال حدثنا اسراييل، قال حدثنا سماك، عن جابر بن سمرة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة قايما ثم يقعد قعدة لا يتكلم ثم يقوم فيخطب خطبة اخرى فمن حدثكم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخطب قاعدا فقد كذب
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور کچھ آیتیں پڑھتے، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ۱؎ اور آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا، اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب قايما ثم يجلس ثم يقوم ويقرا ايات ويذكر الله عز وجل وكانت خطبته قصدا وصلاته قصدا
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترتے پھر کوئی آدمی آپ کے سامنے آ جاتا تو آپ اس سے گفتگو کرتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لیتا یعنی اپنی بات ختم نہ کر لیتا، پھر آپ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھتے، اور نماز پڑھاتے۔
اخبرني محمد بن علي بن ميمون، قال حدثنا الفريابي، قال حدثنا جرير بن حازم، عن ثابت البناني، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر فيعرض له الرجل فيكلمه فيقوم معه النبي صلى الله عليه وسلم حتى يقضي حاجته ثم يتقدم الى مصلاه فيصلي
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جمعہ کی نماز، عید الفطر کی نماز، اور عید الاضحی کی نماز، اور سفر کی نماز، دو دو رکعتیں ہیں، اور یہ بزبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے ۱؎۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا شريك، عن زبيد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال قال عمر صلاة الجمعة ركعتان وصلاة الفطر ركعتان وصلاة الاضحى ركعتان وصلاة السفر ركعتان تمام غير قصر على لسان محمد صلى الله عليه وسلم . قال ابو عبد الرحمن عبد الرحمن بن ابي ليلى لم يسمع من عمر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز نماز فجر میں «الم * تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان»پڑھتے، اور جمعہ کی صلاۃ میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، قال حدثنا خالد بن الحارث، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني مخول، قال سمعت مسلما البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا يوم الجمعة في صلاة الصبح { الم * تنزيل } و{ هل اتى على الانسان } وفي صلاة الجمعة بسورة الجمعة والمنافقين
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن شعبة، قال اخبرني معبد بن خالد، عن زيد بن عقبة، عن سمرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في صلاة الجمعة ب { سبح اسم ربك الاعلى } و{ هل اتاك حديث الغاشية}
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورۃ الجمعہ کے بعد کون سی سورۃ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ضمرة بن سعيد، عن عبيد الله بن عبد الله، ان الضحاك بن قيس، سال النعمان بن بشير ماذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا يوم الجمعة على اثر سورة الجمعة قال كان يقرا { هل اتاك حديث الغاشية}
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو جاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن شعبة، ان ابراهيم بن محمد بن المنتشر، اخبره قال سمعت ابي يحدث، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الجمعة ب { سبح اسم ربك الاعلى } و{ هل اتاك حديث الغاشية } وربما اجتمع العيد والجمعة فيقرا بهما فيهما جميعا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کی نماز میں سے ایک رکعت پا لی تو اس نے ( جمعہ کی نماز ) پا لی ۔
اخبرنا قتيبة، ومحمد بن منصور، - واللفظ له - عن سفيان، عن الزهري عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من صلاة الجمعة ركعة فقد ادرك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم الجمعة فليصل بعدها اربعا