Loading...

Loading...
کتب
۱۴ احادیث
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عید کے لیے پیدل جانا اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی عید کے لیے پیدل جائے اور عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کچھ کھا لے، ۳- مستحب یہ ہے کہ آدمی بلا عذر سوار ہو کر نہ جائے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي بن ابي طالب، قال من السنة ان تخرج، الى العيد ماشيا وان تاكل شييا قبل ان تخرج . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل على هذا الحديث عند اكثر اهل العلم يستحبون ان يخرج الرجل الى العيد ماشيا وان ياكل شييا قبل ان يخرج لصلاة الفطر . قال ابو عيسى ويستحب ان لا يركب الا من عذر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور اس کے بعد خطبہ دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہو گی، ۴- اور کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا وہ مروان بن حکم تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله، هو ابن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر يصلون في العيدين قبل الخطبة ثم يخطبون . قال وفي الباب عن جابر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان صلاة العيدين قبل الخطبة . ويقال ان اول من خطب قبل الصلاة مروان بن الحكم
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز ایک اور دو سے زیادہ بار یعنی متعدد بار بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ عیدین کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جائے گی اور نہ نوافل میں سے کسی کے لیے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم العيدين غير مرة ولا مرتين بغير اذان ولا اقامة . قال وفي الباب عن جابر بن عبد الله وابن عباس . قال ابو عيسى وحديث جابر بن سمرة حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم انه لا يوذن لصلاة العيدين ولا لشيء من النوافل
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوواقد، سمرہ بن جندب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی طرح سفیان ثوری اور مسعر نے بھی ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۴- رہے سفیان بن عیینہ تو ان سے روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان کی ایک سند یوں ہے: «عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حبيب بن سالم عن أبيه عن النعمان بن بشير» اور ہم حبیب بن سالم کی کسی ایسی روایت کو نہیں جانتے جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہو۔ حبیب بن سالم نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے نعمان بن بشیر سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور ابن عیینہ سے ابراہیم بن محمد بن منتشر کے واسطہ سے ان لوگوں کی طرح بھی روایت کی گئی ہے ۲؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں «سورة ق» اور «اقتربت الساعة» پڑھتے تھے ۳؎ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في العيدين وفي الجمعة ب ( سبح اسم ربك الاعلى ) و (هل اتاك حديث الغاشية ) وربما اجتمعا في يوم واحد فيقرا بهما . قال وفي الباب عن ابي واقد وسمرة بن جندب وابن عباس . قال ابو عيسى حديث النعمان بن بشير حديث حسن صحيح . وهكذا روى سفيان الثوري ومسعر عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر نحو حديث ابي عوانة . واما سفيان بن عيينة فيختلف عليه في الرواية يروى عنه عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر عن ابيه عن حبيب بن سالم عن ابيه عن النعمان بن بشير . ولا نعرف لحبيب بن سالم رواية عن ابيه . وحبيب بن سالم هو مولى النعمان بن بشير وروى عن النعمان بن بشير احاديث . وقد روي عن ابن عيينة عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر نحو رواية هولاء . وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقرا في صلاة العيدين ب (اقتربت الساعة ) وبه يقول الشافعي
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ابوواقد لیثی حارث بن عوف رضی الله عنہ سے پوچھا: عید الفطر اور عیدالاضحیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ «ق والقرآن المجيد» اور «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا مالك بن انس، عن ضمرة بن سعيد المازني، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عمر بن الخطاب، سال ابا واقد الليثي ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا به في الفطر والاضحى قال كان يقرا ب(ق والقران المجيد ) (اقتربت الساعة وانشق القمر ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ضمرة بن سعيد، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى وابو واقد الليثي اسمه الحارث بن عوف
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- کثیر کے دادا کی حدیث حسن ہے اور یہ سب سے اچھی روایت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں روایت کی گئی ہے۔ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے مدینے میں اسی طرح یہ نماز پڑھی، ۵- اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۶- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عیدین کی تکبیروں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ نو تکبیریں ہیں۔ پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہے ۱؎ اور دوسری رکعت میں پہلے قرأت کرے پھر رکوع کی تکبیر کے ساتھ چار تکبیریں کہے ۲؎ کئی صحابہ کرام سے بھی اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ اہل کوفہ کا بھی قول یہی ہے اور یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔
حدثنا مسلم بن عمرو ابو عمرو الحذاء المديني، حدثنا عبد الله بن نافع الصايغ، عن كثير بن عبد الله، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم كبر في العيدين في الاولى سبعا قبل القراءة وفي الاخرة خمسا قبل القراءة . قال وفي الباب عن عايشة وابن عمر وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث جد كثير حديث حسن وهو احسن شيء روي في هذا الباب عن النبي عليه السلام واسمه عمرو بن عوف المزني . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم . وهكذا روي عن ابي هريرة انه صلى بالمدينة نحو هذه الصلاة وهو قول اهل المدينة . وبه يقول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق . وروي عن عبد الله بن مسعود انه قال في التكبير في العيدين تسع تكبيرات في الركعة الاولى خمسا قبل القراءة وفي الركعة الثانية يبدا بالقراءة ثم يكبر اربعا مع تكبيرة الركوع . وقد روي عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا وهو قول اهل الكوفة وبه يقول سفيان الثوري
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ نے نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو اور ابوسعید سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ عیدین کی نماز کے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، قال انبانا شعبة، عن عدي بن ثابت، قال سمعت سعيد بن جبير، يحدث عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر فصلى ركعتين ثم لم يصل قبلها ولا بعدها . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمر وعبد الله بن عمرو وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . وقد راى طايفة من اهل العلم الصلاة بعد صلاة العيدين وقبلها من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم . والقول الاول اصح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ عید کے دن نکلے تو انہوں نے نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد اور ذکر کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا وكيع، عن ابان بن عبد الله البجلي، عن ابي بكر بن حفص، وهو ابن عمر بن سعد بن ابي وقاص عن ابن عمر، انه خرج في يوم عيد فلم يصل قبلها ولا بعدها وذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم فعله . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں کنواری لڑکیوں، دوشیزاؤں، پردہ نشیں اور حائضہ عورتوں کو بھی لے جاتے تھے۔ البتہ حائضہ عورتیں عید گاہ سے دور رہتیں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہتیں۔ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی بہن کو چاہیئے کہ اسے اپنی چادروں میں سے کوئی چادر عاریۃً دیدے“ ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا منصور، وهو ابن زاذان عن ابن سيرين، عن ام عطية، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج الابكار والعواتق وذوات الخدور والحيض في العيدين فاما الحيض فيعتزلن المصلى ويشهدن دعوة المسلمين قالت احداهن يا رسول الله ان لم يكن لها جلباب قال " فلتعرها اختها من جلابيبها
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام عطیہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور عیدین کے لیے عورتوں کو نکلنے کی رخصت دی ہے، اور بعض نے اسے مکروہ جانا ہے، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ آج کل میں عیدین میں عورتوں کے جانے کو مکروہ سمجھتا ہوں، اگر کوئی عورت نہ مانے اور نکلنے ہی پر بضد ہو تو چاہیئے کہ اس کا شوہر اسے پرانے میلے کپڑوں میں نکلنے کی اجازت دے اور وہ زینت نہ کرے، اور اگر وہ اس طرح نکلنے پر راضی نہ ہو تو پھر شوہر کو حق ہے کہ وہ اسے نکلنے سے روک دے، ۵- عائشہ رضی الله عنہا سے نقل کیا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نئی چیزوں کو دیکھ لیتے جو اب عورتوں نے نکال رکھی ہیں تو انہیں مسجد جانے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا، ۶- سفیان ثوری سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ آج کل کے دور میں انہوں نے بھی عورتوں کا عید کے لیے نکلنا مکروہ قرار دیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، عن هشام بن حسان، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية، بنحوه . قال وفي الباب عن ابن عباس، وجابر، . قال ابو عيسى حديث ام عطية حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا الحديث ورخص للنساء في الخروج الى العيدين وكرهه بعضهم وروي عن عبد الله بن المبارك انه قال اكره اليوم الخروج للنساء في العيدين فان ابت المراة الا ان تخرج فلياذن لها زوجها ان تخرج في اطمارها الخلقان ولا تتزين فان ابت ان تخرج كذلك فللزوج ان يمنعها عن الخروج . ويروى عن عايشة رضى الله عنها قالت لو راى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما احدث النساء لمنعهن المسجد كما منعت نساء بني اسراييل . ويروى عن سفيان الثوري انه كره اليوم الخروج للنساء الى العيد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن ایک راستے سے نکلتے تو دوسرے سے واپس آتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر اور ابورافع رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں، ۳- ابوتمیلہ اور یونس بن محمد نے یہ حدیث بطریق: «فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبدالله» کی ہے، ۴- بعض اہل علم نے اس حدیث کی پیروی میں امام کے لیے مستحب قرار دیا ہے کہ جب ایک راستے سے جائے تو دوسرے سے واپس آئے۔ شافعی کا یہی قول ہے، اور جابر کی حدیث ( بمقابلہ ابوہریرہ ) گویا زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبد الاعلى بن واصل بن عبد الاعلى الكوفي، وابو زرعة قالا حدثنا محمد بن الصلت، عن فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا خرج يوم العيد في طريق رجع في غيره . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمر وابي رافع . قال ابو عيسى وحديث ابي هريرة حديث حسن غريب . وروى ابو تميلة ويونس بن محمد هذا الحديث عن فليح بن سليمان عن سعيد بن الحارث عن جابر بن عبد الله . قال وقد استحب بعض اهل العلم للامام اذا خرج في طريق ان يرجع في غيره اتباعا لهذا الحديث وهو قول الشافعي . وحديث جابر كانه اصح
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ بن حصیب اسلمی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ثواب بن عتبہ کی اس کے علاوہ کوئی حدیث مجھے نہیں معلوم، ۳- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے کہ آدمی عید الفطر کی نماز کے لیے کچھ کھائے بغیر نہ نکلے اور اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ کھجور ۱؎ کا ناشتہ کرے اور عید الاضحی کے دن نہ کھائے جب تک کہ لوٹ کر نہ آ جائے۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار البغدادي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، عن ثواب بن عتبة، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الاضحى حتى يصلي . قال وفي الباب عن علي وانس . قال ابو عيسى حديث بريدة بن حصيب الاسلمي حديث غريب . وقال محمد لا اعرف لثواب بن عتبة غير هذا الحديث . وقد استحب قوم من اهل العلم ان لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم شييا ويستحب له ان يفطر على تمر ولا يطعم يوم الاضحى حتى يرجع
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں کھا لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا هشيم، عن محمد بن اسحاق، عن حفص بن عبيد الله بن انس، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يفطر على تمرات يوم الفطر قبل ان يخرج الى المصلى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح