Loading...

Loading...
کتب
۱۵۰ احادیث
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا:«اللہ أكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے ، اور آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو: «لربي الحمد لربي الحمد»، شکر میرے رب کے لیے، شکر میرے رب کے لیے کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اے میرے رب! میری مغفرت فرما کہتے، اور آپ کا قیام کرنا، رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا، اور آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي حمزة، عن رجل، من بني عبس عن حذيفة، انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فسمعه حين كبر قال " الله اكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة " . وكان يقول في ركوعه " سبحان ربي العظيم " . واذا رفع راسه من الركوع قال " لربي الحمد لربي الحمد " . وفي سجوده " سبحان ربي الاعلى " . وبين السجدتين " رب اغفر لي رب اغفر لي " . وكان قيامه وركوعه . واذا رفع راسه من الركوع وسجوده وما بين السجدتين قريبا من السواء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ۱؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن سليمان التيمي، عن ابي مجلز، عن انس بن مالك، قال قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا بعد الركوع يدعو على رعل وذكوان وعصية عصت الله ورسوله
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ( پڑھی ہے ) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابن سيرين، ان انس بن مالك، سيل هل قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الصبح قال نعم . فقيل له قبل الركوع او بعده قال بعد الركوع
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر بن المفضل، عن يونس، عن ابن سيرين، قال حدثني بعض، من صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فلما قال " سمع الله لمن حمده " . في الركعة الثانية قام هنيهة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے دعا کی: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور لوگوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان کے اوپر یوسف علیہ السلام ( کی قوم ) جیسا سا قحط مسلط کر دے ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حفظناه من الزهري عن سعيد، عن ابي هريرة، قال لما رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه من الركعة الثانية من صلاة الصبح قال " اللهم انج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن ابي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطاتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جس وقت «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے تو دعا کرتے، سجدہ میں جانے سے پہلے کھڑے ہو کر، کہتے: «اللہم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين من المؤمنين اللہم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان پر یوسف سا قحط مسلط کر دے ، پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے، ان دنوں قبیلہ مضر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف تھا۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن ابن ابي حمزة، قال حدثني محمد، قال حدثني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة، كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو في الصلاة حين يقول " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . ثم يقول وهو قايم قبل ان يسجد " اللهم انج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن ابي ربيعة والمستضعفين من المومنين اللهم اشدد وطاتك على مضر واجعلها عليهم كسني يوسف " . ثم يقول " الله اكبر " . فيسجد وضاحية مضر يوميذ مخالفون لرسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قریب تر کر کے دکھاؤں گا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ «سمع اللہ لمن حمده» کہنے کے بعد ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء میں، اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے، تو مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔
اخبرنا سليمان بن سلم البلخي، قال حدثنا النضر، قال انبانا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال لاقربن لكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فكان ابو هريرة يقنت في الركعة الاخرة من صلاة الظهر . وصلاة العشاء الاخرة وصلاة الصبح بعد ما يقول سمع الله لمن حمده فيدعو للمومنين ويلعن الكفرة
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں «أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، عن عبد الرحمن، عن سفيان، وشعبة، عن عمرو بن مرة، ح واخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، وسفيان، قالا حدثنا عمرو بن مرة، عن ابن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقنت في الصبح والمغرب . وقال عبيد الله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی۔ شعبہ کی روایت میں ہے آپ نے چند لوگوں پر لعنت بھیجی، اور ہشام کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے کچھ قبیلوں پر رکوع کے بعد بد دعا فرماتے تھے، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا، یہ قول ہشام کا ہے، اور شعبہ قتادہ سے اور قتادہ انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی، آپ رعل، ذکوان اور لحیان قبائل پر لعنت بھیج رہے تھے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، وهشام، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قنت شهرا - قال شعبة لعن رجالا وقال هشام يدعو على احياء من احياء العرب - ثم تركه بعد الركوع . هذا قول هشام وقال شعبة عن قتادة عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم قنت شهرا يلعن رعلا وذكوان ولحيان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «اللہم العن فلانا وفلانا» اے اللہ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» اے محمد! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں ( آل عمران: ۱۲۸ ) ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم حين رفع راسه من صلاة الصبح من الركعة الاخرة قال " اللهم العن فلانا وفلانا " . يدعو على اناس من المنافقين فانزل الله عز وجل { ليس لك من الامر شىء او يتوب عليهم او يعذبهم فانهم ظالمون}
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قنت شهرا يدعو على حى من احياء العرب ثم تركه
ابو مالک اشجعی (سعد) اپنے والد (طارق بن اشیم) سے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، اور علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، پھر انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ ( یعنی: مداومت ) بدعت ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن خلف، - وهو ابن خليفة - عن ابي مالك الاشجعي، عن ابيه، قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يقنت وصليت خلف ابي بكر فلم يقنت وصليت خلف عمر فلم يقنت وصليت خلف عثمان فلم يقنت وصليت خلف علي فلم يقنت ثم قال يا بنى انها بدعة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم ظہر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، میں نماز میں ہی ایک مٹھی کنکری اپنے ہاتھ میں لے لیتا، اسے ٹھنڈا کرتا، پھر اسے دوسرے ہاتھ میں پلٹ دیتا، تو جب سجدہ کرتا تو اسے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عباد، عن محمد بن عمرو، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبد الله، قال كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر فاخذ قبضة من حصى في كفي ابرده ثم احوله في كفي الاخر فاذا سجدت وضعته لجبهتي
مطرف کہتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما دونوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، عن غيلان بن جرير، عن مطرف، قال صليت انا وعمران بن حصين، خلف علي بن ابي طالب فكان اذا سجد كبر واذا رفع راسه من السجود كبر واذا نهض من الركعتين كبر فلما قضى صلاته اخذ عمران بيدي فقال لقد ذكرني هذا - قال كلمة يعني - صلاة محمد صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا معاذ، ويحيى، قالا حدثنا زهير، قال حدثني ابو اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن علقمة، والاسود، عن عبد الله بن مسعود، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر في كل خفض ورفع ويسلم عن يمينه وعن يساره وكان ابو بكر وعمر - رضى الله عنهما - يفعلانه
حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن ابي بشر، قال سمعت يوسف، - وهو ابن ماهك - يحدث عن حكيم، قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ان لا اخر الا قايما
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں جب آپ رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور جب سجدہ کرتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے ۱؎ رفع یدین کرتے دیکھا، یہاں تک کہ آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کی لو کے بالمقابل کر لیتے ۲؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته واذا ركع واذا رفع راسه من الركوع واذا سجد واذا رفع راسه من السجود حتى يحاذي بهما فروع اذنيه
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اسی کے مثل روایت ذکر کی۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم رفع يديه فذكر مثله
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہو جاتے …. پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان اذا دخل في الصلاة فذكر نحوه وزاد فيه واذا ركع فعل مثل ذلك واذا رفع راسه من الركوع فعل مثل ذلك واذا رفع راسه من السجود فعل مثل ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سجدہ کرنے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبيد الكوفي المحاربي، قال حدثنا ابن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه اذا افتتح الصلاة واذا ركع واذا رفع وكان لا يفعل ذلك في السجود