Loading...

Loading...
کتب
۲۱۳ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے ( پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو گا“ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " ان في الجنة لشجرة يسير الراكب في ظلها ماية عام" . وفي الباب عن انس وابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے پھر بھی ان کا سایہ ختم نہ ہو گا“، نیز آپ نے فرمایا: ”یہی «ظل الممدود» ہے ( یعنی جس کا ذکر قرآن میں ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عباس الدوري، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن فراس، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " في الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها ماية عام لا يقطعها وقال ذلك الظل الممدود " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابي سعيد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں ہے جس کا تنا سونے کا نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا زياد بن الحسن بن الفرات القزاز، عن ابيه، عن جده، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما في الجنة شجرة الا وساقها من ذهب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابي سعيد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آخر کیا وجہ ہے کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری رہتی ہے اور ہم دنیا سے بیزار ہوتے ہیں اور آخرت والوں میں سے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم آپ سے جدا ہو کر اپنے بال بچوں میں چلے جاتے ہیں اور ان میں گھل مل جاتے ہیں تو ہم اپنے دلوں کو بدلا ہوا پاتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسی حالت و کیفیت میں رہو جس حالت و کیفیت میں میرے پاس سے نکلتے ہو تو تم سے فرشتے تمہارے گھروں میں ملاقات کریں، اور اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق کو پیدا کرے گا جو گناہ کریں گے ۱؎، پھر اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرمائے گا“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا؟ آپ نے فرمایا: ”پانی سے“، ہم نے عرض کیا: جنت کس چیز سے بنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک سونے کی اور اس کا گارا مشک اذفر کا ہے اور اس کے کنکر موتی اور یاقوت کے ہیں، اور زعفران اس کی مٹی ہے، جو اس میں داخل ہو گا وہ عیش و آرام کرے گا، کبھی تکلیف نہیں پائے گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی، ان کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے اور ان کی جوانی کبھی فنا نہیں ہو گی“، پھر آپ نے فرمایا: ”تین لوگوں کی دعائیں رد نہیں کی جاتیں: پہلا امام عادل ہے، دوسرا روزہ دار جب وہ افطار کرے، اور تیسرا مظلوم جب کہ وہ بد دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ( اس کی بد دعا کو ) بادل کے اوپر اٹھا لیتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: قسم ہے میری عزت کی میں ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر ہی سہی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے اور نہ ہی میرے نزدیک یہ متصل ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے ابومدلہ کے واسطہ سے بھی آئی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا محمد بن فضيل، عن حمزة الزيات، عن زياد الطايي، عن ابي هريرة، قال قلنا يا رسول الله ما لنا اذا كنا عندك رقت قلوبنا وزهدنا في الدنيا وكنا من اهل الاخرة فاذا خرجنا من عندك فانسنا اهالينا وشممنا اولادنا انكرنا انفسنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو انكم تكونون اذا خرجتم من عندي كنتم على حالكم ذلك لزارتكم الملايكة في بيوتكم ولو لم تذنبوا لجاء الله بخلق جديد كى يذنبوا فيغفر لهم " . قال قلت يا رسول الله مم خلق الخلق قال " من الماء " . قلنا الجنة ما بناوها قال " لبنة من فضة ولبنة من ذهب وملاطها المسك الاذفر وحصباوها اللولو والياقوت وتربتها الزعفران من يدخلها ينعم ولا يباس ويخلد ولا يموت لا تبلى ثيابهم ولا يفنى شبابهم " . ثم قال " ثلاثة لا ترد دعوتهم الامام العادل والصايم حين يفطر ودعوة المظلوم يرفعها فوق الغمام وتفتح لها ابواب السماء ويقول الرب عز وجل وعزتي لانصرنك ولو بعد حين " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بذاك القوي وليس هو عندي بمتصل وقد روي هذا الحديث باسناد اخر عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
حدثنا علي بن حجر، حدثنا علي بن مسهر، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن النعمان بن سعد، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان في الجنة لغرفا يرى ظهورها من بطونها وبطونها من ظهورها " . فقام اليه اعرابي فقال لمن هي يا رسول الله قال " هي لمن اطاب الكلام واطعم الطعام وادام الصيام وصلى لله بالليل والناس نيام " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد تكلم بعض اهل العلم في عبد الرحمن بن اسحاق هذا من قبل حفظه وهو كوفي وعبد الرحمن بن اسحاق القرشي مدني وهو اثبت من هذا
ابوموسیٰ اشعری عبداللہ بن قیس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں دو ایسے باغ ہیں کہ جن کے برتن اور اس کی تمام چیزیں چاندی کی ہیں اور دو ایسے باغ ہیں جس کے برتن اور جس کی تمام چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف وہ کبریائی چادر حائل ہو گی جو اس کے چہرے پر ہے“ ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد ابو عبد الصمد العمي، عن ابي عمران الجوني، عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة جنتين انيتهما وما فيهما من فضة وجنتين انيتهما وما فيهما من ذهب وما بين القوم وبين ان ينظروا الى ربهم الا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة لخيمة من درة مجوفة عرضها ستون ميلا في كل زاوية منها اهل ما يرون الاخرين يطوف عليهم المومن " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وابو عمران الجوني اسمه عبد الملك بن حبيب وابو بكر بن ابي موسى قال احمد بن حنبل لا يعرف اسمه . وابو موسى الاشعري اسمه عبد الله بن قيس وابو مالك الاشعري اسمه سعد بن طارق بن اشيم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، ہر ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شريك، عن محمد بن جحادة، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في الجنة ماية درجة ما بين كل درجتين ماية عام " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے، نمازیں پڑھیں اور حج کیا ( – عطاء بن یسار کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ معاذ نے زکاۃ کا ذکر کیا یا نہیں – ) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ اس کو بخش دے اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اپنی پیدائشی سر زمین میں ٹھہرا رہے“۔ معاذ نے کہا: کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو چھوڑ دو، وہ عمل کرتے رہیں، اس لیے کہ جنت میں سو درجے ہیں اور ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان کا، فردوس جنت کا اعلیٰ اور سب سے اچھا درجہ ہے، اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں بہتی ہیں، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث «عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن معاذ بن جبل» کی سند سے مروی ہے، اور یہ میرے نزدیک ہمام کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے، جسے انہوں نے «عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن عبادة بن الصامت» کی سند سے روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، عطاء نے معاذ بن جبل کو نہیں پایا ہے ( یعنی ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے ) اور معاذ بن جبل کی وفات ( عبادہ بن صامت سے پہلے ) عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی ہے۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن عبدة الضبي البصري، قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن معاذ بن جبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من صام رمضان وصلى الصلوات وحج البيت لا ادري اذكر الزكاة ام لا الا كان حقا على الله ان يغفر له ان هاجر في سبيل الله او مكث بارضه التي ولد بها " . قال معاذ الا اخبر بهذا الناس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذر الناس يعملون فان في الجنة ماية درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والارض والفردوس اعلى الجنة واوسطها وفوق ذلك عرش الرحمن ومنها تفجر انهار الجنة فاذا سالتم الله فسلوه الفردوس " . قال ابو عيسى هكذا روي هذا الحديث عن هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار عن معاذ بن جبل وهذا عندي اصح من حديث همام عن زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار عن عبادة بن الصامت . وعطاء لم يدرك معاذ بن جبل ومعاذ قديم الموت مات في خلافة عمر
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، درجہ کے اعتبار سے فردوس اعلیٰ جنت ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں بہتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش ہے، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگو“۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا همام، حدثنا زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " في الجنة ماية درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والارض والفردوس اعلاها درجة ومنها تفجر انهار الجنة الاربعة ومن فوقها يكون العرش فاذا سالتم الله فسلوه الفردوس " . حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا همام، عن زيد بن اسلم، نحوه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، اگر سارے جہاں کے لوگ ایک ہی درجہ میں اکٹھے ہو جائیں تو یہ ان سب کے لیے کافی ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن دراج ابي السمح، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة ماية درجة لو ان العالمين اجتمعوا في احداهن لوسعتهم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، حدثنا فروة بن ابي المغراء، اخبرنا عبيدة بن حميد، عن عطاء بن السايب، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان المراة من نساء اهل الجنة ليرى بياض ساقها من وراء سبعين حلة حتى يرى مخها وذلك بان الله يقول: (كانهن الياقوت والمرجان ) فاما الياقوت فانه حجر لو ادخلت فيه سلكا ثم استصفيته لاريته من ورايه " . حدثنا هناد، حدثنا عبيدة بن حميد، عن عطاء بن السايب، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن عطاء بن السايب، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود، نحوه بمعناه ولم يرفعه . وهذا اصح من حديث عبيدة بن حميد وهكذا روى جرير وغير واحد عن عطاء بن السايب ولم يرفعوه . حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن عطاء بن السايب، نحو حديث ابي الاحوص ولم يرفعه اصحاب عطاء وهذا اصح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کے چہرے کی روشنی چودہویں کے چاند کی روشنی کی طرح ہو گی اور دوسرا گروہ آسمان کے روشن اور سب سے خوبصورت ستارے کی طرح ہو گا، ان میں سے ہر آدمی کے لیے دو دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے جسم پر ستر جوڑے کپڑے ہوں گے اور ان کے پنڈلی کا گودا ان کے کپڑوں کے باہر سے نظر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن فضيل بن مرزوق، عن عطية، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اول زمرة يدخلون الجنة يوم القيامة ضوء وجوههم على مثل ضوء القمر ليلة البدر والزمرة الثانية على مثل احسن كوكب دري في السماء لكل رجل منهم زوجتان على كل زوجة سبعون حلة يرى مخ ساقها من ورايها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا عبيد الله بن موسى، اخبرنا شيبان، عن فراس، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اول زمرة تدخل الجنة على صورة القمر ليلة البدر والثانية على لون احسن كوكب دري في السماء لكل رجل منهم زوجتان على كل زوجة سبعون حلة يبدو مخ ساقها من ورايها " . قال هذا حديث صحيح
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں مومن کو جماع کی اتنی اتنی طاقت دی جائے گی“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اسے سو آدمی کی طاقت دی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- قتادہ کی یہ حدیث جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں اسے ہم صرف عمران القطان کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں زید بن ارقم رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا ابو داود الطيالسي، عن عمران القطان، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يعطى المومن في الجنة قوة كذا وكذا من الجماع " . قيل يا رسول الله اويطيق ذلك قال " يعطى قوة ماية " . وفي الباب عن زيد بن ارقم . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب لا نعرفه من حديث قتادة عن انس الا من حديث عمران القطان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی شکل چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گی، نہ وہ اس میں تھوکیں گے نہ ناک صاف کریں گے اور نہ پاخانہ کریں گے، جنت میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک کا ہو گا۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے ( کم از کم ) دو دو بیویاں ہوں گی، خوبصورتی کے سبب ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے اندر سے نظر آئے گا۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہو گا، اور نہ ان کے درمیان کوئی عداوت و دشمنی ہو گی۔ ان کے دل ایک آدمی کے دل کے مانند ہوں گے، وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کریں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- «الألوة» عود کو کہتے ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اول زمرة تلج الجنة صورتهم على صورة القمر ليلة البدر لا يبصقون فيها ولا يمتخطون ولا يتغوطون انيتهم فيها الذهب وامشاطهم من الذهب والفضة ومجامرهم من الالوة ورشحهم المسك ولكل واحد منهم زوجتان يرى مخ سوقهما من وراء اللحم من الحسن لا اختلاف بينهم ولا تباغض قلوبهم قلب رجل واحد يسبحون الله بكرة وعشيا " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . والالوة هو العود
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ناخن کے برابر جنت کی کوئی چیز ظاہر ہو جائے تو وہ آسمان و زمین کے کناروں کو چمکا دے، اور اگر جنت کا کوئی آدمی جھانکے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو وہ سورج کی روشنی کو ایسے ہی مٹا دیں، جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں ۱؎۔ ۲- یحییٰ بن ایوب نے یہ حدیث یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے اور سند یوں بیان کی ہے: «عن عمر بن سعد بن أبي وقاص عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن داود بن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو ان ما يقل ظفر مما في الجنة بدا لتزخرفت له ما بين خوافق السموات والارض ولو ان رجلا من اهل الجنة اطلع فبدا اساوره لطمس ضوء الشمس كما تطمس الشمس ضوء النجوم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه بهذا الاسناد الا من حديث ابن لهيعة . وقد روى يحيى بن ايوب هذا الحديث عن يزيد بن ابي حبيب وقال عن عمر بن سعد بن ابي وقاص عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی بغیر بال کے، امرد اور سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے، نہ ان کی جوانی ختم ہو گی اور نہ ان کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، وابو هشام الرفاعي قالا حدثنا معاذ بن هشام، عن ابيه، عن عامر الاحول، عن شهر بن حوشب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اهل الجنة جرد مرد كحل لا يفنى شبابهم ولا تبلى ثيابهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» ( الواقعۃ: ۳۴ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے: اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، عن عمرو بن الحارث، عن دراج ابي السمح، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: (وفرش مرفوعة ) قال " ارتفاعها لكما بين السماء والارض مسيرة خمسماية سنة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث رشدين بن سعد . وقال بعض اهل العلم في تفسير هذا الحديث ان معناه الفرش في الدرجات وبين الدرجات كما بين السماء والارض
اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر آیا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کی شاخوں کے سائے میں سوار سو سال تک چلے گا، یا اس کے سائے میں سو سوار رہیں گے، ( یہ شک حدیث کے راوی یحییٰ کی طرف سے ہے۔ ) اس پر سونے کے بسترے ہیں اور اس کے پھل مٹکے جیسے ( بڑے ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وذكر له سدرة المنتهى قال " يسير الراكب في ظل الفنن منها ماية سنة او يستظل بظلها ماية راكب شك يحيى فيها فراش الذهب كان ثمرها القلال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کوثر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ایک نہر ہے اللہ نے ہمیں جنت کے اندر دی ہے، یہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے، اس میں ایسے پرندے ہیں جن کی گردنیں اونٹ کی گردنوں کی طرح ہیں“، عمر رضی الله عنہ نے کہا: وہ تو واقعی نعمت میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کھانے والے ان سے زیادہ نعمت میں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- محمد بن عبداللہ بن مسلم، یہ ابن شہاب زہری کے بھتیجے ہیں، ۳- عبداللہ بن مسلم نے ابن عمر اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الله بن مسلمة، عن محمد بن عبد الله بن مسلم، عن ابيه، عن انس بن مالك، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم ما الكوثر قال " ذاك نهر اعطانيه الله يعني في الجنة اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل فيها طير اعناقها كاعناق الجزر " . قال عمر ان هذه لناعمة . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكلتها انعم منها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ومحمد بن عبد الله بن مسلم هو ابن اخي ابن شهاب الزهري وعبد الله بن مسلم قد روى عن ابن عمر وانس بن مالك