Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعۃ المبارک کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب کے مطابق لکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی تو اس آدمی کی طرح ہوں گے جس نے اعلیٰ درجے کا اونٹ صدقہ کیا، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کا اونٹ صدقہ کیا، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی گائے صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی گائے صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی بکری صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی بکری صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین مرغی صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی مرغی صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے قیمتی چڑیا صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام چڑیا صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین انڈہ صدقہ کیا اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام انڈہ صدقہ کیا۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا شعيب بن الليث، قال انبانا الليث، عن ابن عجلان، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تقعد الملايكة يوم الجمعة على ابواب المسجد يكتبون الناس على منازلهم فالناس فيه كرجل قدم بدنة وكرجل قدم بقرة وكرجل قدم شاة وكرجل قدم دجاجة وكرجل قدم عصفورا وكرجل قدم بيضة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کے مانند ( خوب اہتمام سے ) غسل کیا، پھر وہ ( جمعہ میں شریک ہونے کے لیے ) پہلی ساعت ( گھڑی ) میں مسجد گیا، تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا، اور جو شخص اس کے بعد والی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک گائے پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مینڈھا پیش کیا، اور جو چوتھی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مرغی پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک انڈا پیش کیا، اور جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کے اندر آ جاتے ہیں، اور خطبہ سننے لگتے ہیں ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح فكانما قرب بدنة ومن راح في الساعة الثانية فكانما قرب بقرة ومن راح في الساعة الثالثة فكانما قرب كبشا ومن راح في الساعة الرابعة فكانما قرب دجاجة ومن راح في الساعة الخامسة فكانما قرب بيضة فاذا خرج الامام حضرت الملايكة يستمعون الذكر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعتوں ( گھڑیوں ) پر مشتمل ہے، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے، تو اسے وہ دیتا ہے، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن الجلاح، مولى عبد العزيز ان ابا سلمة بن عبد الرحمن، حدثه عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يوم الجمعة اثنتا عشرة ساعة لا يوجد فيها عبد مسلم يسال الله شييا الا اتاه اياه فالتمسوها اخر ساعة بعد العصر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے، پھر ہم لوٹتے تو اپنے اونٹوں کو آرام دیتے، میں نے کہا: وہ کون سا وقت ہوتا؟، انہوں نے کہا: سورج ڈھلنے کا۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثني يحيى بن ادم، قال حدثنا حسن بن عياش، قال حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الجمعة ثم نرجع فنريح نواضحنا . قلت اية ساعة قال زوال الشمس
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جا سکے ۱؎۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، قال انبانا عبد الرحمن، عن يعلى بن الحارث، قال سمعت اياس بن سلمة بن الاكوع، يحدث عن ابيه، قال كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الجمعة ثم نرجع وليس للحيطان فىء يستظل به
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جس وقت امام منبر پر بیٹھتا، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا، اور لوگ بڑھ گئے تو انہوں نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا ۱؎، وہ اذان مقام زوراء پر دی گئی، پھر اسی پر معاملہ قائم رہا۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني السايب بن يزيد، ان الاذان، كان اول حين يجلس الامام على المنبر يوم الجمعة في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر فلما كان في خلافة عثمان وكثر الناس امر عثمان يوم الجمعة بالاذان الثالث فاذن به على الزوراء فثبت الامر على ذلك
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو تیسری اذان کا حکم عثمان رضی اللہ عنہ نے دیا تھا جب اہل مدینہ زیادہ ہو گئے تھے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ایک ہی مؤذن تھا، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام ( منبر پر ) بیٹھ جاتا تھا۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله، قال حدثنا يعقوب، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان السايب بن يزيد، اخبره قال انما امر بالتاذين الثالث عثمان حين كثر اهل المدينة ولم يكن لرسول الله صلى الله عليه وسلم غير موذن واحد وكان التاذين يوم الجمعة حين يجلس الامام
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان دیتے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ جاتے، پھر جب آپ اترتے تو وہ اقامت کہتے، اسی طرح ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی ہوتا رہا۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، عن ابيه، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، قال كان بلال يوذن اذا جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يوم الجمعة فاذا نزل اقام ثم كان كذلك في زمن ابي بكر وعمر رضى الله عنهما
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ( مسجد ) آئے اور امام ( خطبہ کے لیے ) نکل چکا ہو ۱؎ تو چاہیئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے ۔ شعبہ کی روایت میں ہے: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن دينار، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا جاء احدكم وقد خرج الامام فليصل ركعتين " . قال شعبة يوم الجمعة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنا سے آپ ٹیک لگاتے تھے، پھر جب منبر بنایا گیا، اور آپ اس پر کھڑے ہوئے تو وہ ستون ( جس سے آپ سہارا لیتے تھے ) بیقرار ہو کر رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے، یہاں تک کہ اسے مسجد والوں نے بھی سنا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس گئے، اور اسے گلے سے لگایا تو وہ چپ ہوا۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود، قال انبانا ابن وهب، قال انبانا ابن جريج، ان ابا الزبير، اخبره انه، سمع جابر بن عبد الله، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا خطب يستند الى جذع نخلة من سواري المسجد فلما صنع المنبر واستوى عليه اضطربت تلك السارية كحنين الناقة حتى سمعها اهل المسجد حتى نزل اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعتنقها فسكتت
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں آئے اور عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو انہوں نے کہا: اس شخص کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں ( الجمعہ: ۱۱ ) ۔
اخبرنا احمد بن عبد الله بن الحكم، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن منصور، عن عمرو بن مرة، عن ابي عبيدة، عن كعب بن عجرة، قال دخل المسجد وعبد الرحمن بن ام الحكم يخطب قاعدا فقال انظروا الى هذا يخطب قاعدا وقد قال الله عز وجل { واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها وتركوك قايما}
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غسل کرائے اور خود بھی غسل کرے، اور مسجد کے لیے سویرے نکل جائے، اور امام سے قریب رہے، اور خاموشی سے خطبہ سنے، پھر کوئی لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے روزے، اور قیام کا ثواب ملے گا ۔
اخبرنا محمود بن خالد، قال حدثني عمر بن عبد الواحد، قال سمعت يحيى بن الحارث، يحدث عن ابي الاشعث الصنعاني، عن اوس بن اوس الثقفي، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من غسل واغتسل وابتكر وغدا ودنا من الامام وانصت ثم لم يلغ كان له بكل خطوة كاجر سنة صيامها وقيامها
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے ( لوگوں کو ) تکلیف دی ہے ۱؎۔
اخبرنا وهب بن بيان، قال انبانا ابن وهب، قال سمعت معاوية بن صالح، عن ابي الزاهرية، عن عبد الله بن بسر، قال كنت جالسا الى جانبه يوم الجمعة فقال جاء رجل يتخطى رقاب الناس فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اى اجلس فقد اذيت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی ( مسجد میں ) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: تو پڑھ لو ۱؎۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن، ويوسف بن سعيد، - واللفظ له - قالا حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول جاء رجل والنبي صلى الله عليه وسلم على المنبر يوم الجمعة فقال له " اركعت ركعتين " . قال لا . قال " فاركع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال لصاحبه يوم الجمعة والامام يخطب انصت فقد لغا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم اپنے ساتھ والے سے جمعہ کے دن کہو: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا ۔
اخبرنا عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد، قال حدثني ابي، عن جدي، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن عمر بن عبد العزيز، عن عبد الله بن ابراهيم بن قارظ، وعن سعيد بن المسيب، انهما حدثاه ان ابا هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا قلت لصاحبك انصت يوم الجمعة والامام يخطب فقد لغوت
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کر لے، تو ( اس کا یہ عمل ) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہو گا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن ابي معشر، زياد بن كليب عن ابراهيم، عن علقمة، عن القرثع الضبي، - وكان من القراء الاولين - عن سلمان، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من رجل يتطهر يوم الجمعة كما امر ثم يخرج من بيته حتى ياتي الجمعة وينصت حتى يقضي صلاته الا كان كفارة لما قبله من الجمعة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا ( آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ كان عليكم رقيبا» اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( الاحزاب: ۷۰ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو ( النساء: ۱ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے، ( یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت ابا اسحاق، يحدث عن ابي عبيدة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " علمنا خطبة الحاجة الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا وسييات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله ثم يقرا ثلاث ايات { يا ايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون } { يا ايها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا الله الذي تساءلون به والارحام ان الله كان عليكم رقيبا } { يا ايها الذين امنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا } " . قال ابو عبد الرحمن ابو عبيدة لم يسمع من ابيه شييا ولا عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود ولا عبد الجبار بن وايل بن حجر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن نافع، عن ابن عمر، قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اذا راح احدكم الى الجمعة فليغتسل
ابراہیم بن نشیط سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: سنت ہے، اور اسے مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منبر پر بیان کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن ابراهيم بن نشيط، انه سال ابن شهاب عن الغسل، يوم الجمعة فقال سنة وقد حدثني به، سالم بن عبد الله عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تكلم بها على المنبر