Loading...

Loading...
کتب
۲۱۳ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن جنت میں لڑکے کی خواہش کرے گا تو حمل ٹھہرنا، ولادت ہونا اور اس کی عمر بڑھنا یہ سب کچھ اس کی خواہش کے مطابق ایک ساعت میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: جنت میں جماع تو ہو گا مگر بچہ نہیں پیدا ہو گا۔ طاؤس، مجاہد اور ابراہیم نخعی سے اسی طرح مروی ہے، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں: جب جنت میں مومن بچے کی خواہش کرے گا تو یہ ایک ساعت میں ہو جائے گا، جیسے ہی وہ خواہش کرے گا لیکن وہ ایسی خواہش نہیں کرے گا، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابورزین عقیلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی کے لیے جنت میں کوئی بچہ نہیں ہو گا، ۵- ابوصدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے، انہیں بکر بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثنا ابي، عن عامر الاحول، عن ابي الصديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن اذا اشتهى الولد في الجنة كان حمله ووضعه وسنه في ساعة كما يشتهي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد اختلف اهل العلم في هذا فقال بعضهم في الجنة جماع ولا يكون ولد . هكذا روي عن طاوس ومجاهد وابراهيم النخعي . وقال محمد قال اسحاق بن ابراهيم في حديث النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اشتهى المومن الولد في الجنة كان في ساعة واحدة كما يشتهي " . ولكن لا يشتهي . قال محمد وقد روي عن ابي رزين العقيلي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اهل الجنة لا يكون لهم فيها ولد " . وابو الصديق الناجي اسمه بكر بن عمرو ويقال بكر بن قيس ايضا
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں حورعین کے لیے ایک محفل ہو گی اس میں وہ اپنا نغمہ ایسا بلند کرے گا کہ مخلوق نے کبھی اس جیسی آواز نہیں سنی ہو گی“، آپ نے فرمایا: ”وہ کہیں گی: ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی فنا نہیں ہوں گی، ہم ناز و نعمت والی ہیں کبھی محتاج نہیں ہوں گی، ہم خوش رہنے والی ہیں کبھی ناراض نہیں ہوں گی، اس کے لیے خوشخبری اور مبارک ہو اس کے لیے جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، واحمد بن منيع، قالا حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا عبد الرحمن بن اسحاق، عن النعمان بن سعد، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان في الجنة لمجتمعا للحور العين يرفعن باصوات لم يسمع الخلايق مثلها قال يقلن نحن الخالدات فلا نبيد ونحن الناعمات فلا نباس ونحن الراضيات فلا نسخط طوبى لمن كان لنا وكنا له " . وفي الباب عن ابي هريرة وابي سعيد وانس . قال ابو عيسى حديث علي حديث غريب
یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ: «فهم في روضة يحبرون» ”وہ جنت میں خوش کر دیئے جائیں گے“ کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد سماع ہے اور سماع کا مفہوم وہی ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حورعین اپنے نغمے کی آواز بلند کریں گی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا روح بن عبادة، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، في قوله عز وجل: (فهم في روضة يحبرون ) قال السماع . ومعنى السماع مثل ما ورد في الحديث ان الحور العين يرفعن باصواتهن
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے“، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي اليقظان، عن زاذان، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة على كثبان المسك - اراه قال يوم القيامة يغبطهم الاولون والاخرون رجل ينادي بالصلوات الخمس في كل يوم وليلة ورجل يوم قوما وهم به راضون وعبد ادى حق الله وحق مواليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث سفيان الثوري . وابو اليقظان اسمه عثمان بن عمير ويقال ابن قيس
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے: ایک وہ آدمی جو رات میں اٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے، دوسرا وہ آدمی جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے چھپائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور ہار جانے کے بعد پھر بھی دشمنوں کا مقابلہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ صحیح وہ روایت ہے جسے شعبہ وغیرہ نے «عن منصور عن ربعي بن حراش عن زيد بن ظبيان عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ابوبکر بن عیاش بہت غلطیاں کرتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابي بكر بن عياش، عن الاعمش، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن عبد الله بن مسعود، يرفعه قال " ثلاثة يحبهم الله رجل قام من الليل يتلو كتاب الله ورجل تصدق صدقة بيمينه يخفيها اراه قال من شماله ورجل كان في سرية فانهزم اصحابه فاستقبل العدو " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه وهو غير محفوظ . والصحيح ما روى شعبة وغيره عن منصور عن ربعي بن حراش عن زيد بن ظبيان عن ابي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم . وابو بكر بن عياش كثير الغلط
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت، جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس جائے اور ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے وہ اپنے اور اس قوم کے درمیان پائے جانے والے کسی رشتے کا واسطہ دے کر نہ مانگے اور وہ لوگ اسے کچھ نہ دیں، پھر ان میں سے ایک آدمی پیچھے پھرے اور اسے چپکے سے لا کر کچھ دے، اس کے عطیہ کو اللہ تعالیٰ اور جس کو دیا ہے اس کے سوا کوئی نہ جانے۔ دوسرے وہ لوگ جو رات کو چلیں یہاں تک کہ جب ان کو نیند ان چیزوں سے پیاری ہو جائے جو نیند کے برابر ہیں تو سواری سے اتریں اور سر رکھ کر سو جائیں اور ان میں کا ایک آدمی کھڑا ہو کر میری خوشامد کرنے اور میری آیتوں کی تلاوت کرنے لگے، تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو تو اس کے ساتھی ہار جائیں پھر بھی وہ سینہ سپر ہو کر آگے بڑھے یہاں تک کہ مارا جائے یا فتح حاصل ہو جائے۔ جن تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ یہ ہیں: وہ بوڑھا جو زنا کار ہو، وہ فقیر جو تکبر کرنے والا ہو اور مالدار جو دوسروں پر ظلم ڈھائے“۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن منصور بن المعتمر، قال سمعت ربعي بن حراش، يحدث عن زيد بن ظبيان، يرفعه الى ابي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة يحبهم الله وثلاثة يبغضهم الله فاما الذين يحبهم الله فرجل اتى قوما فسالهم بالله ولم يسالهم بقرابة بينه وبينهم فمنعوه فتخلف رجل باعقابهم فاعطاه سرا لا يعلم بعطيته الا الله والذي اعطاه وقوم ساروا ليلتهم حتى اذا كان النوم احب اليهم مما يعدل به نزلوا فوضعوا رءوسهم فقام احدهم يتملقني ويتلو اياتي ورجل كان في سرية فلقي العدو فهزموا واقبل بصدره حتى يقتل او يفتح له . والثلاثة الذين يبغضهم الله الشيخ الزاني والفقير المختال والغني الظلوم " . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا النضر بن شميل، عن شعبة، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وهكذا روى شيبان، عن منصور، نحو هذا وهذا اصح من حديث ابي بكر بن عياش
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا ( اس وقت ) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا عقبة بن خالد، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن جده، حفص بن عاصم عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك الفرات يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا ياخذ منه شييا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سونے کا پہاڑ اگلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا عقبة بن خالد، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله الا انه قال " يحسر عن جبل من ذهب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں پانی کا سمندر ہے، شہد کا سمندر ہے، دودھ کا سمندر ہے اور شراب کا سمندر ہے، پھر اس کے بعد چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا الجريري، عن حكيم بن معاوية، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة بحر الماء وبحر العسل وبحر اللبن وبحر الخمر ثم تشقق الانهار بعد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وحكيم بن معاوية هو والد بهز بن حكيم والجريري يكنى ابا مسعود واسمه سعيد بن اياس
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے، ۲- یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالك» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن بريد بن ابي مريم، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال الله الجنة ثلاث مرات قالت الجنة اللهم ادخله الجنة . ومن استجار من النار ثلاث مرات قالت النار اللهم اجره من النار " . قال هكذا روى يونس بن ابي اسحاق عن ابي اسحاق هذا الحديث عن بريد بن ابي مريم عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وقد روي عن ابي اسحاق عن بريد بن ابي مريم عن انس بن مالك موقوفا ايضا