Loading...

Loading...
کتب
۹۹ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کہنے لگے: ایک امیر ہم ( انصار ) میں سے ہو گا اور ایک امیر تم ( مہاجرین ) میں سے، تو عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، اور کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ۱؎، تو اب بتاؤ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر تم میں سے کس کا جی خوش ہو گا؟ ۲؎ تو لوگوں نے کہا: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۳؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، وهناد بن السري، عن حسين بن علي، عن زايدة، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت الانصار منا امير ومنكم امير . فاتاهم عمر فقال الستم تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد امر ابا بكر ان يصلي بالناس فايكم تطيب نفسه ان يتقدم ابا بكر قالوا نعوذ بالله ان نتقدم ابا بكر
ابوالعالیہ البراء کہتے ہیں کہ زیاد نے نماز میں دیر کر دی تو میرے پاس ( عبداللہ ابن صامت ) ابن صامت آئے میں نے ان کے لیے ایک کرسی لا کر رکھی، وہ اس پہ بیٹھے، میں نے ان سے زیاد کی کارستانیوں کا ذکر کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہونٹوں کو بھینچا ۱؎ اور میری ران پر ہاتھ مارا، اور کہا: میں نے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو انہوں نے میری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پہ مارا ہے، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پوچھا ہے، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ نے تمہاری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پہ مارا ہے، اور فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھ لیا کرو، اور اگر تم ان کے ساتھ نماز کا وقت پاؤ تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو، اور یہ نہ کہو کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، لہٰذا اب نہیں پڑھوں گا ۲؎۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، قال حدثنا ايوب، عن ابي العالية البراء، قال اخر زياد الصلاة فاتاني ابن صامت فالقيت له كرسيا فجلس عليه فذكرت له صنع زياد فعض على شفتيه وضرب على فخذي وقال اني سالت ابا ذر كما سالتني فضرب فخذي كما ضربت فخذك وقال اني سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سالتني فضرب فخذي كما ضربت فخذك فقال عليه الصلاة والسلام " صل الصلاة لوقتها فان ادركت معهم فصل ولا تقل اني صليت فلا اصلي
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم کچھ ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو نماز کو بے وقت کر کے پڑھیں گے، تو اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھ لیا کرو، اور ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کرو ۱؎ اور اسے سنت ( نفل ) بنا لو ۲؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعلكم ستدركون اقواما يصلون الصلاة لغير وقتها فان ادركتموهم فصلوا الصلاة لوقتها وصلوا معهم واجعلوها سبحة
ابومسعود (عقبہ بن عمرو) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ کرے جسے اللہ کی کتاب ( قرآن مجید ) سب سے زیادہ یاد ہو، اور سب سے اچھا پڑھتا ہو ۱؎، اور اگر قرآن پڑھنے میں سب برابر ہوں تو جس نے ان میں سے سب پہلے ہجرت کی ہے وہ امامت کرے، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو سنت کا زیادہ جاننے والا ہو وہ امامت کرے ۲؎، اور اگر سنت ( کے جاننے ) میں بھی برابر ہوں تو جو ان میں عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، اور تم ایسی جگہ آدمی کی امامت نہ کرو جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو، اور نہ تم اس کی مخصوص جگہ ۳؎ پر بیٹھو، إلا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دیدے ۴؎۔
اخبرنا قتيبة، قال انبانا فضيل بن عياض، عن الاعمش، عن اسماعيل بن رجاء، عن اوس بن ضمعج، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوم القوم اقروهم لكتاب الله فان كانوا في القراءة سواء فاقدمهم في الهجرة فان كانوا في الهجرة سواء فاعلمهم بالسنة فان كانوا في السنة سواء فاقدمهم سنا ولا توم الرجل في سلطانه ولا تقعد على تكرمته الا ان ياذن لك
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچازاد بھائی ( اور کبھی انہوں ) نے کہا: میں اور میرے ایک ساتھی، دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں سفر کرو تو تم دونوں اذان اور اقامت کہو، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے ۱؎۔
اخبرنا حاجب بن سليمان المنبجي، عن وكيع، عن سفيان، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم انا وابن عم لي - وقال مرة انا وصاحب لي - فقال " اذا سافرتما فاذنا واقيما وليومكما اكبركما
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین شخص ہوں تو ان میں سے ایک کو امامت کرنی چاہیئے، اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، عن يحيى، عن هشام، قال حدثنا قتادة، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا كانوا ثلاثة فليومهم احدهم واحقهم بالامامة اقروهم
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی امامت ایسی جگہ نہ کی جائے جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو، اور بغیر اجازت اس کی مخصوص نشست گاہ پر نہ بیٹھا جائے ۱؎۔
اخبرنا ابراهيم بن محمد التيمي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن اسماعيل بن رجاء، عن اوس بن ضمعج، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يوم الرجل في سلطانه ولا يجلس على تكرمته الا باذنه
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں کچھ اختلاف ہو گیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر نکلے تاکہ آپ ان میں صلح کرا دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی معاملہ میں مشغول رہے یہاں تک کہ ظہر کا وقت آپ پہنچا ۱؎ تو بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: ابوبکر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ابھی تک ) نہیں آ سکے ہیں، اور نماز کا وقت ہو چکا ہے تو کیا آپ لوگوں کی امامت کر دیں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں کر دوں گا اگر تم چاہو، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اور اللہ اکبر کہہ کر لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور آپ صفوں میں چلتے ہوئے آئے یہاں تک کہ ( پہلی ) صف میں آ کر کھڑے ہو گئے، اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ) لوگ تالیاں بجانے لگے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، تو جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، پھر وہ الٹے پاؤں اپنے پیچھے لوٹ کر صف میں کھڑے ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھائی، اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ جب تمہیں نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تالیاں بجانے لگتے ہو حالانکہ تالی بجانا عورتوں کے لیے مخصوص ہے، جسے اس کی نماز میں کوئی بات پیش آئے وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب کوئی سبحان اللہ کہے گا تو جو بھی اسے سنے گا اس کی طرف ضرور متوجہ ہو گا ( پھر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ) اور فرمایا: ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا تو تم نے لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا؟ ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز پڑھائے ۲؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يعقوب، - وهو ابن عبد الرحمن - عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بلغه ان بني عمرو بن عوف كان بينهم شىء فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلح بينهم في اناس معه فحبس رسول الله صلى الله عليه وسلم فحانت الاولى فجاء بلال الى ابي بكر فقال يا ابا بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حبس وقد حانت الصلاة فهل لك ان توم الناس قال نعم ان شيت . فاقام بلال وتقدم ابو بكر فكبر بالناس وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي في الصفوف حتى قام في الصف واخذ الناس في التصفيق وكان ابو بكر لا يلتفت في صلاته فلما اكثر الناس التفت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشار اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يامره ان يصلي فرفع ابو بكر يديه فحمد الله عز وجل ورجع القهقرى وراءه حتى قام في الصف فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس فلما فرغ اقبل على الناس فقال " يا ايها الناس ما لكم حين نابكم شىء في الصلاة اخذتم في التصفيق انما التصفيق للنساء من نابه شىء في صلاته فليقل سبحان الله فانه لا يسمعه احد حين يقول سبحان الله الا التفت اليه يا ابا بكر ما منعك ان تصلي للناس حين اشرت اليك " . قال ابو بكر ما كان ينبغي لابن ابي قحافة ان يصلي بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز وہ تھی جسے آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک کپڑے میں اس حال میں پڑھی تھی کہ اس کے دونوں کنارے بغل سے نکال کر آپ کندھے پر ڈالے ہوئے تھے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا حميد، عن انس، قال اخر صلاة صلاها رسول الله صلى الله عليه وسلم مع القوم صلى في ثوب واحد متوشحا خلف ابي بكر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صف میں تھے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا بكر بن عيسى، - صاحب البصرى - قال سمعت شعبة، يذكر عن نعيم بن ابي هند، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة، رضى الله عنها ان ابا بكر، صلى للناس ورسول الله صلى الله عليه وسلم في الصف
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ انہیں ہرگز نماز نہ پڑھائے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن ابان بن يزيد، قال حدثنا بديل بن ميسرة، قال حدثنا ابو عطية، مولى لنا عن مالك بن الحويرث، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا زار احدكم قوما فلا يصلين بهم
محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ کی امامت کرتے تھے اور وہ نابینا تھے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رات میں تاریکی ہوتی ہے اور کبھی بارش ہوتی ہے اور راستے پانی میں بھر جاتا ہے، اور میں آنکھوں کا اندھا آدمی ہوں، تو اللہ کے رسول! آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں اسے مصلیٰ بنا لوں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور آپ نے پوچھا: تم کہاں نماز پڑھوانی چاہتے ہو؟ انہوں نے گھر میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ میں نماز پڑھی ۱؎۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، ح قال وحدثنا الحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن محمود بن الربيع، . ان عتبان بن مالك، كان يوم قومه وهو اعمى وانه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم انها تكون الظلمة والمطر والسيل وانا رجل ضرير البصر فصل يا رسول الله في بيتي مكانا اتخذه مصلى . فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اين تحب ان اصلي لك " . فاشار الى مكان من البيت فصلى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم
عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم ان سے قرآن سیکھتے تھے ( جب ) میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ، تو جب میرے والد لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ، تو لوگوں نے نگاہ دوڑائی تو ان میں سب سے بڑا قاری میں ہی تھا، چنانچہ میں ہی ان کی امامت کرتا تھا، اور اس وقت میں آٹھ سال کا بچہ تھا ۱؎۔
اخبرنا موسى بن عبد الرحمن المسروقي، حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، عن سفيان، عن ايوب، قال حدثني عمرو بن سلمة الجرمي، قال كان يمر علينا الركبان فنتعلم منهم القران فاتى ابي النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ليومكم اكثركم قرانا " . فجاء ابي فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليومكم اكثركم قرانا " . فنظروا فكنت اكثرهم قرانا فكنت اومهم وانا ابن ثمان سنين
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جائے، تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہوا کرو ۱؎۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا هشيم، عن هشام بن ابي عبد الله، وحجاج بن ابي عثمان، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا نودي للصلاة فلا تقوموا حتى تروني
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے راز داری کی باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے ۱؎۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا عبد العزيز، عن انس، قال اقيمت الصلاة ورسول الله صلى الله عليه وسلم نجي لرجل فما قام الى الصلاة حتى نام القوم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی، تو لوگوں نے اپنی صفیں درست کیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے نکل کر نماز پڑھنے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوئے، پھر آپ کو یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے ۱؎ تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: تم اپنی جگہوں پر رہو ، پھر آپ واپس اپنے گھر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، والوليد، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال اقيمت الصلاة فصف الناس صفوفهم وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا قام في مصلاه ذكر انه لم يغتسل فقال للناس " مكانكم " . ثم رجع الى بيته فخرج علينا ينطف راسه فاغتسل ونحن صفوف
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں آپس میں لڑائی ہوئی، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر ان کے پاس آئے تاکہ ان میں صلح کرا دیں، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال! جب عصر کا وقت آ جائے اور میں نہ آ سکوں تو ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، چنانچہ جب عصر کا وقت آیا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آگے بڑھیے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اور نماز پڑھانے لگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور لوگوں کو چیرتے ہوئے آگے آئے ۱؎ یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ جب وہ نماز شروع کر دیتے تو کسی اور طرف متوجہ نہیں ہوتے، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ برابر تالی بج رہی ہے تو وہ متوجہ ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم نماز جاری رکھو ، تو اس بات پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، پھر وہ اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چل کر پیچھے آ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ نے آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر جب اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے فرمایا: ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا تو تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ تو انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جب تمہیں نماز کے اندر کوئی بات پیش آ جائے، تو مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورتیں تالی بجائیں ۔
اخبرنا احمد بن عبدة، عن حماد بن زيد، ثم ذكر كلمة معناها قال حدثنا ابو حازم، قال سهل بن سعد كان قتال بين بني عمرو بن عوف فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فصلى الظهر ثم اتاهم ليصلح بينهم ثم قال لبلال " يا بلال اذا حضر العصر ولم ات فمر ابا بكر فليصل بالناس " . فلما حضرت اذن بلال ثم اقام فقال لابي بكر رضى الله عنه تقدم . فتقدم ابو بكر فدخل في الصلاة ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يشق الناس حتى قام خلف ابي بكر وصفح القوم وكان ابو بكر اذا دخل في الصلاة لم يلتفت فلما راى ابو بكر التصفيح لا يمسك عنه التفت فاوما اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده فحمد الله عز وجل على قول رسول الله صلى الله عليه وسلم له امضه ثم مشى ابو بكر القهقرى على عقبيه فتاخر فلما راى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم تقدم فصلى بالناس فلما قضى صلاته قال " يا ابا بكر ما منعك اذ اومات اليك ان لا تكون مضيت " . فقال لم يكن لابن ابي قحافة ان يوم رسول الله صلى الله عليه وسلم . وقال للناس " اذا نابكم شىء فليسبح الرجال وليصفح النساء
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آئے، اور نماز کا وقت آپ پہنچا، جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو ۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سقط من فرس على شقه الايمن فدخلوا عليه يعودونه فحضرت الصلاة فلما قضى الصلاة قال " انما جعل الامام ليوتم به فاذا ركع فاركعوا واذا رفع فارفعوا واذا سجد فاسجدوا واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا لك الحمد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں پیچھے رہنے کا عمل دیکھا تو آپ نے فرمایا: تم لوگ آگے آؤ اور میری اقتداء کرو، اور جو تمہارے بعد ہیں وہ تمہاری اقتداء کریں، یاد رکھو کچھ لوگ برابر ( اگلی صفوں سے ) پیچھے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں ( اپنی رحمت سے یا اپنی جنت سے ) پیچھے کر دیتا ہے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن جعفر بن حيان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى في اصحابه تاخرا فقال " تقدموا فاتموا بي ولياتم بكم من بعدكم ولا يزال قوم يتاخرون حتى يوخرهم الله عز وجل
اس سند سے بھی ابونضرہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن الجريري، عن ابي نضرة، نحوه