Loading...

Loading...
کتب
۹۹ احادیث
محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ( اور جا کر نماز پڑھی ) ، پھر ( نماز پڑھ کر ) لوٹے، اور محجن اپنی مجلس ہی میں بیٹھے رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم آؤ ( اور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں ) تو لوگوں کے ساتھ تم بھی نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم پڑھ چکے ہو ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن رجل، من بني الديل يقال له بسر بن محجن عن محجن، انه كان في مجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذن بالصلاة - فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم رجع ومحجن في مجلسه - فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما منعك ان تصلي الست برجل مسلم " . قال بلى ولكني كنت قد صليت في اهلي فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جيت فصل مع الناس وان كنت قد صليت
یزید بن اسود عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد خیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں موجود تھا، جب آپ اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے دیکھا کہ لوگوں کے آخر میں دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لاؤ ، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا، ان کے مونڈھے ( گھبراہٹ سے ) کانپ رہے تھے وہ گھبرائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ تو ان دونوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، جب تم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکو، پھر مسجد میں آؤ جہاں جماعت ہو رہی ہو تو تم ان کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ( سنت ) ہو جائے گی ۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا هشيم، قال حدثنا يعلى بن عطاء، قال حدثنا جابر بن يزيد بن الاسود العامري، عن ابيه، قال شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر في مسجد الخيف فلما قضى صلاته اذا هو برجلين في اخر القوم لم يصليا معه قال " على بهما " . فاتي بهما ترعد فرايصهما فقال " ما منعكما ان تصليا معنا " . قالا يا رسول الله انا قد صلينا في رحالنا . قال " فلا تفعلا اذا صليتما في رحالكما ثم اتيتما مسجد جماعة فصليا معهم فانها لكما نافلة
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پہ ہاتھ مار کر مجھ سے فرمایا: جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے تو کیسے کرو گے؟ انہوں نے کہا: آپ جیسا حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اول وقت پر پڑھ لینا، پھر تم اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا، اور اگر جماعت کھڑی ہو چکی ہو اور تم ( ابھی ) مسجد ہی میں ہو تو پھر نماز پڑھ لینا ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، ومحمد بن ابراهيم بن صدران، - واللفظ له - عن خالد بن الحارث، قال حدثنا شعبة، عن بديل، قال سمعت ابا العالية، يحدث عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم وضرب فخذي " كيف انت اذا بقيت في قوم يوخرون الصلاة عن وقتها " . قال ما تامر قال " صل الصلاة لوقتها ثم اذهب لحاجتك فان اقيمت الصلاة وانت في المسجد فصل
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کو بلاط ( ایک جگہ کا نام ) پر بیٹھے ہوئے دیکھا، اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے آپ کیوں نہیں نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: دراصل میں نماز پڑھ چکا ہوں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ایک دن میں دو بار نماز نہ لوٹائی جائے ۱؎۔
اخبرنا ابراهيم بن محمد التيمي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن سليمان، مولى ميمونة قال رايت ابن عمر جالسا على البلاط والناس يصلون قلت يا ابا عبد الرحمن ما لك لا تصلي قال اني قد صليت اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تعاد الصلاة في يوم مرتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ چلتے ہوئے آؤ، اور تم پر ( وقار ) سکینت طاری ہو، نماز جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن الزهري، قال حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتيتم الصلاة فلا تاتوها وانتم تسعون واتوها تمشون وعليكم السكينة فما ادركتم فصلوا وما فاتكم فاقضوا
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکتے تو بنی عبدالاشہل کے لوگوں میں جاتے اور ان سے گفتگو کرتے یہاں تک کہ مغرب کی نماز کے لیے اترتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے تیزی سے جا رہے تھے کہ ہم بقیع سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس ہے تم پر، افسوس ہے تم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات مجھے گراں لگی، اور یہ سمجھ کر کہ آپ مجھ سے مخاطب ہیں، میں پیچھے ہٹ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ چلو ، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی بات ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ ، تو میں نے عرض کیا: آپ نے مجھ پر اف کہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! ( تم پر نہیں ) البتہ اس شخص پر ( اظہار اف ) کیا ہے جسے میں نے فلاں قبیلے میں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا، تو اس نے ایک دھاری دار چادر چرا لی ہے ؛ چنانچہ اب اسے ویسی ہی آگ کی چادر پہنا دی گئی ہے ۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، قال انبانا ابن وهب، قال انبانا ابن جريج، عن منبوذ، عن الفضل بن عبيد الله، عن ابي رافع، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى العصر ذهب الى بني عبد الاشهل فيتحدث عندهم حتى ينحدر للمغرب . قال ابو رافع فبينما النبي صلى الله عليه وسلم يسرع الى المغرب مررنا بالبقيع فقال " اف لك اف لك " . قال فكبر ذلك في ذرعي فاستاخرت وظننت انه يريدني فقال " ما لك امش " . فقلت احدثت حدثا . قال " ما ذاك " . قلت اففت بي . قال " لا ولكن هذا فلان بعثته ساعيا على بني فلان فغل نمرة فدرع الان مثلها من نار
اس سند سے بھی ابورافع رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معاوية بن عمرو، قال حدثنا ابو اسحاق، عن ابن جريج، قال اخبرني منبوذ، - رجل من ال ابي رافع - عن الفضل بن عبيد الله بن ابي رافع، عن ابي رافع، نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اول وقت میں نماز کے لیے جانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو گائے کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو بھیڑ کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو مرغی کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو انڈے کی قربانی کرتا ہے ۔
اخبرنا احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا عثمان، عن شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، وابو عبد الله الاغر، ان ابا هريرة، حدثهما . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما مثل المهجر الى الصلاة كمثل الذي يهدي البدنة ثم الذي على اثره كالذي يهدي البقرة ثم الذي على اثره كالذي يهدي الكبش ثم الذي على اثره كالذي يهدي الدجاجة ثم الذي على اثره كالذي يهدي البيضة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن زكريا، قال حدثني عمرو بن دينار، قال سمعت عطاء بن يسار، يحدث عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں ۔
اخبرنا احمد بن عبد الله بن الحكم، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد، عن شعبة، عن ورقاء بن عمر، عن عمرو بن دينار، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک ازدی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز فجر کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم فجر کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو؟ ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن سعد بن ابراهيم، عن حفص بن عاصم، عن ابن بحينة، قال اقيمت صلاة الصبح فراى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي والموذن يقيم فقال " اتصلي الصبح اربعا
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں تھے، اس نے دو رکعت سنت پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: اے فلاں! ان دونوں میں سے تمہاری نماز کون سی تھی، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟ یا جو خود سے پڑھی ہے ۱؎۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، قال حدثنا عاصم، عن عبد الله بن سرجس، قال جاء رجل ورسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الصبح فركع الركعتين ثم دخل فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال " يا فلان ايهما صلاتك التي صليت معنا او التي صليت لنفسك
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، قال حدثني اسحاق بن عبد الله، قال سمعت انسا، - رضى الله عنه - قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتنا فصليت انا ويتيم لنا خلفه وصلت ام سليم خلفنا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر: ۲۴ ) ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا نوح، - يعني ابن قيس - عن ابن مالك، - وهو عمرو - عن ابي الجوزاء، عن ابن عباس، قال كانت امراة تصلي خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم حسناء من احسن الناس - قال - فكان بعض القوم يتقدم في الصف الاول ليلا يراها ويستاخر بعضهم حتى يكون في الصف الموخر فاذا ركع نظر من تحت ابطه فانزل الله عز وجل { ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستاخرين}
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے، پھر ایسا نہ کرنا ۱؎۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن يزيد بن زريع، قال حدثنا سعيد، عن زياد الاعلم، قال حدثنا الحسن، ان ابا بكرة، حدثه انه، دخل المسجد والنبي صلى الله عليه وسلم راكع فركع دون الصف فقال النبي صلى الله عليه وسلم " زادك الله حرصا ولا تعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر کر پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! تم اپنی نماز درست کیوں نہیں کرتے؟ کیا نمازی دیکھتا نہیں کہ اسے اپنی نماز کیسی پڑھنی چاہیئے، ( سن لو ) میں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثني ابو اسامة، قال حدثني الوليد بن كثير، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ثم انصرف فقال " يا فلان الا تحسن صلاتك الا ينظر المصلي كيف يصلي لنفسه اني ابصر من ورايي كما ابصر بين يدى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور اس کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے تھے، اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے، اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے، اور جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہیں پڑھتے یہاں تک کہ جب گھر لوٹ آتے تو دو رکعت پڑھتے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي قبل الظهر ركعتين وبعدها ركعتين وكان يصلي بعد المغرب ركعتين في بيته وبعد العشاء ركعتين وكان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ ہم نے کہا: گرچہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے مگر سن تو لیں، تو انہوں نے کہا: جب سورج یہاں ہوتا ۱؎ جس طرح عصر کے وقت یہاں ہوتا ہے ۲؎ تو آپ دو رکعت ( سنت ) پڑھتے ۳؎، اور جب سورج یہاں ہوتا جس طرح ظہر کے وقت ہوتا ہے تو آپ چار رکعت ( سنت ) پڑھتے ۴؎، اور ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے ۵؎، اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور عصر سے پہلے چار رکعت ( سنت ) پڑھتے، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور نبیوں پر اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام کے ذریعہ ۶؎ فصل کرتے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، قال سالنا عليا عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ايكم يطيق ذلك قلنا ان لم نطقه سمعنا . قال كان اذا كانت الشمس من ها هنا كهييتها من ها هنا عند العصر صلى ركعتين فاذا كانت من ها هنا كهييتها من ها هنا عند الظهر صلى اربعا ويصلي قبل الظهر اربعا وبعدها ثنتين ويصلي قبل العصر اربعا يفصل بين كل ركعتين بتسليم على الملايكة المقربين والنبيين ومن تبعهم من المومنين والمسلمين
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے بارے میں پوچھا جسے آپ دن میں فرض سے پہلے پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر انہوں نے ہمیں بتایا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت سورج ڈھل جاتا دو رکعت پڑھتے، اور نصف النہار ہونے سے پہلے چار رکعت پڑھتے، اور اس کے آخر میں سلام پھیرتے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا حصين بن عبد الرحمن، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، قال سالت علي بن ابي طالب عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم في النهار قبل المكتوبة قال من يطيق ذلك ثم اخبرنا قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حين تزيغ الشمس ركعتين وقبل نصف النهار اربع ركعات يجعل التسليم في اخره