Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دنیا میں ) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور ( قیامت میں ) آگے ہوں گے، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں ( یعنی یہود و نصاریٰ کو ) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے، یہ ( جمعہ کا دن ) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے ( یعنی جمعہ کے دن سے ) ہمیں نواز دیا، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ۲؎، یہود کل کی یعنی ہفتہ ( سنیچر ) کی تعظیم کرتے ہیں، اور نصاریٰ پرسوں کی ( یعنی اتوار کی ) ۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قال حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، وابن، طاوس عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نحن الاخرون السابقون بيد انهم اوتوا الكتاب من قبلنا واوتيناه من بعدهم وهذا اليوم الذي كتب الله عز وجل عليهم فاختلفوا فيه فهدانا الله عز وجل له - يعني يوم الجمعة - فالناس لنا فيه تبع اليهود غدا والنصارى بعد غد
ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ ( سنیچر ) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب ( پہلے ) جمعہ ہے، پھر ہفتہ ( سنیچر ) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ۱؎۔
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎۔
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ۱؎ اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے ۲؎۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا حبان، قال حدثنا ابان، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن الحضرمي بن لاحق، عن زيد، عن ابي سلام، عن الحكم بن ميناء، انه سمع ابن عباس، وابن، عمر يحدثان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو على اعواد منبره " لينتهين اقوام عن ودعهم الجمعات او ليختمن الله على قلوبهم وليكونن من الغافلين
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے ( مسجد ) جانا ہر بالغ مرد پر فرض ہے ۔
اخبرني محمود بن غيلان، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثني المفضل بن فضالة، عن عياش بن عباس، عن بكير بن الاشج، عن نافع، عن ابن عمر، عن حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " رواح الجمعة واجب على كل محتلم
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنا کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو تو آدھا دینار ہی کرے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال حدثنا عبد الرحمن الاعرج، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق ادم عليه السلام وفيه ادخل الجنة وفيه اخرج منها
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل ( بہترین ) جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن بیہوشی طاری ہو گی، لہٰذا تم مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجو کیونکہ تمہاری صلاۃ ( درود و رحمت ) مجھ پر پیش کیے جائیں گے ۱؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری صلاۃ ( درود و رحمت ) آپ پر کس طرح پیش کی جائیں گی حالانکہ آپ ریزہ ریزہ ہو چکے ہوں گے یعنی وہ کہنا چاہ رہے تھے، کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسم کو کھائے ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا حسين الجعفي، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن اوس بن اوس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان من افضل ايامكم يوم الجمعة فيه خلق ادم عليه السلام وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فاكثروا على من الصلاة فان صلاتكم معروضة على " . قالوا يا رسول الله وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد ارمت اى يقولون قد بليت . قال " ان الله عز وجل قد حرم على الارض ان تاكل اجساد الانبياء عليهم السلام
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے، مسواک کرنا بھی، اور خوشبو جس پروہ قادر ہو لگانا بھی ۱؎ ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، ان سعيد بن ابي هلال، وبكير بن الاشج، حدثاه عن ابي بكر بن المنكدر، عن عمرو بن سليم، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم والسواك ويمس من الطيب ما قدر عليه " . الا ان بكيرا لم يذكر عبد الرحمن وقال في الطيب " ولو من طيب المراة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ ( کی نماز ) کے لیے آئے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا جاء احدكم الجمعة فليغتسل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان شخص پر ہر سات دن میں ایک دن کا غسل ہے، اور وہ جمعہ کا دن ہے ۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا بشر، قال حدثنا داود بن ابي هند، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " على كل رجل مسلم في كل سبعة ايام غسل يوم وهو يوم الجمعة
قاسم بن محمد ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمعہ کے دن کے غسل کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: لوگ «عالیہ» میں رہتے تھے، تو وہ وہاں سے جمعہ میں آتے تھے، اور ان کا حال یہ ہوتا کہ وہ میلے کچیلے ہوتے، جب ہوا ان پر سے ہوتے ہوئے گزرتی تو ان کی بو پھیلتی، تو لوگوں کو تکلیف ہوتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ لوگ غسل کر کے نہیں آ سکتے ۔
اخبرنا محمود بن خالد، عن الوليد، قال حدثنا عبد الله بن العلاء، انه سمع القاسم بن محمد بن ابي بكر، انهم ذكروا غسل يوم الجمعة عند عايشة فقالت انما كان الناس يسكنون العالية فيحضرون الجمعة وبهم وسخ فاذا اصابهم الروح سطعت ارواحهم فيتاذى بها الناس فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اولا يغتسلون
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور یہ خوب ہے ۱؎ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو ان کی کتاب سے روایت کیا ہے، کیونکہ حسن نے سمرہ سے سوائے عقیقہ والی حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں سنی ہے ۲؎ واللہ اعلم۔
اخبرنا ابو الاشعث، عن يزيد بن زريع، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل افضل " . قال ابو عبد الرحمن الحسن عن سمرة كتابا ولم يسمع الحسن من سمرة الا حديث العقيقة والله تعالى اعلم
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غسل کرائے ۱؎ غسل کرے، سویرے سویرے ( مسجد ) جائے، شروع خطبہ سے موجود رہے، اور امام سے قریب بیٹھے، اور کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، وهارون بن محمد بن بكار بن بلال، - واللفظ له - قالا حدثنا ابو مسهر، قال حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن يحيى بن الحارث، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن اوس بن اوس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من غسل واغتسل وغدا وابتكر ودنا من الامام ولم يلغ كان له بكل خطوة عمل سنة صيامها وقيامها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( ریشم کا ) ایک جوڑا ( بکتے ) دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ اسے خرید لیتے، اور جمعہ کے دن، اور باہر کے وفود کے لیے جب وہ آپ سے ملنے آئیں پہنتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کچھ جوڑے آئے، آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے اسے پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے ایسا ایسا کہا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ جوڑا تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم خود پہنو ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان عمر بن الخطاب، راى حلة فقال يا رسول الله لو اشتريت هذه فلبستها يوم الجمعة وللوفد اذا قدموا عليك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما يلبس هذه من لا خلاق له في الاخرة " . ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم مثلها فاعطى عمر منها حلة فقال عمر يا رسول الله كسوتنيها وقد قلت في حلة عطارد ما قلت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لم اكسكها لتلبسها " . فكساها عمر اخا له مشركا بمكة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، اور خوشبو لگانا جس پر وہ قادر ہو، ہر بالغ شخص پر واجب ہے ۱؎۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا الحسن بن سوار، قال حدثنا الليث، قال حدثنا خالد، عن سعيد، عن ابي بكر بن المنكدر، ان عمرو بن سليم، اخبره عن عبد الرحمن بن ابي سعيد، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الغسل يوم الجمعة على كل محتلم والسواك وان يمس من الطيب ما يقدر عليه
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنی بیوی کو غسل کرائے، صبح سویرے ہی جمعہ کے لیے نکلے، شروع خطبہ ہی سے موجود رہے، پیدل چل کر مسجد جائے، سواری نہ کرے، امام سے قریب بیٹھے، اور خاموش رہے کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کے ہر قدم پر ایک سال کے عمل کا ثواب ملے گا ۔
اخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، قال حدثنا الوليد، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، انه سمع ابا الاشعث، حدثه انه، سمع اوس بن اوس، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اغتسل يوم الجمعة وغسل وغدا وابتكر ومشى ولم يركب ودنا من الامام وانصت ولم يلغ كان له بكل خطوة عمل سنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے ( اس دن ) مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، اور جو جمعہ کے لیے آتا ہے اسے لکھتے ہیں، اور جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بطخ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک مرغی کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ۱؎۔
اخبرنا نصر بن علي بن نصر، عن عبد الاعلى، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن الاغر ابي عبد الله، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان يوم الجمعة قعدت الملايكة على ابواب المسجد فكتبوا من جاء الى الجمعة فاذا خرج الامام طوت الملايكة الصحف " . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المهجر الى الجمعة كالمهدي بدنة ثم كالمهدي بقرة ثم كالمهدي شاة ثم كالمهدي بطة ثم كالمهدي دجاجة ثم كالمهدي بيضة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے لوگوں کو ان کے درجات و مراتب کے مطابق یعنی ترتیب وار لکھتے ہیں، جو پہلے آتا ہے اسے پہلے لکھتے ہیں، جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیے جاتے ہیں، اور فرشتے خطبہ سننے لگتے ہیں، جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک گائے قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ہے ، یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا ( بھی ) ذکر کیا۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم " اذا كان يوم الجمعة كان على كل باب من ابواب المسجد ملايكة يكتبون الناس على منازلهم الاول فالاول فاذا خرج الامام طويت الصحف واستمعوا الخطبة فالمهجر الى الصلاة كالمهدي بدنة ثم الذي يليه كالمهدي بقرة ثم الذي يليه كالمهدي كبشا " . حتى ذكر الدجاجة والبيضة