Loading...

Loading...
کتب
۹۹ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثني ابو داود، قال انبانا شعبة، عن موسى بن ابي عايشة، قال سمعت عبيد الله بن عبد الله، يحدث عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر ابا بكر ان يصلي بالناس قالت وكان النبي صلى الله عليه وسلم بين يدى ابي بكر فصلى قاعدا وابو بكر يصلي بالناس والناس خلف ابي بكر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہتے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اللہ اکبر کہتے، وہ ہمیں ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے۔
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، - يعني ابن يحيى - قال حدثنا حميد بن عبد الرحمن بن حميد الرواسي، عن ابيه، عن ابي الزبير، عن جابر، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر وابو بكر خلفه فاذا كبر رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر ابو بكر يسمعنا
اسود اور علقمہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم دوپہر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: عنقریب امراء نماز کے وقت سے غافل ہو جائیں گے، تو تم لوگ نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا، پھر وہ اٹھے اور میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبيد الكوفي، عن محمد بن فضيل، عن هارون بن عنترة، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن الاسود، وعلقمة، قالا دخلنا على عبد الله نصف النهار فقال انه سيكون امراء يشتغلون عن وقت الصلاة فصلوا لوقتها . ثم قام فصلى بيني وبينه فقال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل
فروہ اسلمی کے غلام مسعود بن ھبیرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: مسعود! تم ابوتمیم یعنی اپنے مالک کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ وہ ہمیں سواری کے لیے ایک اونٹ دے دیں، اور ہمارے لیے کچھ زاد راہ اور ایک رہبر بھیج دیں جو ہماری رہنمائی کرے، تو میں نے اپنے مالک کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے میرے ساتھ ایک اونٹ اور ایک کُپّا دودھ بھیجا، میں انہیں لے کر خفیہ راستوں سے چھپ چھپا کر چلا تاکہ کافروں کو پتہ نہ چل سکے، جب نماز کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوئے، ان دونوں کے ساتھ رہ کر میں نے اسلام سیکھ لیا تھا، تو میں آ کر ان دونوں کے پیچھے کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر انہیں پیچھے کی طرف ہٹایا، تو ( وہ آ کر ہم سے مل گئے اور ) ہم دونوں آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ بریدہ بن سفیان حدیث میں قوی نہیں ہیں۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال حدثنا افلح بن سعيد، قال حدثنا بريدة بن سفيان بن فروة الاسلمي، عن غلام، لجده يقال له مسعود فقال مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر فقال لي ابو بكر يا مسعود ايت ابا تميم - يعني مولاه - فقل له يحملنا على بعير ويبعث الينا بزاد ودليل يدلنا . فجيت الى مولاى فاخبرته فبعث معي ببعير ووطب من لبن فجعلت اخذ بهم في اخفاء الطريق وحضرت الصلاة فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وقام ابو بكر عن يمينه وقد عرفت الاسلام وانا معهما فجيت فقمت خلفهما فدفع رسول الله صلى الله عليه وسلم في صدر ابي بكر فقمنا خلفه . قال ابو عبد الرحمن بريدة هذا ليس بالقوي في الحديث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر مدعو کیا جسے انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا، پھر فرمایا: اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو کافی دنوں سے پڑی رہنے کی وجہ سے کالی ہو گئی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑکا، اور اسے آپ کے پاس لا کر بچھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر واپس تشریف لے گئے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان جدته، مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام قد صنعته له فاكل منه ثم قال " قوموا فلاصلي لكم " . قال انس فقمت الى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس فنضحته بماء فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففت انا واليتيم وراءه والعجوز من وراينا فصلى لنا ركعتين ثم انصرف
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اور اس وقت وہاں صرف میں، میری ماں، ایک یتیم، اور میری خالہ ام حرام تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، ( یہ کسی نماز کا وقت نہ تھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن انس، قال دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وما هو الا انا وامي واليتيم وام حرام خالتي فقال " قوموا فلاصلي بكم " . قال في غير وقت صلاة - قال - فصلى بنا
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اور ان کی ماں اور ان کی خالہ تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، اور ان کی ماں اور خالہ دونوں کو اپنے اور انس رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا کیا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت عبد الله بن مختار، يحدث عن موسى بن انس، عن انس، انه كان هو ورسول الله صلى الله عليه وسلم وامه وخالته فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل انسا عن يمينه وامه وخالته خلفهما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني زياد، ان قزعة، مولى لعبد قيس اخبره انه، سمع عكرمة، مولى ابن عباس قال قال ابن عباس صليت الى جنب النبي صلى الله عليه وسلم وعايشة خلفنا تصلي معنا وانا الى جنب النبي صلى الله عليه وسلم اصلي معه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے گھر کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، تو آپ نے مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کیا، اور عورت ہمارے پیچھے تھی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، عن عبد الله بن المختار، عن موسى بن انس، عن انس، قال صلى بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وبامراة من اهلي فاقامني عن يمينه والمراة خلفنا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس طرح کیا یعنی آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کر لیا۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن عبد الله بن سعيد بن جبير، عن ابيه، عن ابن عباس، قال بت عند خالتي ميمونة فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فقمت عن شماله فقال بي هكذا فاخذ براسي فاقامني عن يمينه
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ( صف بندی کے وقت ) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے، اور فرماتے: تم آگے پیچھے نہ کھڑے ہو کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے، اور تم میں سے ہوش مند اور باشعور لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ( اس وصف میں ) ان سے قریب ہو ، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی بنا پر تم میں آج اختلافات زیادہ ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، عن ابي مسعود، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح مناكبنا في الصلاة ويقول " لا تختلفوا فتختلف قلوبكم ليليني منكم اولو الاحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم " . قال ابو مسعود فانتم اليوم اشد اختلافا . قال ابو عبد الرحمن ابو معمر اسمه عبد الله بن سخبرة
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہو گیا، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا، جب وہ ( سلام پھیر کر ) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا: اے نوجوان! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے! حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا میثاق ( عہد ) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے، اور انہوں نے تین بار کہا: رب کعبہ کی قسم! تباہ ہو گئے اہل عقد، پھر انہوں نے کہا: لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابو یعقوب! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا: امراء ( حکام ) مراد ہیں۔
اخبرنا محمد بن عمر بن علي بن مقدم، قال حدثنا يوسف بن يعقوب، قال اخبرني التيمي، عن ابي مجلز، عن قيس بن عباد، قال بينا انا في المسجد، في الصف المقدم فجبذني رجل من خلفي جبذة فنحاني وقام مقامي فوالله ما عقلت صلاتي فلما انصرف فاذا هو ابى بن كعب فقال يا فتى لا يسوك الله ان هذا عهد من النبي صلى الله عليه وسلم الينا ان نليه ثم استقبل القبلة فقال هلك اهل العقد ورب الكعبة ثلاثا ثم قال والله ما عليهم اسى ولكن اسى على من اضلوا . قلت يا ابا يعقوب ما يعني باهل العقد قال الامراء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلیں درست کر لی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا: تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو ، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، انه سمع ابا هريرة، يقول اقيمت الصلاة فقمنا فعدلت الصفوف قبل ان يخرج الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا قام في مصلاه قبل ان يكبر فانصرف فقال لنا " مكانكم " . فلم نزل قياما ننتظره حتى خرج الينا قد اغتسل ينطف راسه ماء فكبر وصلى
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کئے جاتے ہیں، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم اپنی صفیں ضرور درست کر لیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فر مادے گا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال انبانا ابو الاحوص، عن سماك، عن النعمان بن بشير، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم الصفوف كما تقوم القداح فابصر رجلا خارجا صدره من الصف فلقد رايت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لتقيمن صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ۱؎ صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے: اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں ۳؎ نیز فرماتے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن طلحة بن مصرف، عن عبد الرحمن بن عوسجة، عن البراء بن عازب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخلل الصفوف من ناحية الى ناحية يمسح مناكبنا وصدورنا ويقول " لا تختلفوا فتختلف قلوبكم " . وكان يقول " ان الله وملايكته يصلون على الصفوف المتقدمة
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرتے ۱؎ اور فرماتے: صفیں سیدھی رکھو، اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور تم میں سے جو ہوش مند اور باشعور ہوں مجھ سے قریب رہیں، پھر ( اس وصف میں ) وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔
اخبرنا بشر بن خالد العسكري، قال حدثنا غندر، عن شعبة، عن سليمان، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، عن ابي مسعود، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح عواتقنا ويقول " استووا ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم وليليني منكم اولو الاحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں ۔
اخبرنا ابو بكر بن نافع، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " استووا استووا استووا فوالذي نفسي بيده اني لاراكم من خلفي كما اراكم من بين يدى
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے، اور اللہ اکبر کہنے سے پہلے فرماتے: تم اپنی صفیں درست کر لو، اور سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہو جاؤ، ۱؎ کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔
اخبرنا علي بن حجر، انبانا اسماعيل، عن حميد، عن انس، - رضى الله عنه - قال اقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بوجهه حين قام الى الصلاة قبل ان يكبر فقال " اقيموا صفوفكم وتراصوا فاني اراكم من وراء ظهري
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی صفیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح درست کر لو، اور انہیں ایک دوسرے کے نزدیک رکھو، اور گردنیں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں شیاطین کو صف کے درمیان ۱؎ گھستے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے وہ بکری کے کالے بچے ہوں ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا ابو هشام، قال حدثنا ابان، قال حدثنا قتادة، قال حدثنا انس، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " راصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالاعناق فوالذي نفس محمد بيده اني لارى الشياطين تدخل من خلل الصف كانها الحذف
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم لوگ صف نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں ، لوگوں نے پوچھا: فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں، پھر وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الفضيل بن عياض، عن الاعمش، عن المسيب بن رافع، عن تميم بن طرفة، عن جابر بن سمرة، قال خرج الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " الا تصفون كما تصف الملايكة عند ربهم " . قالوا وكيف تصف الملايكة عند ربهم قال " يتمون الصف الاول ثم يتراصون في الصف