Loading...

Loading...
کتب
۴۲ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا، جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابولبابہ، سلمان، ابوذر، سعد بن عبادہ اور اوس بن اوس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق ادم وفيه ادخل الجنة وفيه اخرج منها ولا تقوم الساعة الا في يوم الجمعة " . قال وفي الباب عن ابي لبابة وسلمان وابي ذر وسعد بن عبادة واوس بن اوس . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے روز اس گھڑی کو جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے عصر سے لے کر سورج ڈوبنے تک کے درمیان تلاش کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس رضی الله عنہ سے بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- محمد بن ابی حمید ضعیف گردانے جاتے ہیں، بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان کی تضعیف کی ہے، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، نیز کہا جاتا ہے کہ یہی ابوابراہیم انصاری ہیں اور یہ منکرالحدیث ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ گھڑی جس میں قبولیت دعا کی امید کی جاتی ہے عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ احمد کہتے ہیں: اس گھڑی کے سلسلے میں جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے زیادہ تر حدیثیں یہی آئی ہیں کہ یہ عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، نیز سورج ڈھلنے کے بعد بھی اس کے ہونے کی امید کی جاتی ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن الصباح الهاشمي البصري العطار، حدثنا عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، حدثنا محمد بن ابي حميد، حدثنا موسى بن وردان، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " التمسوا الساعة التي ترجى في يوم الجمعة بعد العصر الى غيبوبة الشمس " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير هذا الوجه . ومحمد بن ابي حميد يضعف ضعفه بعض اهل العلم من قبل حفظه ويقال له حماد بن ابي حميد ويقال هو ابو ابراهيم الانصاري وهو منكر الحديث . وراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الساعة التي ترجى فيها بعد العصر الى ان تغرب الشمس . وبه يقول احمد واسحاق . وقال احمد اكثر الاحاديث في الساعة التي ترجى فيها اجابة الدعوة انها بعد صلاة العصر وترجى بعد زوال الشمس
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس میں مانگتا ہے اللہ اسے عطا کرتا ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی گھڑی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز ( جمعہ ) کھڑی ہونے کے وقت سے لے کر اس سے پلٹنے یعنی نماز ختم ہونے تک ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمرو بن عوف کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ، ابوذر، سلمان، عبداللہ بن سلام، ابولبابہ، سعد بن عبادہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا زياد بن ايوب البغدادي، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجمعة ساعة لا يسال الله العبد فيها شييا الا اتاه الله اياه " . قالوا يا رسول الله اية ساعة هي قال " حين تقام الصلاة الى الانصراف منها " . قال وفي الباب عن ابي موسى وابي ذر وسلمان وعبد الله بن سلام وابي لبابة وسعد بن عبادة وابي امامة . قال ابو عيسى حديث عمرو بن عوف حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کیے گئے، اسی دن وہ جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن وہ جنت سے ( زمین پر اتارے گئے ) اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جسے مسلم بندہ نماز کی حالت میں پائے اور اللہ سے اس میں کچھ طلب کرے تو اللہ اسے ضرور عطا فرمائے گا، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں یہ گھڑی اچھی طرح جانتا ہوں، میں نے کہا: مجھے بھی اس کے بارے میں بتائیے اور اس سلسلہ میں مجھ سے بخل نہ کیجئے، انہوں نے کہا: یہ عصر کے بعد سے لے کر سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، اس پر میں نے کہا: یہ عصر کے بعد کیسے ہو سکتی ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسے مسلمان بندہ حالت نماز میں پائے اور یہ وقت ایسا ہے جس میں نماز نہیں پڑھی جاتی؟ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں کسی جگہ بیٹھا رہے تو وہ بھی نماز ہی میں ہوتا ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور فرمایا ہے تو انہوں نے کہا: تو یہی مراد ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- اور آپ کے اس قول «أخبرني بها ولا تضنن بها علي» کے معنی ہیں اسے مجھے بتانے میں بخل نہ کیجئے، «ضنّ» کے معنی بخل کے ہیں اور «ظنين» کے معنی، متہم کے ہیں۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق ادم وفيه ادخل الجنة وفيه اهبط منها وفيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم يصلي فيسال الله فيها شييا الا اعطاه اياه " . قال ابو هريرة فلقيت عبد الله بن سلام فذكرت له هذا الحديث فقال انا اعلم بتلك الساعة . فقلت اخبرني بها ولا تضنن بها على قال هي بعد العصر الى ان تغرب الشمس . فقلت كيف تكون بعد العصر وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يوافقها عبد مسلم وهو يصلي " . وتلك الساعة لا يصلى فيها فقال عبد الله بن سلام اليس قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جلس مجلسا ينتظر الصلاة فهو في صلاة " . قلت بلى . قال فهو ذاك . قال ابو عيسى وفي الحديث قصة طويلة . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . قال ومعنى قوله " اخبرني بها ولا تضنن بها على " . لا تبخل بها على والضن البخل والظنين المتهم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو جمعہ کی نماز کے لیے آئے اسے چاہیئے کہ ( پہلے ) غسل کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس بات میں عمر، ابو سعید خدری، جابر، براء، عائشہ اور ابو الدرداء سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من اتى الجمعة فليغتسل " . قال وفي الباب عن عمر وابي سعيد وجابر والبراء وعايشة وابي الدرداء . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح
نیز ابن شہاب زہری سے یہ حدیث بطریق: «الزهري عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی مروی ہے، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہری کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «سالم عن أبيه عبدالله بن عمر» روایت کی ہے اور جو حدیث انہوں نے بطریق: «عبدالله بن عبدالله بن عمر عن أبيه عبدالله بن عمر» روایت کی ہے دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اور زہری کے بعض تلامذہ نے اسے بطریق: «الزهري عن آل عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر» روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جمعہ کے دن کے غسل کے سلسلہ میں بطریق: «ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً مروی ہے، ( جو آگے آ رہی ہے ) اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وروي عن الزهري، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث ايضا . حدثنا بذلك قتيبة حدثنا الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن ابيه ان النبي صلى الله عليه وسلم مثله . وقال محمد وحديث الزهري عن سالم عن ابيه وحديث عبد الله بن عبد الله عن ابيه كلا الحديثين صحيح . وقال بعض اصحاب الزهري عن الزهري قال حدثني ال عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران صحابہ میں سے ایک شخص ۱؎ ( مسجد میں ) داخل ہوئے، تو عمر رضی الله عنہ نے پوچھا: یہ کون سا وقت ( آنے کا ) ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے صرف اتنی دیر کی کہ اذان سنی اور بس وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی الله عنہ نے کہا: تم نے صرف ( وضو ہی پر اکتفا کیا ) حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا حکم دیا ہے؟
قال ابو عيسى وقد روي عن ابن عمر، عن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الغسل يوم الجمعة ايضا وهو حديث حسن صحيح رواه يونس ومعمر عن الزهري عن سالم عن ابيه بينما عمر بن الخطاب يخطب يوم الجمعة اذ دخل رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال اية ساعة هذه فقال ما هو الا ان سمعت النداء وما زدت على ان توضات . قال والوضوء ايضا وقد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بالغسل . حدثنا بذلك ابو بكر محمد بن ابان حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے۔ اور مالک نے بھی یہ حدیث بطریق: «عن الزہری عن سالم» روایت کی ہے، وہ سالم بن عمر کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے اس سلسلے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے بطریق: «سالم عن أبیہ» روایت کی ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مالک سے بھی اسی حدیث کی طرح مروی ہے، انہوں نے بطریق: «الزهري عن سالم عن أبيه» بھی روایت کی ہے۔
قال وحدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا ابو صالح عبد الله بن صالح، حدثنا الليث، عن يونس، عن الزهري، بهذا الحديث . وروى مالك، هذا الحديث عن الزهري، عن سالم، قال بينما عمر بن الخطاب يخطب يوم الجمعة . فذكر هذا الحديث . قال ابو عيسى وسالت محمدا عن هذا فقال الصحيح حديث الزهري عن سالم عن ابيه . قال محمد وقد روي عن مالك ايضا عن الزهري عن سالم عن ابيه نحو هذا الحديث
اوس بن اوس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور غسل کرایا، اور سویرے پہنچا، شروع سے خطبہ میں شریک رہا، امام کے قریب بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اسے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور رات کے قیام کا ثواب ملے گا“۔ وکیع کہتے ہیں: اس کا معنی ہے کہ اس نے خود غسل کیا اور اپنی عورت کو بھی غسل کرایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اوس بن اوس کی حدیث حسن ہے، ۲- عبداللہ بن مبارک نے اس حدیث کے سلسلہ میں کہا ہے کہ «من غسل واغتسل» کے معنی ہیں: جس نے اپنا سر دھویا اور غسل کیا، ۳- اس باب میں ابوبکر، عمران بن حصین، سلمان، ابوذر، ابوسعید، ابن عمر، اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، وابو جناب يحيى بن ابي حية عن عبد الله بن عيسى، عن يحيى بن الحارث، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن اوس بن اوس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اغتسل يوم الجمعة وغسل وبكر وابتكر ودنا واستمع وانصت كان له بكل خطوة يخطوها اجر سنة صيامها وقيامها " . قال محمود قال وكيع اغتسل هو وغسل امراته . قال ويروى عن عبد الله بن المبارك انه قال في هذا الحديث " من غسل واغتسل " . يعني غسل راسه واغتسل . قال وفي الباب عن ابي بكر وعمران بن حصين وسلمان وابي ذر وابي سعيد وابن عمر وابي ايوب . قال ابو عيسى حديث اوس بن اوس حديث حسن . وابو الاشعث الصنعاني اسمه شراحيل بن ادة . وابو جناب يحيى بن حبيب القصاب الكوفي
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو اختیار کیا اور خوب ہے یہ رخصت، اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- قتادہ کے بعض تلامذہ نے تو یہ حدیث قتادہ سے اور قتادہ نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ بن جندب سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہے۔ اور بعض نے قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کو پسند کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ غسل کے بدلے وضو بھی کافی ہو جائے گا، ۵- شافعی کہتے ہیں: جمعہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے حکم کے وجوبی ہونے کے بجائے اختیاری ہونے پر جو چیزیں دلالت کرتی ہیں ان میں سے عمر رضی الله عنہ کی حدیث بھی ہے جس میں انہوں نے عثمان رضی الله عنہ سے کہا ہے کہ تم نے صرف وضو پر اکتفا کیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا ہے، اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ یہ حکم واجبی ہے، اختیاری نہیں تو عمر رضی الله عنہ عثمان رضی الله عنہ کو لوٹائے بغیر نہ چھوڑتے اور ان سے کہتے: جاؤ غسل کرو، اور نہ ہی عثمان رضی الله عنہ سے اس بات کے جاننے کے باوجود کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے وجوب کی حقیقت مخفی رہتی، بلکہ اس حدیث میں صاف دلالت ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے نہ کہ واجب۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا سعيد بن سفيان الجحدري، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل افضل " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة وانس . قال ابو عيسى حديث سمرة حديث حسن . وقد رواه بعض اصحاب قتادة عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب ورواه بعضهم عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم اختاروا الغسل يوم الجمعة وراوا ان يجزي الوضوء من الغسل يوم الجمعة . قال الشافعي ومما يدل على ان امر النبي صلى الله عليه وسلم بالغسل يوم الجمعة انه على الاختيار لا على الوجوب حديث عمر حيث قال لعثمان والوضوء ايضا وقد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بالغسل يوم الجمعة . فلو علما ان امره على الوجوب لا على الاختيار لم يترك عمر عثمان حتى يرده ويقول له ارجع فاغتسل ولما خفي على عثمان ذلك مع علمه ولكن دل في هذا الحديث ان الغسل يوم الجمعة فيه فضل من غير وجوب يجب على المرء في ذلك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا ۱؎ پھر جمعہ کے لیے آیا ۲؎، امام کے قریب بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے ۳؎ کے گناہ ۴؎ بخش دیئے جائیں گے۔ اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا فاحسن الوضوء ثم اتى الجمعة فدنا واستمع وانصت غفر له ما بينه وبين الجمعة وزيادة ثلاثة ايام ومن مس الحصى فقد لغا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے روز جنابت کے غسل کی طرح ( یعنی خوب اہتمام سے ) غسل کیا پھر نماز جمعہ کے لیے ( پہلی گھڑی میں ) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، اور جو اس کے بعد والی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک گائے قربان کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک سینگوں والا مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک مرغی کا صدقہ کر کے اللہ کا تقرب حاصل کیا، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر جب امام خطبہ کے لیے گھر سے نکل آیا تو فرشتے ذکر سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح فكانما قرب بدنة ومن راح في الساعة الثانية فكانما قرب بقرة ومن راح في الساعة الثالثة فكانما قرب كبشا اقرن ومن راح في الساعة الرابعة فكانما قرب دجاجة ومن راح في الساعة الخامسة فكانما قرب بيضة فاذا خرج الامام حضرت الملايكة يستمعون الذكر " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وسمرة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
ابوالجعد ضمری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جمعہ تین بار سستی ۱؎ سے حقیر جان کر چھوڑ دے گا تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوالجعد کی حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ابوالجعد ضمری کا نام پوچھا تو وہ نہیں جان سکے، ۳- اس حدیث کے علاوہ میں ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، ۴- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن محمد بن عمرو، عن عبيدة بن سفيان، عن ابي الجعد يعني الضمري، وكانت، له صحبة فيما زعم محمد بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك الجمعة ثلاث مرات تهاونا بها طبع الله على قلبه " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن عباس وسمرة . قال ابو عيسى حديث ابي الجعد حديث حسن . قال وسالت محمدا عن اسم ابي الجعد الضمري فلم يعرف اسمه وقال لا اعرف له عن النبي صلى الله عليه وسلم الا هذا الحديث . قال ابو عيسى ولا نعرف هذا الحديث الا من حديث محمد بن عمرو
اہل قباء میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتا ہے – اس کے والد صحابہ میں سے ہیں – وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قباء سے آ کر جمعہ میں شریک ہوں۔ اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ اس پر فرض ہے جو رات کو اپنے گھر والوں تک پہنچ سکے“، اس حدیث کی سند ضعیف ہے، یہ حدیث معارک بن عباد سے روایت کی جاتی ہے اور معارک عبداللہ بن سعید مقبری سے روایت کرتے ہیں، یحییٰ بن سعید قطان نے عبداللہ بن سعید مقبری کی حدیث کی تضعیف کی ہے، ۳- اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ جمعہ کس پر واجب ہے، بعض کہتے ہیں: جمعہ اس شخص پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر پہنچ سکے اور بعض کہتے ہیں: جمعہ صرف اسی پر واجب جس نے اذان سنی ہو، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، ومحمد بن مدويه، قالا حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا اسراييل، عن ثوير، عن رجل، من اهل قباء عن ابيه، وكان، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم - قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم ان نشهد الجمعة من قباء . وقد روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا ولا يصح . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من هذا الوجه ولا يصح في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه وسلم شيء . وقد روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " الجمعة على من اواه الليل الى اهله " . وهذا حديث اسناده ضعيف انما يروى من حديث معارك بن عباد عن عبد الله بن سعيد المقبري . وضعف يحيى بن سعيد القطان عبد الله بن سعيد المقبري في الحديث . قال واختلف اهل العلم على من تجب الجمعة فقال بعضهم تجب الجمعة على من اواه الليل الى منزله . وقال بعضهم لا تجب الجمعة الا على من سمع النداء وهو قول الشافعي واحمد واسحاق
میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا کہ ہم لوگ احمد بن حنبل کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ جمعہ کس پر واجب ہے؟ تو امام احمد نے اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز ذکر نہیں کی، احمد بن حسن کہتے ہیں: تو میں نے احمد بن حنبل سے کہا: اس سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، تو امام احمد نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ) ، پھر احمد بن حسن نے «حجاج بن نصير حدثنا معارك بن عباد عن عبد الله بن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جمعہ اس پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آ سکے“، احمد بن حسن کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل مجھ پر غصہ ہوئے اور مجھ سے کہا: اپنے رب سے استغفار کرو، اپنے رب سے استغفار کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: احمد بن حنبل نے ایسا اس لیے کیا کہ انہوں نے اس حدیث کو کوئی حیثیت نہیں دی اور اسے کسی شمار میں نہیں رکھا، سند کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا۔
سمعت احمد بن الحسن، يقول كنا عند احمد بن حنبل فذكروا على من تجب الجمعة فلم يذكر احمد فيه عن النبي صلى الله عليه وسلم شييا . قال احمد بن الحسن فقلت لاحمد بن حنبل فيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . فقال احمد عن النبي صلى الله عليه وسلم قلت نعم . قال احمد بن الحسن حدثنا حجاج بن نصير حدثنا معارك بن عباد عن عبد الله بن سعيد المقبري عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الجمعة على من اواه الليل الى اهله " . قال فغضب على احمد بن حنبل وقال لي استغفر ربك استغفر ربك . قال ابو عيسى انما فعل احمد بن حنبل هذا لانه لم يعد هذا الحديث شييا وضعفه لحال اسناده
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا فليح بن سليمان، عن عثمان بن عبد الرحمن التيمي، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الجمعة حين تميل الشمس
اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع، جابر اور زبیر بن عوام رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اکثر اہل علم کا اجماع ہے کہ جمعہ کا وقت ظہر کے وقت کی طرح اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج ڈھل جائے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض کی رائے ہے کہ جمعہ کی نماز جب زوال سے پہلے پڑھ لی جائے تو جائز ہے۔ احمد کہتے ہیں: جس نے جمعہ کی نماز زوال سے پہلے پڑھ لی تو اس پر دہرانا ضروری نہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا فليح بن سليمان، عن عثمان بن عبد الرحمن التيمي، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال وفي الباب عن سلمة بن الاكوع وجابر والزبير بن العوام . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . وهو الذي اجمع عليه اكثر اهل العلم ان وقت الجمعة اذا زالت الشمس كوقت الظهر . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وراى بعضهم ان صلاة الجمعة اذا صليت قبل الزوال انها تجوز ايضا . وقال احمد ومن صلاها قبل الزوال فانه لم ير عليه اعادة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے پر ( کھڑے ہو کر ) خطبہ دیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنا لیا تو وہ تنا رو پڑا یہاں تک کہ آپ اس کے پاس آئے اور اسے چمٹا لیا تو وہ چپ ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، جابر، سہل بن سعد، ابی بن کعب، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي الفلاس الصيرفي حدثنا عثمان بن عمر، ويحيى بن كثير ابو غسان العنبري، قالا حدثنا معاذ بن العلاء، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يخطب الى جذع فلما اتخذ النبي صلى الله عليه وسلم المنبر حن الجذع حتى اتاه فالتزمه فسكن " . قال وفي الباب عن انس وجابر وسهل بن سعد وابى بن كعب وابن عباس وام سلمة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن غريب صحيح . ومعاذ بن العلاء هو بصري وهو اخو ابي عمرو بن العلاء
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دیتے پھر ( بیچ میں ) بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، راوی کہتے ہیں: جیسے آج کل تم لوگ کرتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی اہل علم کی رائے ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرے۔
حدثنا حميد بن مسعدة البصري، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يخطب يوم الجمعة ثم يجلس ثم يقوم فيخطب قال مثل ما تفعلون اليوم . قال وفي الباب عن ابن عباس وجابر بن عبد الله وجابر بن سمرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وهو الذي راه اهل العلم ان يفصل بين الخطبتين بجلوس
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا تو آپ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانا ہوتا تھا۔ ( یعنی زیادہ لمبا نہیں ہوتا تھا ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمار بن یاسر اور ابن ابی اوفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، وهناد، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كنت اصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم فكانت صلاته قصدا وخطبته قصدا . قال وفي الباب عن عمار بن ياسر وابن ابي اوفى . قال ابو عيسى حديث جابر بن سمرة حديث حسن صحيح