Loading...

Loading...
کتب
۱۵۰ احادیث
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز کے لیے ) کھڑا ہوا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سورۃ البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے، آپ اپنے رکوع میں «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» میں صاحب قدرت و بادشاہت اور صاحب بزرگی و عظمت کی پاکی بیان کرتا ہوں پڑھ رہے تھے۔
اخبرنا عمرو بن منصور، - يعني النسايي - قال حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا الليث، عن معاوية، - يعني ابن صالح - عن ابي قيس الكندي، - وهو عمرو بن قيس - قال سمعت عاصم بن حميد، قال سمعت عوف بن مالك، يقول قمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فلما ركع مكث قدر سورة البقرة يقول في ركوعه " سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو «اللہم لك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، اور اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، میرے کان، میری آنکھیں، میری ہڈیاں، میرے بھیجے اور میرے پٹھوں نے تیرے لیے عاجزی کا اظہار کیا پڑھتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، قال حدثنا عمي الماجشون بن ابي سلمة، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا ركع قال " اللهم لك ركعت ولك اسلمت وبك امنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اس میں «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی اپنا سر جھکا دیا، تیرے اوپر ہی ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کر دیا، تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرے کان، میری آنکھ، میرا خون، میرا گوشت، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے نے اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے تھے۔
اخبرنا يحيى بن عثمان الحمصي، قال حدثنا ابو حيوة، قال حدثنا شعيب، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا ركع قال " اللهم لك ركعت وبك امنت ولك اسلمت وعليك توكلت انت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل پڑھنے کھڑے ہوتے تو جب رکوع میں جاتے تو «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ولحمي ودمي ومخي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، تیرے اوپر ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ پر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری آنکھ، میرا گوشت، میرا خون، میرا دماغ اور میرے پٹھے نے اللہ رب العالمین کے لیے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے۔
اخبرنا يحيى بن عثمان، قال حدثنا ابن حمير، قال حدثنا شعيب، عن محمد بن المنكدر، وذكر، اخر قبله عن عبد الرحمن الاعرج، عن محمد بن مسلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام يصلي تطوعا يقول اذا ركع " اللهم لك ركعت وبك امنت ولك اسلمت وعليك توكلت انت ربي خشع سمعي وبصري ولحمي ودمي ومخي وعصبي لله رب العالمين
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا، وہ نماز سے فارغ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں اپنی کوشش کر چکا، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو، پھر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کر لو گے، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا بكر بن مضر، عن ابن عجلان، عن علي بن يحيى الزرقي، عن ابيه، عن عمه، رفاعة بن رافع وكان بدريا قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ دخل رجل المسجد فصلى ورسول الله صلى الله عليه وسلم يرمقه ولا يشعر ثم انصرف فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم عليه فرد عليه السلام ثم قال " ارجع فصل فانك لم تصل " . قال لا ادري في الثانية او في الثالثة قال والذي انزل عليك الكتاب لقد جهدت فعلمني وارني . قال " اذا اردت الصلاة فتوضا فاحسن الوضوء ثم قم فاستقبل القبلة ثم كبر ثم اقرا ثم اركع حتى تطمين راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قايما ثم اسجد حتى تطمين ساجدا ثم ارفع راسك حتى تطمين قاعدا ثم اسجد حتى تطمين ساجدا فاذا صنعت ذلك فقد قضيت صلاتك وما انتقصت من ذلك فانما تنقصه من صلاتك
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت انسا، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتموا الركوع والسجود اذا ركعتم وسجدتم
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے۔ قیس بن سلیم ( راوی حدیث ) نے دونوں کانوں تک اشارہ کر کے دکھایا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن قيس بن سليم العنبري، قال حدثني علقمة بن وايل، قال حدثني ابي قال، صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فرايته يرفع يديه اذا افتتح الصلاة واذا ركع واذا قال " سمع الله لمن حمده " . هكذا واشار قيس الى نحو الاذنين
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے برابر کر لیتے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، انه حدثهم عن مالك بن الحويرث، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه اذا ركع واذا رفع راسه من الركوع حتى يحاذي بهما فروع اذنيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا مالك بن انس، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه اذا دخل في الصلاة حذو منكبيه واذا رفع راسه من الركوع فعل مثل ذلك واذا قال " سمع الله لمن حمده " . قال " ربنا لك الحمد " . وكان لا يرفع يديه بين السجدتين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔
اخبرنا محمود بن غيلان المروزي، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن علقمة، عن عبد الله، انه قال الا اصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه الا مرة واحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد»کہتے، اور سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه واذا كبر للركوع واذا رفع راسه من الركوع رفعهما كذلك ايضا وقال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . وكان لا يفعل ذلك في السجود
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد» کہتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفع راسه من الركوع قال " اللهم ربنا ولك الحمد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آپ کے پاس آئے کہ ( اسی دوران ) نماز کا وقت ہو گیا، ( تو آپ نے انہیں نماز پڑھائی ) جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۱؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم سقط من فرس على شقه الايمن فدخلوا عليه يعودونه فحضرت الصلاة فلما قضى الصلاة قال " انما جعل الامام ليوتم به فاذا ركع فاركعوا واذا رفع فارفعوا واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده» کہا، تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے «ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں جو پاکیزہ و بابرکت ہیں کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابھی ابھی ( نماز میں ) کون بول رہا تھا؟ تو اس شخص نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا ان میں سے ہر ایک سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے کون پہلے لکھے ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، قال حدثني نعيم بن عبد الله، عن علي بن يحيى الزرقي، عن ابيه، عن رفاعة بن رافع، قال كنا يوما نصلي وراء رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رفع راسه من الركعة قال " سمع الله لمن حمده " . قال رجل وراءه ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه . فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من المتكلم انفا " . فقال الرجل انا يا رسول الله . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد رايت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونها ايهم يكتبها اولا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد فان من وافق قوله قول الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اور ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرے، اور جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا، اور جب وہ اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے سر بھی اٹھائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی ، اور جب وہ«سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «اللہم ربنا ولك الحمد» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری پکار سن لے گا ؛ کیونکہ اللہ نے اپنے بنی کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی، تو جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدہ سے سر بھی اٹھائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، جب وہ قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی پہلی دعا یہ ہو:«التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب بندگیاں، پاکیزہ خیراتیں، اور صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں یہ سات کلمے ۱؎ ہیں اور یہ نماز کا سلام ہے ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن يونس بن جبير، عن حطان بن عبد الله، انه حدثه انه، سمع ابا موسى، قال ان نبي الله صلى الله عليه وسلم خطبنا وبين لنا سنتنا وعلمنا صلاتنا فقال " اذا صليتم فاقيموا صفوفكم ثم ليومكم احدكم فاذا كبر الامام فكبروا واذا قرا { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فقولوا امين يجبكم الله واذا كبر وركع فكبروا واركعوا فان الامام يركع قبلكم ويرفع قبلكم " . قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " فتلك بتلك واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا ولك الحمد يسمع الله لكم فان الله قال على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم سمع الله لمن حمده فاذا كبر وسجد فكبرو واسجدوا فان الامام يسجد قبلكم ويرفع قبلكم قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " فتلك بتلك فاذا كان عند القعدة فليكن من اول قول احدكم التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته سلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله سبع كلمات وهي تحية الصلاة
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۱؎۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن علية، قال انبانا شعبة، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ركوعه واذا رفع راسه من الركوع وسجوده وما بين السجدتين قريبا من السواء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «اللہم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» اے اللہ! تیری تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔
اخبرنا ابو داود، سليمان بن سيف الحراني قال حدثنا سعيد بن عامر، قال حدثنا هشام بن حسان، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قال " سمع الله لمن حمده " . قال " اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ما شيت من شىء بعد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» اے ہمارے رب! تیری تعریف ہے، تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔
اخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن ابي بكير، قال حدثنا ابراهيم بن نافع، عن وهب بن ميناس العدني، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد السجود بعد الركعة يقول " اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ما شيت من شىء بعد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ، ہمارے رب! تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر، اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے، اے لائق تعریف و لائق مجد و شرف! بہتر ہے جو بندے نے کہا، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں جسے تو دیدے، تیرے مقابلے میں مالداروں کی مالداری کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی کہتے۔
اخبرني عمرو بن هشام ابو امية الحراني، قال حدثنا مخلد، عن سعيد بن عبد العزيز، عن عطية بن قيس، عن قزعة بن يحيى، عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول حين يقول " سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ما شيت من شىء بعد اهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما اعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد