Loading...

Loading...
کتب
۹۹ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الجماعة تفضل على صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی کی تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الجماعة افضل من صلاة احدكم وحده خمسا وعشرين جزءا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن عمار، قال حدثني القاسم بن محمد، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الجماعة تزيد على صلاة الفذ خمسا وعشرين درجة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كانوا ثلاثة فليومهم احدهم واحقهم بالامامة اقروهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا حجاج، قال ابن جريج اخبرني زياد، ان قزعة، مولى لعبد القيس اخبره انه، سمع عكرمة، قال قال ابن عباس صليت الى جنب النبي صلى الله عليه وسلم وعايشة خلفنا تصلي معنا وانا الى جنب النبي صلى الله عليه وسلم اصلي معه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو میں آپ کے بائیں کھڑا ہوا، تو آپ نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑا، اور ( پیچھے سے لا کر ) اپنے دائیں کھڑا کر لیا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن ابن عباس، قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقمت عن يساره فاخذني بيده اليسرى فاقامني عن يمينه
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا فلاں نماز میں موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور فلاں؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں ( عشاء اور فجر ) منافقین پر سب سے بھاری ہیں، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۱؎، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد بن الحارث، عن شعبة، عن ابي اسحاق، انه اخبرهم عن عبد الله بن ابي بصير، عن ابيه، - قال شعبة وقال ابو اسحاق وقد سمعته منه، ومن ابيه - قال سمعت ابى بن كعب، يقول صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما صلاة الصبح فقال " اشهد فلان الصلاة " . قالوا لا . قال " ففلان " . قالوا لا . قال " ان هاتين الصلاتين من اثقل الصلاة على المنافقين ولو يعلمون ما فيهما لاتوهما ولو حبوا والصف الاول على مثل صف الملايكة ولو تعلمون فضيلته لابتدرتموه وصلاة الرجل مع الرجل ازكى من صلاته وحده وصلاة الرجل مع الرجلين ازكى من صلاته مع الرجل وما كانوا اكثر فهو احب الى الله عز وجل
عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے اور میرے قبیلہ کی مسجد کے درمیان ( برسات میں ) سیلاب حائل ہو جاتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیتے جسے میں مصلیٰ بنا لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ہم آئیں گے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے پوچھا: تم کہاں چاہتے ہو؟ تو میں نے گھر کے ایک گوشہ کی جانب اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ۱؎۔
اخبرنا نصر بن علي، قال انبانا عبد الاعلى، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن محمود، عن عتبان بن مالك، انه قال يا رسول الله ان السيول لتحول بيني وبين مسجد قومي فاحب ان تاتيني فتصلي في مكان من بيتي اتخذه مسجدا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سنفعل " . فلما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اين تريد " . فاشرت الى ناحية من البيت فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصففنا خلفه فصلى بنا ركعتين
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی صفوں کو درست کر لیا کرو، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۱؎۔
انبانا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، عن حميد، عن انس، قال اقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بوجهه حين قام الى الصلاة قبل ان يكبر فقال " اقيموا صفوفكم وتراصوا فاني اراكم من وراء ظهري
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ( سفر میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! کاش آپ آرام کے لیے پڑاؤ ڈالتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ تم کہیں نماز سے سو نہ جاؤ ، اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سب کی نگرانی کروں گا، چنانچہ سب لوگ لیٹے، اور سب سو گئے، بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پیٹھ اپنی سواری سے ٹیک لی، ( اور وہ بھی سو گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج نکل چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال! کہاں گئی وہ بات جو تم نے کہی تھی؟ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھ پر ایسی نیند جیسی اس بار ہوئی کبھی طاری نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے لوٹا دیتا ہے، بلال اٹھو! اور لوگوں میں نماز کا اعلان کرو ؛ چنانچہ بلال کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اذان دی، پھر لوگوں نے وضو کیا، اس وقت سورج بلند ہو چکا تھا، تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
اخبرنا هناد بن السري، قال حدثنا ابو زبيد، - واسمه عبثر بن القاسم - عن حصين، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ قال بعض القوم لو عرست بنا يا رسول الله . قال " اني اخاف ان تناموا عن الصلاة " . قال بلال انا احفظكم . فاضطجعوا فناموا واسند بلال ظهره الى راحلته فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد طلع حاجب الشمس فقال " يا بلال اين ما قلت " . قال ما القيت على نومة مثلها قط . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل قبض ارواحكم حين شاء فردها حين شاء قم يا بلال فاذن الناس بالصلاة " . فقام بلال فاذن فتوضيوا - يعني حين ارتفعت الشمس - ثم قام فصلى بهم
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص کے دُوَین نامی بستی میں، اس پر ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے ۔ سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن زايدة بن قدامة، قال حدثنا السايب بن حبيش الكلاعي، عن معدان بن ابي طلحة اليعمري، قال قال لي ابو الدرداء اين مسكنك قلت في قرية دوين حمص . فقال ابو الدرداء سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من ثلاثة في قرية ولا بدو لا تقام فيهم الصلاة الا قد استحوذ عليهم الشيطان فعليكم بالجماعة فانما ياكل الذيب القاصية " . قال السايب يعني بالجماعة الجماعة في الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، تو وہ جمع کی جائے، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے ( مسجد میں ) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده لقد هممت ان امر بحطب فيحطب ثم امر بالصلاة فيوذن لها ثم امر رجلا فيوم الناس ثم اخالف الى رجال فاحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم احدهم انه يجد عظما سمينا او مرماتين حسنتين لشهد العشاء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ وہ مسلمان ہو، تو وہ ان پانچوں نمازوں کی محافظت کرے ۱؎، جب ان کی اذان دی جائے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور یہ نمازیں ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہو گا جس کی ایک مسجد اس کے گھر میں نہ ہو جس میں وہ نماز پڑھتا ہو، اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، اور جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے ( اپنے گھر سے ) چلتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے عوض جسے وہ اٹھاتا ہے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے، یا اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، میں نے اپنے لوگوں ( صحابہ کرام ) کو دیکھا ہے جب ہم نماز کو جاتے تو قریب قریب قدم رکھتے، ( تاکہ نیکیاں زیادہ ملیں ) اور میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو منافق ہوتا، اور جس کا منافق ہونا لوگوں کو معلوم ہوتا، اور میں نے ( عہدرسالت میں ) دیکھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر ( مسجد ) لایا جاتا یہاں تک کہ لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن المسعودي، عن علي بن الاقمر، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، انه كان يقول من سره ان يلقى الله عز وجل غدا مسلما فليحافظ على هولاء الصلوات الخمس حيث ينادى بهن فان الله عز وجل شرع لنبيه صلى الله عليه وسلم سنن الهدى وانهن من سنن الهدى واني لا احسب منكم احدا الا له مسجد يصلي فيه في بيته فلو صليتم في بيوتكم وتركتم مساجدكم لتركتم سنة نبيكم ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم وما من عبد مسلم يتوضا فيحسن الوضوء ثم يمشي الى صلاة الا كتب الله عز وجل له بكل خطوة يخطوها حسنة او يرفع له بها درجة او يكفر عنه بها خطيية ولقد رايتنا نقارب بين الخطا ولقد رايتنا وما يتخلف عنها الا منافق معلوم نفاقه ولقد رايت الرجل يهادى بين الرجلين حتى يقام في الصف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎، اور اس نے عرض کیا: میرا کوئی راہبر ( گائیڈ ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ( مؤذن کی پکار پر ) لبیک کہو ۲؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا مروان بن معاوية، قال حدثنا عبيد الله بن عبد الله بن الاصم، عن عمه، يزيد بن الاصم عن ابي هريرة، قال جاء اعمى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال انه ليس لي قايد يقودني الى الصلاة فساله ان يرخص له ان يصلي في بيته فاذن له فلما ولى دعاه قال له " اتسمع النداء بالصلاة " . قال نعم . قال " فاجب
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مدینہ میں کیڑے مکوڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) اور درندے بہت ہیں، ( تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم «حى على الصلاة»، اور «حى على الفلاح» کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو آؤ ، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔
اخبرنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، قال حدثنا ابي قال، حدثنا سفيان، ح واخبرني عبد الله بن محمد بن اسحاق، قال حدثنا قاسم بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابن ام مكتوم، انه قال يا رسول الله ان المدينة كثيرة الهوام والسباع . قال " هل تسمع حى على الصلاة حى على الفلاح " . قال نعم . قال " فحى هلا " . ولم يرخص له
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان عبد الله بن ارقم، كان يوم اصحابه فحضرت الصلاة يوما فذهب لحاجته ثم رجع فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا وجد احدكم الغايط فليبدا به قبل الصلاة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز ( جماعت ) کھڑی کر دی گئی ہو، تو پہلے کھانا کھاؤ ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حضر العشاء واقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی: ( لوگو! ) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي المليح، عن ابيه، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بحنين فاصابنا مطر فنادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم ان صلوا في رحالكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، ( اور مسجد آیا ) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن ابن طحلاء، عن محصن بن علي الفهري، عن عوف بن الحارث، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من توضا فاحسن الوضوء ثم خرج عامدا الى المسجد فوجد الناس قد صلوا كتب الله له مثل اجر من حضرها ولا ينقص ذلك من اجورهم شييا
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے نماز کے لیے وضو کیا، اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ، یا مسجد میں ( تنہا ) نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں ۱؎ کو بخش دے گا ۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان الحكيم بن عبد الله القرشي، حدثه ان نافع بن جبير وعبد الله بن ابي سلمة حدثاه ان معاذ بن عبد الرحمن حدثهما عن حمران، مولى عثمان بن عفان عن عثمان بن عفان، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من توضا للصلاة فاسبغ الوضوء ثم مشى الى الصلاة المكتوبة فصلاها مع الناس او مع الجماعة او في المسجد غفر الله له ذنوبه