احادیث
#540
سنن ترمذی - The Two Eids
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام عطیہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور عیدین کے لیے عورتوں کو نکلنے کی رخصت دی ہے، اور بعض نے اسے مکروہ جانا ہے، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ آج کل میں عیدین میں عورتوں کے جانے کو مکروہ سمجھتا ہوں، اگر کوئی عورت نہ مانے اور نکلنے ہی پر بضد ہو تو چاہیئے کہ اس کا شوہر اسے پرانے میلے کپڑوں میں نکلنے کی اجازت دے اور وہ زینت نہ کرے، اور اگر وہ اس طرح نکلنے پر راضی نہ ہو تو پھر شوہر کو حق ہے کہ وہ اسے نکلنے سے روک دے، ۵- عائشہ رضی الله عنہا سے نقل کیا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نئی چیزوں کو دیکھ لیتے جو اب عورتوں نے نکال رکھی ہیں تو انہیں مسجد جانے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا، ۶- سفیان ثوری سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ آج کل کے دور میں انہوں نے بھی عورتوں کا عید کے لیے نکلنا مکروہ قرار دیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، عن هشام بن حسان، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية، بنحوه . قال وفي الباب عن ابن عباس، وجابر، . قال ابو عيسى حديث ام عطية حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا الحديث ورخص للنساء في الخروج الى العيدين وكرهه بعضهم وروي عن عبد الله بن المبارك انه قال اكره اليوم الخروج للنساء في العيدين فان ابت المراة الا ان تخرج فلياذن لها زوجها ان تخرج في اطمارها الخلقان ولا تتزين فان ابت ان تخرج كذلك فللزوج ان يمنعها عن الخروج . ويروى عن عايشة رضى الله عنها قالت لو راى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما احدث النساء لمنعهن المسجد كما منعت نساء بني اسراييل . ويروى عن سفيان الثوري انه كره اليوم الخروج للنساء الى العيد
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- The Two Eids
- Hadith Index
- #540
- Book Index
- 11
Grades
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
