Loading...

Loading...
کتب
۱۵۰ احادیث
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: ہاں! تو انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے دونوں کی امامت کی، اور ان دونوں کے درمیان میں کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: جب تم تین ہو تو ایسے ہی کرو، اور جب تم اس سے زیادہ ہو تو تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد بن الحارث، عن شعبة، عن سليمان، قال سمعت ابراهيم، يحدث عن علقمة، والاسود، انهما كانا مع عبد الله في بيته فقال اصلى هولاء قلنا نعم . فامهما وقام بينهما بغير اذان ولا اقامة . قال اذا كنتم ثلاثة فاصنعوا هكذا واذا كنتم اكثر من ذلك فليومكم احدكم وليفرش كفيه على فخذيه فكانما انظر الى اختلاف اصابع رسول الله صلى الله عليه وسلم
اسود اور علقمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی، وہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا، تو انہوں نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور ہمارے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیں، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
اخبرني احمد بن سعيد الرباطي، قال حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله، قال انبانا عمرو، - وهو ابن ابي قيس - عن الزبير بن عدي، عن ابراهيم، عن الاسود، وعلقمة، قالا صلينا مع عبد الله بن مسعود في بيته فقام بيننا فوضعنا ايدينا على ركبنا فنزعها فخالف بين اصابعنا وقال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، تو جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو ملا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیا، اور رکوع کیا، یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: میرے بھائی نے سچ کہا، ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہمیں اس کا یعنی ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔
اخبرنا نوح بن حبيب، قال انبانا ابن ادريس، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن علقمة، عن عبد الله، قال علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة فقام فكبر فلما اراد ان يركع طبق يديه بين ركبتيه وركع فبلغ ذلك سعدا فقال صدق اخي قد كنا نفعل هذا ثم امرنا بهذا يعني الامساك بالركب
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے پہلو میں نماز پڑھی، میں نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھو، پھر میں نے دوسری بار بھی ایسا ہی کیا، تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور کہا: ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے، اور ہاتھوں کو گھٹنوں پہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي يعفور، عن مصعب بن سعد، قال صليت الى جنب ابي وجعلت يدى بين ركبتى فقال لي اضرب بكفيك على ركبتيك . قال ثم فعلت ذلك مرة اخرى فضرب يدي وقال انا قد نهينا عن هذا وامرنا ان نضرب بالاكف على الركب
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے رکوع کیا، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا، تو میرے والد نے کہا: پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم اسے اٹھا کر گھٹنوں پر رکھنے لگے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن الزبير بن عدي، عن مصعب بن سعد، قال ركعت فطبقت فقال ابي ان هذا شىء كنا نفعله ثم ارتفعنا الى الركب
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہتھیلیوں سے گھٹنوں کو پکڑے رکھنا تمہارے لیے مسنون قرار دیا گیا ہے، لہٰذا تم رکوع میں گھٹنوں کو پکڑے رہو۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثني ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن ابي عبد الرحمن، عن عمر، قال سنت لكم الركب فامسكوا بالركب
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سنت تو گھٹنوں کو پکڑنا ہی ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن سفيان، عن ابي حصين، عن ابي عبد الرحمن السلمي، قال قال عمر انما السنة الاخذ بالركب
سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا، اور انگلیوں کو اس سے نیچے، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی، پھر انہوں نے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا، اور کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی۔
اخبرنا هناد بن السري، في حديثه عن ابي الاحوص، عن عطاء بن السايب، عن سالم، قال اتينا ابا مسعود فقلنا له حدثنا عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقام بين ايدينا وكبر فلما ركع وضع راحتيه على ركبتيه وجعل اصابعه اسفل من ذلك وجافى بمرفقيه حتى استوى كل شىء منه ثم قال سمع الله لمن حمده فقام حتى استوى كل شىء منه
ابوعبداللہ سالم بن البرد سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے ایسی نماز نہ پڑھوں جیسی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں! ضرور پڑھیئے، تو وہ کھڑے ہوئے، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ، اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں کے نیچے رکھا، اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور کھڑے ہو گئے، پھر سجدہ کیا اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک ان کی ہر چیز اپنی جگہ جم گئی، پھر وہ بیٹھے یہاں تک کہ جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، پھر انہوں نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جسم کا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، چاروں رکعتیں اسی طرح ادا کیں، پھر انہوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ ہمیں اسی طرح پڑھاتے بھی تھے۔
اخبرنا احمد بن سليمان الرهاوي، قال حدثنا حسين، عن زايدة، عن عطاء، عن سالم ابي عبد الله، عن عقبة بن عمرو، قال الا اصلي لكم كما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فقلنا بلى . فقام فلما ركع وضع راحتيه على ركبتيه وجعل اصابعه من وراء ركبتيه وجافى ابطيه حتى استقر كل شىء منه ثم رفع راسه فقام حتى استوى كل شىء منه ثم سجد فجافى ابطيه حتى استقر كل شىء منه ثم قعد حتى استقر كل شىء منه ثم سجد حتى استقر كل شىء منه ثم صنع كذلك اربع ركعات ثم قال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وهكذا كان يصلي بنا
ابوعبداللہ سالم براد کہتے ہیں کہ ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں، ضرور دکھایئے، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں بغلوں سے جدا رکھا، یہاں تک کہ جب ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا، اسی طرح انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں، اور کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، عن ابن علية، عن عطاء بن السايب، عن سالم البراد، قال قال ابو مسعود الا اريكم كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قلنا بلى . فقام فكبر فلما ركع جافى بين ابطيه حتى لما استقر كل شىء منه رفع راسه فصلى اربع ركعات هكذا وقال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو پیٹھ اور سر کو برابر رکھتے، نہ تو سر کو بہت اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکا کر رکھتے، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھتے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبد الحميد بن جعفر، قال حدثني محمد بن عمرو بن عطاء، عن ابي حميد الساعدي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا ركع اعتدل فلم ينصب راسه ولم يقنعه ووضع يديه على ركبتيه
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی ۱؎ اور حریر ۲؎ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے روکا ہے، اور اس بات سے بھی کہ میں رکوع کی حالت میں قرآن پڑھوں۔ دوسری بار راوی نے «أن أقرأ وأنا راكع» کے بجائے «أن أقرأ راكعا» کہا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا حماد بن مسعدة، عن اشعث، عن محمد، عن عبيدة، عن علي، قال نهاني النبي صلى الله عليه وسلم عن القسي والحرير وخاتم الذهب وان اقرا وانا راكع وقال مرة اخرى وان اقرا راكعا
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن عجلان، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن ابن عباس، عن علي، قال نهاني النبي صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب وعن القراءة راكعا وعن القسي والمعصفر
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے، انتہائی سرخ کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا ہے۔
اخبرنا الحسن بن داود المنكدري، قال حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك بن عثمان، عن ابراهيم بن حنين، عن ابيه، عن عبد الله بن عباس، عن علي، قال نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا اقول نهاكم عن تختم الذهب وعن لبس القسي وعن لبس المفدم والمعصفر وعن القراءة في الركوع
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی کے بنے ریشمی کپڑے، کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے، اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔
اخبرنا عيسى بن حماد، زغبة عن الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، ان ابراهيم بن عبد الله بن حنين، حدثه ان اباه حدثه انه، سمع عليا، يقول نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب وعن لبوس القسي والمعصفر وقراءة القران وانا راكع
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ریشمی کپڑے، اور کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے، اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن علي، قال نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبس القسي والمعصفر وعن تختم الذهب وعن القراءة في الركوع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے ، پھر فرمایا: سنو! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا سفيان، عن سليمان بن سحيم، عن ابراهيم بن عبد الله بن معبد بن عباس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال كشف النبي صلى الله عليه وسلم الستارة والناس صفوف خلف ابي بكر - رضى الله عنه - فقال " ايها الناس انه لم يبق من مبشرات النبوة الا الرويا الصالحة يراها المسلم او ترى له - ثم قال - الا اني نهيت ان اقرا راكعا او ساجدا فاما الركوع فعظموا فيه الرب واما السجود فاجتهدوا في الدعاء قمن ان يستجاب لكم
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا تو اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو معاوية، عن الاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن المستورد بن الاحنف، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فركع فقال في ركوعه " سبحان ربي العظيم " . وفي سجوده " سبحان ربي الاعلى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» اے ہمارے رب تیری ذات پاک ہے، اور تیری حمد کے ساتھ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کثرت سے پڑھتے تھے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، ويزيد، قالا حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر ان يقول في ركوعه وسجوده " سبحانك ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» فرشتوں اور جبرائیل امین کا رب ہر نقص و عیب سے پاک اور تمام آلائشوں سے منزہ ہے ، پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال انباني قتادة، عن مطرف، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في ركوعه " سبوح قدوس رب الملايكة والروح