احادیث
#497
سنن ترمذی - The Day of Friday
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو اختیار کیا اور خوب ہے یہ رخصت، اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- قتادہ کے بعض تلامذہ نے تو یہ حدیث قتادہ سے اور قتادہ نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ بن جندب سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہے۔ اور بعض نے قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کو پسند کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ غسل کے بدلے وضو بھی کافی ہو جائے گا، ۵- شافعی کہتے ہیں: جمعہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے حکم کے وجوبی ہونے کے بجائے اختیاری ہونے پر جو چیزیں دلالت کرتی ہیں ان میں سے عمر رضی الله عنہ کی حدیث بھی ہے جس میں انہوں نے عثمان رضی الله عنہ سے کہا ہے کہ تم نے صرف وضو پر اکتفا کیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا ہے، اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ یہ حکم واجبی ہے، اختیاری نہیں تو عمر رضی الله عنہ عثمان رضی الله عنہ کو لوٹائے بغیر نہ چھوڑتے اور ان سے کہتے: جاؤ غسل کرو، اور نہ ہی عثمان رضی الله عنہ سے اس بات کے جاننے کے باوجود کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے وجوب کی حقیقت مخفی رہتی، بلکہ اس حدیث میں صاف دلالت ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے نہ کہ واجب۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا سعيد بن سفيان الجحدري، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل افضل " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة وانس . قال ابو عيسى حديث سمرة حديث حسن . وقد رواه بعض اصحاب قتادة عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب ورواه بعضهم عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم اختاروا الغسل يوم الجمعة وراوا ان يجزي الوضوء من الغسل يوم الجمعة . قال الشافعي ومما يدل على ان امر النبي صلى الله عليه وسلم بالغسل يوم الجمعة انه على الاختيار لا على الوجوب حديث عمر حيث قال لعثمان والوضوء ايضا وقد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بالغسل يوم الجمعة . فلو علما ان امره على الوجوب لا على الاختيار لم يترك عمر عثمان حتى يرده ويقول له ارجع فاغتسل ولما خفي على عثمان ذلك مع علمه ولكن دل في هذا الحديث ان الغسل يوم الجمعة فيه فضل من غير وجوب يجب على المرء في ذلك
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- The Day of Friday
- Hadith Index
- #497
- Book Index
- 10
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
